”تارے زمین پر“

0 305

عاٸشہ عمر حیات نوشہرہ

یہ معصوم بچے بھی ان ستاروں کی مانند ہوتے ہیں جو رات کو چمکنے کے لۓ وجود کاٸنات کا اٹوٹ حصہ ہیں بالکل اسی طرح یہ ستارے بچے بھی جنم لیتے ہیں بہت امیدوں اور منتوں کے ساتھ۔ ان معصوم بچوں کے والدین کی آنکھوں میں ہزاروں خواہشیں ہوتی ہیں وہ خواب دیکھنے لگتے ہیں اپنے بچوں کیلۓ ایک بہتراور پُر امن مُستقبل کے جو اس معاشرے کے اور اس دنیا کے ہر صاحب اولاد دیکھتے ہیں۔ لیکن افسوس ان ستاروں کی چمک اُس وقت ماند پڑ جاتی ہے اور والدین کی آنکھوں کےدیۓ بجھنے لگتے ہیں اور خواہشیں دم توڑنے لگتی ہیں۔ جب یہ شعور کی منزلیں طے کرتے ہیں جب یہ گھر سے کھیلنے کی بجاۓ کمانے کیلۓ نکلتے ہیں جب کسی پارک میں کھیلنے کی بجاۓ یہ کسی گاڑی کا شیشہ صاف کرتے ہیں اور جب کسی سکول میں پڑھنے کی بجاۓ یہ لوگوں پر اپنی کھانے پینے کی چیزیں بیچ رہے ہوتے ہیں تاکہ گھر کچھ کما کے گھر لے جا سکیں اور دو وقت کا چولہا جلے۔ یہاں ان کی خواہشیں حسرتوں میں ڈھل جاتی ہیں جہاں سے ان کی زندگی اور سوچ نیا رُخ موڑ لیتی ہے۔ جس میں ہر انسان کا ایک بھیانک روپ ہوتا ہے۔ اُس معاشرے کا جہاں ان کو دھتکارا جاتا ہے۔ اُن حکمرانوں کا جو اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ایک پُرآساٸش زندگی کے مزے لوٹ رہےہوتے ہیں۔ یہ معاشرے کا”میں” کا پہلو دیکھ لیتے ہیں جو صرف اپنے لۓ جیتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں ہمارا چہرہ اتنا بھیانک ہوتا ہے جس کا ہم تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔ سارا دن تھک ہار کے جب یہ بچے کسی فٹ پاتھ پہ بیٹھتےہیں تو یقین جانیۓ یہ راستوں پر بھاگتی دوڑتی زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں۔ لوگوں کے قہقہوں اور ہنستے مسکراتے چہروں میں ان کو اپنی خواہشوں کے قاتل نظر آتے ہیں اور اس رات کے اندھیرے میں یہ خود سے عہد کرتے ہیں جلدی سےبڑے ہونے کے بظاہر مضبوط نظر آنے کے اور انتقام لینے کے۔ تب ان میں سے کچھ بچے رشتوں سے آزاد اور بغاوت کرکے گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔ اپنی بچپن کی ادھُوری خواہشوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔چھیننا چاہتے ہیں معاشرے سے وہ سب کچھ جن سے یہ محروم ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثرمزدوری کرتے ہیں۔ورکشاپ یا ہوٹل میں آپ کو بھی کبھی کوٸ چھوٹا نظر آیا ہوگا۔ کچھ منشیات سے وابستہ ہوجاتے ہیں کچھ برے لوگوں کے ہاتھ لگ کر انسانی سمگلنگ یا جنسی استحصال کا لقمہ بن جاتے ہیں۔بعض ان راستوں پر ایسے لوگوں کے ہاتھوں لگ جاتے ہیں جو ان کو اس معاشرے اور اس ملک کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور یہاں سے ان بچوں کواپنی منزل نظر آتی ہے۔ دشمن عناصر گروہ ان کو توجہ اور لالچ سے اپنی طرف ماٸل کرتے ہیں آہستہ آہستہ یہ ان کی چالوں میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ان کے ارادے خطرناک عزاٸم کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں جس کا نتیجہ خودکش دھماکوں اور اسٹریٹ کراٸمز کی صورت میں سامنے آتا ہے جس کا نتیجہ معصوم عوام کو بھاری قیمت ادا کرکے چکانا پڑتا ہے۔ جسکے بعد ہمارے حکمران اور سیاسی لیڈربڑے کھلے دل سے میڈیا پر بیان دے رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے قربانیاں دیں۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کیا واقعی یہ قربانیاں ہیں؟؟ بحیثیت مسلمان کیا ہمیں قربانیوں کا مطلب بھی نہیں پتا؟؟ قربانی تو خوشی اور دل کی رضامندی سے دی جاتی ہے قربانی تو وہ ہوتی ہے جس میں بندہ بھی راضی اور اللہ بھی ۔ کیا واقعی یہ قربانیاں ہم خوشی سے دے رہے ہیں؟؟ اگر دے رہے ہیں توبحیثیت قوم اور پاکستانی یہ قربانی ہمارےحکمرانوں کے بچوں کو بھی دینی چاہیۓ۔ ان قربانیوں کا بکرا ہمیشہ غریب عوام کو ہی کیوں بننا پڑتاہے یہاں والدین بین کرتے ہیں خُون کے آنسو روتے ہیں اپنے پیاروں کے جنازوں کو کندھادے رہے ہوتے ہیں۔ کیا ہم ذہنی طور پر اس قدر پست ہو چکے ہیں کہ ہمیں قربانی آزماٸش اور سزا میں فرق کا بھی نہیں پتا؟؟ کیا واقعی ہماری قوم اتنے بلند مرتبے پر پہنچ گٸ جن کو آزمایا جاتا ہے؟؟ تصویر کا دوسرا رُخ دیکھے سزا؟؟ ہم آپ کونہیں لگتا کہ یہ سب ہماری غلطیوں کی سزا ھے ہم سزا بھگت رہے ہیں یہاں معصوم بچوں کے قتل ہورہے ہیں کہیں وہ خودکش دھماکوں میں تو کہیں غربت کی وجہ سے وہ بچہ زندہ رہتے ہوۓ بھی روزروز مرتا ھے۔ یہاں ظلم ہوتا ہےاور ہماری عوام خاموشی سے سہہ لیتی ھے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ھے ۔ دنیا میں اس سے بڑا منافق نہیں قتیل جو ظلم تو سہتا ھے بغاوت نہیں کرتا۔ یو این کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے انہی بچوں کیلۓ ایک بیان میں کہاتھا کہ ”ریاست کی ذمہ داری بچوں کو ان کے بنیادی حقوق دینا اور ان کی زندگی کو آسان بنانا ھے کیونکہ یہ بچے ملک و قوم کا خوبصورت مستقبل ہیں۔“ ان کی عمریں باغوں میں کھیلنے اور سکول میں بیٹھ کے پڑھنے کی ہوتی ہیں۔اس سے ملک کی خوبصورتی ہوتی ھے وہ کسی بھی ملک کے ابھرتے ہوۓ ستارے ہوتے ہیں۔ ان ستاروں کی چمک ماند نہیں پڑنی چاہۓ۔ورنہ تاریکی ملک کا مقدر بن جاتی ہےاور ہم میں سے کوٸ بھی نہیں چاہے گا کہ ہمارا وطن تاریک ہو جاۓ ان کو محبت کرنا سکھاٸیں ان سے محبت کر کے۔ان کو مدد کرنا سکھاٸیں ان کی مدد کر کے۔یقین جانیۓ اس مٹی میں غیرت بھی بہت ہے قرض چکانے میں دیر نہیں کرتے۔ یہی بچے کل کسی اور مظلوم بچے کا ہاتھ تھام کرکھڑے ہونگے اور ملک وقوم کیلۓمفید شہری بنیں گے اور بوقت ضرورت کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم ان بچوں کی فلاح و بہبود کیلۓ کام کریں۔ ان کی مشکلات کو حل کریں ایک گھرانہ بھی اگر ایک بچے کی ضروریات اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اٹھا لے تو کوٸ بعید نہیں۔ ہمارے ملک کےحکمرانوں کو بھی اس طرف توجہ دینی ہوگی تاکہ انکو بھی یہ معصوم بچے اور انکی آنکھوں میں پاکستان کا روشن مستقبل نظر آۓ ۔ آٸین پاکستان کے آرٹیکل 25Aمیں واضح طورپر تحریر ھے کہ ریاست کی ذمہ داری ھے کہ 5 سے 16 سال تک کی عمر کے بچوں کو بنیادی ضروریات زندگی بہمراہ تعلیم فراہم کی جاٸیں۔ اس کو عملی طور پر یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Facebook Comments

You might also like More from author