کورونا سے نمٹنے کیلئے ہسپتالوں کی استعداد کار بڑھا رہے ہیں‘ اجمل وزیر

0 102

پشاور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے صوبے میں ہسپتالوں کی استعداد کار بڑھا رہے ہیں,کورونا کے تشخیصی ٹیسٹوں کی تعداد اس ماہ کے آخر تک دس ہزار تک ہوجائے گی. سول سیکرٹریٹ پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں 29جون تک 1لاکھ 45ہزار 958 کورونا کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں.,عوام کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہسپتالوں میں سہولیات بڑھائی جارہی ہیں, ایل آر ایچ جو نہ صرف پشاور بلکہ صوبے کا بڑا ہسپتال ہے,اسکے کورونا کمپلیکس میں بستروں کی تعداد 205سے بڑھا کر جلد ہی 500کردی جائے گی.کورونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے بارے میں مشیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کے متعین کیے گئے ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے صوبے بھر میں ضلعی انتظامیہ متحرک ہے. ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں, وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایات ہیں کہ کورونا سے تحفظ کے لیے ایس او پیز کے بارے عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے. انھوں نے کہا کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا میں 16ہزار834 کارروائیاں کی گئیں,ان کاروائیوں میں دکانوں, بازاروں, بس اڈوں, مسافر گاڑیوں, انڈسٹریل یونٹس, پٹرول پمپس اور دیگر عوامی مقامات کو چیک کیا جاتا ہے.ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 3ہزار 637 یونٹس/ کاروباروں کو وارننگز جاری کی گئیں.مشیر اطلاعات کے مطابق1ہزار 236 افراد پر 8لاکھ 50ہزار 421روپے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 154 یونٹس اور کاروباروں کو ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کے باعث سیل کیا گیا ہے.اجمل وزیر نے ماہِ جون میں صوبے بھر میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشہ ماہ کے 28 دنوں میں خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں ایس او پیز بارے میں حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 5لاکھ 48ہزار 759. کارروائیاں کی گئیں,گزشتہ ماہ 1لاکھ 34 ہزار 968 افراد کو وارننگز جاری کی گئیں,9ہزار 811 یونٹس, کاروبار اور مقامات سیل جبکہ65ہزار 194 افراد پر کْل 2 کروڑ 75 لاکھ 64 ہزار 336 روپے جرمانہ عائد کیا گیا.اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کے واضح احکامات ہیں کہ ایس او پیز کے معاملے میں کسی کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے,کیونکہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل سے ہی کورونا کو روکا جاسکتا ہے.انھوں نے کہا کہ حکومت کی یہ سختی عوام کی زندگی کے تحفظ کے لیے ہے,عوام میں احساس ذمہ داری ہونا چاہیے کہ اس کڑے وقت میں انھیں بھی با شعور شہری کا کردار ادا کرنا ہے.سمارٹ لاک ڈاؤن کے بارے میں بات کرتے ہوئے مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق کورونا کے زیادہ کیسز والے علاقوں میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری ہے,روزانہ کی بنیاد پر علاقوں کو مانیٹر کیا جاتا ہے, گزشتہ روز مزید*14* علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون کیا گیا,ان علاقوں میں کورونا سے متاثر *73* مریض موجود ہیں,متعلقہ علاقوں میں کل *26 ہزار 257* افراد کی آبادی کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں,سمارٹ لاک ڈاون زدہ علاقوں میں *46* گھر آئسولیٹ کئے گئے ہیں.انکا کہنا تھا کہ صوبہ بھر میں اب تک *290* علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون کا نفاذ کیا گیا ہے,جن میں *2ہزار 968* کورونا کے مریض موجود ہیں.صوبے کے مختلف اضلاع میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے جاری آپریشن کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے کہا کہ ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے خیبر پختونخوا حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے,محکمہ ریلیف, زراعت, پی ڈی ایم اے, پاک آرمی اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ اسکے خاتمے کے لیے مصروف عمل ہیں.انھوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایات کی روشنی میں روزانہ کی بنیاد پر آپریشن کیا جارہا ہے,خیبر پختونخوا کے 15اضلاع کے 56لاکھ 64 ہزار 913ایکڑ کے علاقے میں سروے کیا گیا ہے, اس طرح 62ہزار 462 ایکڑ کے رقبے پر سپرے کیا جاچکا ہے. انکا کہنا تھا کہ758 افراد اور 78 گاڑیوں پر مشتمل 80 ٹیمیں ٹڈی دل کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں,وزیراعلیٰ محمود خان روزانہ متعلقہ محکموں سے ٹڈی دل کے خلاف تمام کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ لے رہے ہیں۔

Facebook Comments