اے این پی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا

0 73

پشاور(سٹاف رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبائی صورتحال میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 27فیصد سے 66فیصد تک اضافہ شرمناک اور افسوسناک ہے۔ دراصل پٹرول کی فراہمی میں ناکام تبدیلی سرکار نے تیل مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ شیڈول سے ہٹ کر اضافے کی سمری کی منظوری نے ثابت کردیا کہ فیصلے حکومت نہیں کوئی اور کروارہا ہے۔ تاریخ میں شاید پہلی بار مہینہ ختم ہونے سے چار دن پہلے فوری سمری منظور کی گئی اور پٹرول بم گرایا گیا۔ اسفندیارولی خان نے کہا کہ کپتان اکثر مافا کا ذکر کرتا رہتا ہے لیکن خود دائیں بائیں نظر ڈالیں تو مافیا ہی مافیا نظر آئے گا۔ حکومت اس وقت پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 47روپے فی لیٹر تک ٹیکس وصول کررہی ہے جبکہ ملک کو مزید قرضوں میں ڈبودیا ہے، اب سوال یہ بنتا ہے کہ اتنی بڑی رقم کن کی جیبوں میں جارہی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس اضافے کیلئے آئی ایم ایف سے بھی مشاورت کی گئی۔ کیا پاکستانی عوام کے فیصلوں کا اختیار آئی ایم ایف کو دے دیا گیا ہے؟ عمران خان اور اسکی ٹیم صرف سکرین پر سامنے دکھائی دے رہے ہیں، دراصل حکومتی فیصلے یہی ادارے اور انکے بٹھائے گئے اہلکار کررہے ہیں۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے بھی درخواست کی کہ فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ازخود نوٹس لے کر ذمہ داران سے جواب طلب کریں کہ تیل کی فراہمی میں ناکامی کے بعد عوام کو لوٹنے کا سلسلہ کیوں شروع کیا گیا اور کس کے کہنے پر بغیر شیڈول کے ریکارڈ اضافہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا کیونکہ اس وقت تیل کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی اور اسی حکومت نے مافیا کو یہ موقع دیا کہ وہ تیل کو ذخیرہ کرے اور اسی ذخیرے کو باہر لانے کیلئے بغیرشیڈول کے قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا گیا۔

Facebook Comments