بلاول بھٹو کے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویومیں حیرت انگیز انکشافات

0 161

اسلام آباد(یواین پی ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم جماعتوں کے حامی وزرا کو پارٹی سے نکالا جائے،پاکستان میں انسانی اور جمہوری حقوق کا بحران ہے ،پیپلز پارٹی کیخلاف سازشوں میں ملکی آئین کی پاسداری نہیں کی جارہی،نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہوتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی ، بھارت کے پاس پاکستان پر الزامات کا جواز نہ ہوتا۔اسلام آباد میں برطانوی نشریاتی ادارے ’’ میڈیا‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر نیشنل ایکشن پلان

پر بروقت عمل درآمد کیا گیا ہوتا تو آج دنیا میں پاکستان کی پوزیشن کچھ اور ہوتی،بھارت کے پاس پاکستان پر انتہاپسندی کے الزامات لگانے کا جواز نہ ہوتا، جبکہ ہمارے پاس دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے انتہاپسندوں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کے ثبوت ہوتے۔کالعدم تنظیموں کے خلاف نئے کریک ڈاؤن سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی کہ اس بار یہ کریک ڈاؤن صحیح معنوں میں ہوگا اور نیشنل ایکشن پلان پر مسلسل عمل ہونا چاہیے جس پر نظر رکھنے کے لیے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کو فوری فعال کرنا چاہیے۔بلاول نے کہا کہ انھیں حکومت کی ان کوششوں پر تھوڑا شک ہے کیونکہ تحریک انصاف نے الیکشن انہی کالعدم جماعتوں کے تعاون سے لڑا ہے، تاہم اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اسے اپنی سنجیدگی ثابت کرنے کے لیے اپنی جماعت سے ایسے وزیروں کو باہر کرنا ہوگا جو ان کالعدم جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں، امید ہے کہ اس بار وزیراعظم عمران خان ایسے عناصر کا مقابلہ کرنے کے اپنے بیان پر قائم رہیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ نریندر مودی اب بھی پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور پلوامہ حملے کو وہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلیے استعمال کر رہے ہیں، شرم اور افسوس ناک بات ہے کہ مودی ہندو انتہا پسندی کی سیاست کھیل رہے ہیں، انھیں دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ کا ماحول پیدا کرنے اور دہشت گردی کو سیاست کے لیے استعمال کرنے میں انتخابات میں فائدہ نظر آ رہا ہوگا۔کرپشن مقدمات سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ نیب صرف سیاسی جماعتوں کو دباو میں رکھنے کی لیے بنایا گیا، بہتر ہوتا اگر ایک ہی بار احتساب ہوتا اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا، ہمیں ایک صحیح احتساب کے نظام کی ضرورت ہے۔ جہاں احتساب سب کے لے ہو۔ آج بھی احتساب جمہوریت پسند سیاست دانوں کے لیے نہیں ہوتا، قانون کی بالادستی قائم رہتی تو کوئی مسئلہ نہ ہوتا’۔انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو آزاد اور شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے، لوگوں کا آزاد اور شفاف ٹرائل نہیں ہورہا، یہ سب ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں انسانی اور جمہوری حقوق کا بحران ہے۔پیپلز پارٹی کیخلاف سازشوں میں ملکی آئین کی پاسداری نہیں کی جارہی۔ آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو آزاد اور شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری جماعت نے ایوب خان سے لے لر ضیاالحق تک یہی سنا کہ پہلے احتساب پھر انتخاب اور پھر نوے کی دہائی میں پولیٹیکل انجینئرنگ کی گئی۔

Facebook Comments