دل کی تنگ شریانوں سے خبردار کرنے والا اسمارٹ اسٹینٹ

0 225

go وینکووا:  follow دل کی بند رگوں کو کھولنے والے اسٹینٹ ایک مرتبہ بند رگ اور شریان کھولنے کے بعد خاموشی سے ایک جگہ موجود رہتے ہیں لیکن اب جدید اسمارٹ اسٹینٹ خون کے بہاؤ میں معمولی کمی کو نوٹ کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو خبردار کرسکتے ہیں کہ کسی مقام سے دل کی شریان دوبارہ تنگ ہورہی ہے۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا (یو بی سی) کے ماہرین نے ایک اسمارٹ اسٹینٹ تیار کیا ہے جو ازخود شریان میں خون کے بہاؤ کو نوٹ کرتے ہوئے وائرلیس سگنل کے ذریعے ڈاکٹر اور مریضوں کو خون کی نالیاں سکڑنے سے خبردار کرتا ہے۔

اکثر صورتحال میں اسٹینٹ لگانے کے بعد بھی دل کی رگوں میں رکاوٹی مادہ (پلاک) جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے جس سے مزید پیچیدگیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ اس عمل میں ٹشوز اسٹینٹ کے اردگرد جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں جسے طب کی زبان میں https://deluxestorehq.com/las-palmas-de-gran-kanariya-onlain-prodazha-gashish-kokain-mefedron-amfetamin-geroin-shishki-boshki.html ریسٹینوسس کہا جاتا ہے اور اس کا اندازہ سی ٹی اسکین کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے۔

یو بی سی نے اپنی نئی ایجاد میں اسٹینٹ کے اندر ایک مؤثر سینسر لگایا ہے جو خون کے بہاؤ کو مسلسل نوٹ کرتا رہتا ہے اور خون کی روانی کم ہونے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر اور مریض کو خبردار کرتا ہے۔ اس طرح صحت مزید بگڑنے سے قبل ہی ڈاکٹر مریض کا علاج کرسکتے ہیں۔

یو بی سی کے پروفیسر کینیکی تاکاہاتا نے بتایا کہ ہم نے اسٹینٹ کا ایک سرا موڑ کر اس کا چھوٹا انٹینا بنایا اور اس میں ایک خاص مائیکرو سینسر نصب کیا جو خون کے بہاؤ کو نوٹ کرتا رہتا ہے۔ اس کا ڈیٹا وائرلیس کے ذریعے کسی بیرونی سسٹم کو بھیج کر شریانی کیفیت پر مستقل نظررکھی جاسکتی ہے۔

اسٹینٹ میڈیکل گریڈ بے رنگ فولاد (اسٹین لیس اسٹیل) سے بنا ہے جسے مروجہ انجیوپلاسٹی سے دل میں اتارا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد وہ رگوں کی تنگی کو نوٹ کرتا رہتا ہے۔ جب اسے تجربہ گاہ میں سؤر پر آزمایا گیا تو اس نے توقعات کے عین مطابق نتائج دیئے۔ اگلے مرحلے میں اسے مزید بہتر بنا کر انسانوں پر آزمایا جائے گا۔ اسمارٹ اسٹینٹ کا مکمل احوال حال ہی میں click here جرنل آف ایڈوانسڈ سائنسز میں شائع کیا گیا ہے۔

Facebook Comments

You might also like More from author