زیادہ تر نوجوان اپنے تعلیمی کیرئر سے مطمئن نہیں:انیلہ عتیق

0 564

فورم : اعجاز آفریدی

خیبر پختونخواہ میں60 فیصد سے زیادہ نوجوان اپنے تعلیمی کیرئر سے مطمئن نہیں.روزنامہ پیام خیبر فورم میں اظہار خیال کرتے ہوے وائی نوٹس آرگنائزیشن کےچئیرپرسن انیلہ عتیق کا کہنا ہے کہ زیادہ ترنوجوان والدین کے مرضی سے تعلیمی کیرئر کا انتخاب تو کرلیتے ہیں لیکن اپنے عدم دلچسپی کی وجہ سے ڈگری ادھوری چھوڑ دیتے ہے یا برائے نام پوری کرلیتے ہے.


وائی نوٹس آرگنائزیشن پشاور کے نوجوانوں کو تعلیمی سفر شروع کرنے سے پہلے رہنمائی فراہم کرتی ہے اور مختلف کرئیر کونسلنگ ورکشاپ کا اہتمام کرتے ہیں.  چئیر پرسن وائی نوٹس آرگنائزیشن انیلہ عتیق کا کہنا تھاکہ خیبر پختونخواہ میں بے روزگاری کی بڑی وجہ نوجوانوں کا اپنے تعلیمی سفر میں عدم دلچسپی اور والدین کے مرضی سے مضامین کا انتخاب ہے,

اکثر نوجوانوں کو اپنے فیلڈ کے چناو میں صحیح رہنمائی نہیں ملتی جس کی وجہ سے یا تو وہ تعلیم کو درمیان میں ادھورا چھوڑ دیتے ہیں یا برائے نام ڈگری حاصل کرلیتے ہے.فورم میں زولکیفل خان وائس چئیرمین کا کہنا تھا کہ وائی نوٹس آرگنائزیشن کا بنیادی مقصد پشاور کے مختلف کالجوں اور سکولوں میں کر ئیر کونسلنگ ورکشاپ, خود اعتمادی کیلئے سیمینار اور ان کے صلاحیتوں میں نکھار کیلئے تقریبات کرنا ہے

تاکہ مستقبل میں نوجوانوں کو اپنے تعلیمی سفر اور فیلڈ کے انتخاب میں کوئی دشواری نہ ہو. اس کے علاوہ پشاور میں معذور افراد, غریب بچوں کیلئے سٹیشنری و کپڑے اور گورنمنٹ پرائمری سکولوں کے بچوں کیلئے تقریبات کا اہتمام بھی کرتے ہے

.دوسری جانب فورم میں اظہار خیال کرتے ہوے وائی نوٹس آرگنائزیشن کے فنانس منیجراکمل خان یوسفزئی،جنرل منیجرعدنان خان اور ممبران،شفیق خان،لیلی خان کا کہنا تھاکہخیبر پختونخواہ حکومت نے برائے نام یوتھ سنٹرتو بنا لئے لیکن ابھی تک یونیورسٹی اور کالجوں کے نوجوان طلبہ و طالبات ان سے بے خبر ہیں.

حکومت کو کرئیر کونسلنگ پر حصوصی توجہ دینی چاہئے اور نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کیلئے کالجوں اور سکولوں کی سطح پر سکلز ڈویلپمنٹ ورکشاپ اور کرئیر کونسلنگ کلاسز کو لازمی قرار دینا چاہئے تاکہ مستقبل کا نوجوان برائے نام ڈگری کے حصول کے بجائے تعلیم یافتہ ہوکر بھی ملکی معیشت پر بوجھ نہ ہو.

Facebook Comments

You might also like More from author