حملے کی صورت میں مدد بلانے والا زیور

0 255

Москва Новокосино Купить закладку кокаин амфетамин гашиш ск мдма Орехово-Борисово Южное Купить закладку кокаин амфетамин гашиш ск мдма نیویارک:  Катания Купить закладку кокаин амфетамин гашиш ск мдма بہت جلد آپ ایک ایسا اسمارٹ کنگن (بریسلٹ) پہن سکیں گے جو کسی حادثے طبیعت کی خرابی یا حملے کی صورت میں مدد کے لیے پکار سکے گا۔  

go اگرچہ بازار میں ایسے زیورات اور پہناوے دستیاب ہیں جو کسی حملے کی صورت میں اطراف کو خبردار کرتے ہیں لیکن اس کے لیے کسی نہ کسی طرح بریسلٹ میں لگے بٹن کو دبانا پڑتا ہے تاہم اب ایک اسمارٹ کنگن تیار کرلیا گیا ہے جس میں بٹن دبانے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ اپنے جدید سنسر کی بدولت یہ ازخود خطرے کی نشاندہی کرتا ہے اور مدد کے لیے پکارتا ہے۔

https://marihuanakupit.com/desnogorsk.html اگرچہ ابھی یہ پروٹوٹائپ کے مرحلے میں ہے لیکن اس میں جائرو اسکوپ، ایسلرو میٹر، ٹمپریچر اور پریشر سنسر، جی پی ایس اور مائیکروفون تک موجود ہے۔ اسے یونیورسٹی آف الباما کی کمپیوٹنگ لیب کے ایک طالب علم جایون پٹیل اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا ہے۔

https://boskagashkupit.com/kumertau.html جایون پٹیل کہتے ہیں کہ ’بریسلٹ میں لگے سنسر اپنے پہننے والے کا اہم جسمانی ڈیٹا مسلسل نوٹ کرتے رہتے ہیں، جائرو اسکوپ کے ذریعے وہ پہننے والے کی سمت اور پوزیشن پر نظر رکھتے ہیں خواہ وہ بیٹھا ہوا ہو یا لیٹا ہو اس طرح اگر کوئی شخص اچانک اپنی پوزیشن بدلتا ہے تو سنسر اسے بھانپ لیتے ہیں‘۔

https://kokainkupithq.com/kupit-zakladku-kokaina-mozhga.html کسی ہنگامی صورتحال میں یہ زیور زوردار سیٹی نما آواز اور سرخ روشنی خارج کرتا ہے تاکہ قریب سے گزرنے والے بھی اس سے آگاہ ہوسکیں۔ علاوہ ازیں یہ بلیوٹوتھ کے ذریعے فون سے جڑا ہوتا ہے اور پولیس یا پہلے سے منتخب شدہ افراد کو میسج بھی بھیج سکتا ہے۔ اس میسج میں مقام کی جی پی ایس کے ذریعے نشاندہی بھی شامل ہوتی ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اسمارٹ کنگن کی قیمت صرف چار ہزار روپے ہے اور تجارتی پیمانے پر بڑی تعداد میں تیاری پر اس کا خرچ مزید کم ہوجائے گا، اب پٹیل اور اس کے ساتھی کسی کمپنی کی تلاش میں ہیں جو اسے بڑے پیمانے پر بناسکیں۔ اس کے علاوہ وہ بوڑھے افراد کے گرنے اور حادثے کی صورت میں خبردار کرنے والے جوتے اور کانوں میں پہننے والے بُندوں پر بھی کام کررہے ہیں۔

Facebook Comments

You might also like More from author