ایک حدیث کی وضاحت

0 424

سوال : حدیث میں آتا ہے کہ: ’’تین قسم کے آدمی ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہیں، مگر ان کی فریاد سنی نہیں جاتی۔ ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور وہ اس کو طلاق نہ دے۔ دوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے اس کا مال اس کے حوالے کر دے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی کو اپنا مال قرض دے اور اس پر گواہ نہ بنائے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بدخلق بیوی پر صبر کرنے کی تلقین کی ہے مگر یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے؟
جواب: اس حوالے سے مختصر گزارش یہ ہے کہ یہ حدیث پہلے المستدرک  میں آئی ہے:  [جس کے الفاظ یہ ہیں:
ثَلَاثَةٌ يَّدْعُوْنَ اللهَ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ، رَجُلٌ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَاَةٌ سَيِّئَةٌ فَلَمْ يُطَلِّقْهَا وَ رَجُلٌ كَانَ لَهٗ مَالٌ فَلَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ وَ رَجُلٌ آتٰى سَفِيْهًا مَالَهٗ وَ قَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ : وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمْ (المستدرک،  حدیث ۳۵۵۴)
تین شخص ہیں جو اللہ سے دعائیں مانگتے ہیں، مگر ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ ایک وہ شخص جس کے نکاح میں بُری عورت ہو اور وہ اس کو طلاق نہیں دیتا۔ دوسرا وہ شخص [جس کے ذمے] مال ہو اور وہ [کسی کو] اس پر گواہ نہیں بناتا۔ تیسرا وہ شخص جو بے وقوف کو اس کا مال دے دیتا ہے، حالاںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بے وقوفوں کو ان کے مال نہ دو۔]
امام حاکمؒ نےاس متن کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:
ھٰذَا اِسْنَادٌ صَحِیْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ وَلَمْ یُخْرِجَاہُ لِتَوْقِیْفِ اَصْحَابِ شُعْبَۃَ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَلٰی اَبِیْ مُوْسٰی (المستدرک،۴/ ۱۴۴)
اس حدیث کی سند شیخین (یعنی بخاری و مسلم) کی شرط کے مطابق صحیح ہے، مگر انھوں نے اس کی تخریج نہیں کی ہے،کیوں کہ شعبہ (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کے شاگردوں نے اس حدیث کو ابوموسیٰ اشعریؓ پر موقوف(۱)  قرار دیا ہے۔
(۱-موقوف: وہ حدیث جس کا سلسلۂ سند صحابی پر رُک جائے اور رسولؐ اللہ تک نہ پہنچ سکے۔)
پھر یہی حدیث ابن جریر طبریؒ اور ابن کثیرؒ نے بھی نقل کی ہے۔ حافظ ابن کثیرؒ نے حاکم کا تبصرہ بھی نقل کیا ہے ( تفسیر القرآن العظیم، ۱/۵۹۳)۔ اسی طرح پھر جلال الدین سیوطیؒ نے الجامع الصغیر میں بھی ثبت فرمائی ہے اور الجامع الصغیر کے شارح [عبد الرؤف المناویؒ] نے اس کو تقریباً وہی درجہ دیا ہے، جو مصنف نے دیا تھا (دیکھیے: فیض القدیر، ۲/ ۲۵۶)۔  اس کے بعد شیخ احمد بن الصدیق غماریؒ اور علامہ ناصر الدین البانیؒ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے (دیکھیے: الغماری کی کتاب المداوی لعلل المناوی، ۳/۲۳۶، اور البانی کی کتاب السلسلۃ الصحیحۃ، ۴/۴۲۰)۔ ان دونوں نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو مرفوع(۲) قرار دینے میں معاذ بن معاذ العنبری اکیلے نہیں ہیں، بلکہ عمرو بن حَکاّم اور دائود بن ابراہیم الواسطی بھی اس کے متابع(۳) ہیں۔ اسی طرح بعض محدثین کے نزدیک عثمان بن عمر بھی اس کے متابع ہیں۔
(۲-مرفوع: وہ حدیث جس کا سلسلۂ سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ چکا ہو۔ )
(۳- متابع: مؤید، تقویت دینے والا۔ )
امام البانیؒ نے اس حدیث کی ایک اور سند کا بھی ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فَالسَّنَدُ ظَاھِرُہُ الصِّحَّۃُ (السلسلۃ الصحیحۃ ، ۴/۴۲۰)۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث مرفوع نہیں ہے، یعنی یہ نبی علیہ السلام کا فرمان نہیں ہے بلکہ ابوموسیٰ اشعریؓ کا قول ہے۔ اس کی کئی وجوہ ہیں:
