22 کروڑ انسانوں کا جنگل لاھور کے یتیم خانے میں شرفاء اور معززین کے ہاتھوں بے بس بچیوں کے ریپ کی المناک داستان کا انکشاف کرنے والی اقراء کائینات اس معاشرے کی بے حسی کی بھینٹ چڑھتے ہوئے بلااخر قتل ہو گئی

0 122

اس خبر نے کئی سوالات کو جنم دیا جس کا جواب کبھی بھی ملنے کی توقع نہیں کی جاسکتی ، بات صرف اتنی نہیں کہ اقراء قتل ہو گئی بلکہ یہ سوچنے کی بات ہے کہ انکشاف کے بعد سے قتل کے وقت تک وہ کن حالات کا سامنا کرتی رہی ھو گی اس کو کتنا ٹارچر کیا گیا ھوگا اس پر کتنا ظلم کیا گیا ہوگا
میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اقراء یہ سوچ کر یتیم بچیوں کی اواز بنی ہوگی کہ ریاست مدینہ کے حکمران اور رعایا اس کی طاقت بن جائیں گے اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچائینگے مگر جلد ہی اقراء کو احساس ہوا ھوگا کہ ریاست مدہنہ کا نعرہ ایک ڈھونگ سے زیادہ کچھ نہیں اور اس کے حکمران زانی ہونے کے ساتھ ساتھ قوم لوط کے بھی رشتہ دار ہیں اور یہ لوگ قاتل بھی ہیں
ملک کے حالات کو دیکھ کر میں اکثر یہ سوچتا ھوں کہ یہ پاکستان22 کروڑ انسانوں کا جنگل ہے جہاں ہر طاقتور انسان کمزور انسان کو چیر پھاڑ کر اس کی زندگی کو نگل لیتا ہے بچوں کو والدین کے سامنے اور والدین کو بچوں کے سامنے قتل کر دیا جاتا ہے ان کی املاک اور جمع پونجی کو لوٹ لیا جاتا ہے اب تو نوبت یہاں تک ان پہنچی ہے کہ غربت اور فاقوں کا سامنا نہ کرنے والے والدین اپنے معصوم بچوں کو اپنے ھاتھ سے قتل کر رھے ھیں جوان بیٹے والدین ، بھائی کے ہاتھوں بھائی اور بہنیں قتل ہورہی ھیں جبکہ حیوانوں کے جنگل میں یہ تمام رشتے ایک دوسرے کے محافظ ہوتے ھیں انسانوں کے جنگل میں گھر سے نکلنے والی معصوم بچیاں اور بچے ریپ ہونے کے بعد بے دردی کے ساتھ قتل ہوجاتے ھیں تھانوں کے اندر شہری مارے جاتے ھیں تحفظںکے لئیے عدالت جانے والی خاتون عدالت کےاندر ہی جج کے ہاتھوں ریپ ہو جاتی ہے چار عشروں سے بقاء اور فنا کی جنگ جاری ہے اور اب اقراء کے قتل نے یہ ثابت کر دیا کہ انسانوں کے اس جنگل میں حق کی اواز بلند کرنے اور ظالم کے ظلم کو بے نقاب کرنے والوں کو ملازمت سے برطرف کرنے کے بعد موت کے گھاٹ اتار کر زمانے کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ھے تاکہ کل کلاں کو کوئی اور اس طرح کی جرات نہ کرسکے
اقراء کا قتل ھمارے معاشرے، اس کی عدالتوں ،عدالتوں میں بیٹھے معزز ججوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریاست مدینہ کی دعویدار حکمرانوں کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہے اور یہ طمانچہ ھمیں یہ پیغام دیتا ھے کہ اگر انسانوں کے جنگل کو انسانیت کی دنیا میں تبدیل نہ کیا گیا تو پھر خدا کے ہولناک عذاب کا استقبال کرنے کے لئے تیار رھنا چاھئے جو کہ یقینی طور پر کسی بھی شکل میں کسی بھی وقت نازل ھو سکتا ھے جو کہ اللہ کے وضع کردہ نظام کا تسلسل ھو گا اور یہ اس کا اٹل فیصلہ ھے جس کا زکر قران میں جابجا موجود ھے

Facebook Comments