مولانا طارق جمیل سے معافی منگوانا خوشی کا شادیانہ نہیں، شرم کا تازیانہ ہے

0 100

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر اینکرپرسن پارس جہانزیب نے کہا ہے کہ مولانا طارق جمیل سے معافی منگوانا خوشی کا شادیانہ نہیں، شرم کا تازیانہ ہے، مولانا سے معافی منگواتے کسی کولفافہ یاد آیا،نہ ہی پراپرٹی ٹائیکون کے خوشامدی پروگرام، ملکی مفاد کو نقصان پہنچاتی رپورٹنگ اور نہ ہی کسی کو سنسنی پھیلاتی بے بنیاد خبریں یاد آئیں۔انہوں نے اپنے ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اللہ جسے چاہے عزت دے، جس کو چاہے ذلت دے، کئی دنوں سے میڈیا کے حلقوں میں مولانا طارق جمیل کی کی جانے والی گفتگو اور پھر اس گفتگو پر اینکرز سے معافی مانگنے پر بات کی جا رہی ہے۔کوئی اینکر اس کو میڈیا کی طاقت سمجھ رہا ہے،کہ جس نے مولانا طارق جمیل کو معافی پر مجبور کردیا، کوئی یہ مولانا کی اعلیٰ ظرفی سمجھ رہا ہے کہ مولانا کو احساس ہوا اور انہوں نے معافی مانگ لی۔ سوال یہ ہے کہ مولانا نے ایسا کیا کردیا ہے؟ کیا ہم اچھے مسلمان اور اچھے انسان ہیں؟ کیا ہم بحثیت قوم اخلاقی زوال کا شکار نہیں ہیں؟کیا ہم نبی پاک ﷺ کی سیرت پر عمل کررہے ہیں؟ کیا ہم رمضان شریف میں ہم منافع کے لالچ میں مصنوعی ذخیرہ اندوزی نہیں کرتے،کیا ہم کورونا وباء کی صورتحال میں ماسک ، ادویات اور مہنگے نہیں کیے؟ کیا مکاری جھوٹ فریب ہماری زندگیوں کا حصہ نہیں ہے؟ پھر مولانا نے ایسا کیا کہہ دیا کہ ان سے معافی منگوائی گئی۔یہ مسئلہ سچ کا نہیں بلکہ یہ مسئلہ اپنے اپنے سچ کا ہے، وہ سچ جو دوسروں کیلئے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا طارق جمیل سے غلطی یہ ہوئی کہ غلط وقت پر غلط لوگوں کے سامنے صحیح بات کہہ دی۔ مولانا نے ان کو آئینہ دکھا دیا تو دوسروں صرف دوسروں کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ بلکہ یہ سب ایک دوسرے کے درجات بلند کرنے لگے، اس وقت ان کو نہ ہی لفافے یاد آئے ، پراپرٹی ٹائیکون کے خوشامدی پروگرام، ملکی مفاد کو نقصان پہنچاتی رپورٹنگ اور نہ ہی کسی کو سنسنی پھیلاتی بے بنیاد خبریں یاد آئیں۔بس سب نے کہا کہ مولانا نے معافی مانگنی چاہیے۔ مولانا کی چوٹ کے شکار تمام اینکرز آج مولانا سے معافی منگوا کرخوش ہیں ۔ یہ معافی ان کے لیے خوشی کا شادیانہ نہیں ہے بلکہ یہ معافی ان کے لئے شرم کا تازیانہ ہے۔

Facebook Comments