بھارتی عام انتخابات میں وہ 3خواتین جومودی کیلئے بڑا چیلنج بن گئیں

0 43

نئی دہلی:بھارت میں آئندہ ہفتے سے شروع ہونے والے عام انتخابات میں موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کو تین خواتین امیدواروں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت میں گیارہ اپریل سے انیس مئی تک سات مراحل میں پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہو گا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیے دوسری مرتبہ انتخابات جیتنے کے راستے میں چند معروف خواتین امیدوار رکاوٹ بن سکتی ہیں۔عوامی سطح پر مقبول اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والی تین خواتین امیدواروں کی شخصیات پر نظر ڈالتے ہیں۔2011 سے مغربی بنگال کی باگ ڈور ممتا بینرجی کے ہاتھوں میں ہے اور وہ عوامی سطح پر انتہائی مقبول بھی ہیں۔ سابق وفاقی وزیر برائے ریلوے دی دی یعنی بڑی بہن کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کا تعلق آل انڈیا ترینیمول کانگریس پارٹی سے ہے۔بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال کی آبادی جرمنی سے بھی زیادہ ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ممتا بینرجی عوام میں خاصی مقبول ہیں اور وہ اگر انتخابات میں کامیاب ہوتی ہیں تو حکومت سازی میں ان کا اہم کردار ہوگا۔ اس ریاست میں وزیراعظم مودی کی قوم پرست سیاسی جماعت بھارتی جنتا پارٹی کو بہتر کاکردگی دکھانی ہوگی۔سابق صوبائی وزیر اعلی اور بھوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی دلت کمیونٹی کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ 63 سالہ مایاوتی دلت کوئین یعنی دلتوں کی رانی کے نام سے مشہور ہیں۔ مایاوتی کی جماعت سماج وادی پارٹی سوشلسٹ نظریات والی سیاسی جماعت ہے۔ اتر پردیش بھارت میں آبادی کے اعتبار سے 200 ملین شہریوں کے ساتھ سب سے بڑی ریاست ہے۔ اتر پردیش میں مسلمانوں کی آبادی تقریبا اٹھارہ فیصد ہے۔بعض سیاسی ماہرین کے خیال میں مایاوتی مخلوط حکومت بنانے میں قلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔اس مرتبہ مایاوتی کا سیاسی ایجنڈا زیادہ تر بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست پر تنقید کے گرد گھوم رہا ہے۔پرینکا گاندھی واڈرا نے رواں برس جنوری میں انڈین کانگریس کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے برسوں انہیں عملی سیاست میں حصہ لینے کی مسلسل پیشکش کی جاتی رہی۔کانگریس کا جنرل سیکرٹری اور مشرقی یوپی کا انچارج بنائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ پرینکا کے لکھنو میں ہوئے روڈ شو میں پورے صوبے سے لاکھوں افراد شامل ہوئے، جن میں مسلم افراد کی تعداد اوروں کے مقابلے میں زیادہ رہی تھی۔

Facebook Comments

You might also like More from author