پہلی وجہ یہ ہے کہ جس دائود نے معاذ بن معاذ العنبری کی تائیدکی ہے وہ دائود وہ نہیں ہے جس کی ابو دائود طیالسیؒ نے اپنی مسند [۱/۳۴۹] میں توثیق کی ہے، بلکہ دائود بن ابراہیم ہے جوقزوین کا قاضی تھا اور یہ متروک(۵) ہے۔ دائود، جس کی طیالسیؒ نے توثیق کی ہے وہ حضرت نعمان بن بشیرؓ کے آزاد کردہ غلام سے روایات کرتے ہیں اور ان کی تائید ناقص ہے۔
(۵-متروک: وہ راوی جس کی روایات کو محدثین ’صحیح‘ احادیث میں شامل نہیں کرتے، بلکہ ترک کردیتے ہیں۔)
پھر ان دونوں راویوں کے متن(۶) میں بھی اختلاف ہے، جیساکہ شیخ غماریؒ نے لکھا ہے:
اِلَّا اَنَّہٗ خَالَفَ فِیْ مَتْنِہٖ (المداوی ،۳/۲۳۶)
(۶-متن: حدیث کی وہ مقصودی عبارت، جس کے ثبوت کے لیے سلسلۂ سند پیش کیا جاتا ہے۔ )
دوسری وجہ یہ ہے کہ ابونعیم کی سند کے یہ الفاظ ہیں:
ثَنَا علیُّ بنُ محمدُ بْنِ اِسماعیلَ واِبراہیمُ بنُ اسحاقَ قالا حدَّثنا ابوبکرِ بنُ خُزَیمۃَ ثَنَا محمدُ بْنُ خَلَفِ الحَدَّادیُّ ثَنَا عثمانُ وعَمْرُو بْنُ حَکَّامٍ قالا حدَّثنا شُعبۃُ فَذَکَرَہٗ وقالَ رَفَعہٗ عَمْرُو بْنُ حَکَّامٍ ثُمَّ ذَکرَ مَتْنَہٗ (المداوی ، ۳/۲۳۶)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف عمرو بن حکام نے اس کو ’مرفوع‘ کیا ہے اور عثمان نے اس کو ’موقوف‘ روایت کیا ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ محمد بن جعفر غندر نے اس کو ’موقوف‘ روایت کیا ہے۔ شعبہ کی روایات میں وہ [غندر] سب سے زیادہ قابلِ اعتماد ہے ۔ امام ذہبیؒ نے لکھا: اَحَدُ الْاَثْبَاتِ الْمُتْقِنِیْنَ  وَلَاسِیَّمًا فِیْ شُعْبَۃَ غندر اثبت [زیادہ قوی] اور متقن [ماہر] لوگوں میں سے ہے، بطورِ خاص شعبہ سے روایت کرنے میں۔ یاد رہے وہ شعبہ کا ۲۰سال شاگرد رہا۔
پھر عبدالرحمٰن ابن مہدی سے نقل کیا: غُنْدُرُ فِیْ شُعْبَۃَ اَثْبَتُ مِنِّیْ ، یعنی محمد بن جعفر غندر شعبہ سے روایت کرنے میں مجھ سے زیادہ قابلِ اعتماد ہے۔
اسی طرح عبداللہ بن المبارک سے بطور اصول یہ بات نقل کی ہے کہ جب لوگوں کے درمیان شعبہ کی روایت کردہ حدیث میں اختلاف ہوجائے تو فیصلہ محمد بن جعفر غندر کی کتاب کا ہی ہوگا: وقال ابنُ المبارکِ اِذَ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِیْ حَدِیْثِ شُعْبَۃَ فَکِتَابُ غُنْدُرَ حَکَمٌ بَیْنَھُمْ (میزان الاعتدال ، ۵/۱۵)
اس لیے جب ہم ان اُمور پر غور کرتے ہیں تو یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ یہ حدیث حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ پر ’موقوف‘ ہے، ’مرفوع‘ نہیں ہے۔ گویا چار لوگوں نے اس حدیث کو ’موقوف‘ کیا ہے: ۱-غندر ، ۲-یحییٰ بن سعید القطان ، ۳- روح بن عبادہ، ۴- عثمان بن عمر بن فارس۔
یہ لوگ ان راویوں سے یاد داشت میں بہت زیادہ پختہ کار ہیں، جنھوں نے اس کو ’مرفوع‘ کہا ہے۔
شیخ ابواسحاق نے تو ذرا سخت بات کی ہے کہ وَھُمُ الَّذِیْنَ یَتَرَجَّحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ رَفَعُوا الْحَدِیْثَ فَھُمْ اَعْلٰی مِنْھُمْ ضَبْطًا وَاِتْقَانًا، خُصُوْصًا فِیْ حَدِیْثِ شُعْبَۃَ بَلْ لَیْسَ فِیْھِمْ مَّنْ یُّرْفَعُ لَہٗ رَأْسٌ اِلَّا مُعَاذُ الْعَنْبَرِیُّ وَقَدْ خَالَفَہٗ مَنْ ذَکَرْتُ (اسعاف اللبیث فی فتاویٰ الحدیث، ۱/۲۱۶) [ان لوگوں کی راے اُن سے زیادہ وزنی ہے، جنھوں نے اس حدیث کو مرفوع کیا ہے۔ اس لیے کہ یادداشت اور پختگی میں اِن کا مقام اُن سے اونچا ہے، بطورِ خاص شعبہ سے حدیث نقل کرنے میں۔ بلکہ ان میں تو کوئی ایسا شخص بھی نہیں ہے جو قابل التفات ہو، سواے معاذ عنبری کے، اور اس کی مخالفت ان لوگوں نے کی ہے جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔]
ہمارے نزدیک اگر ’موقوف‘ کرنے والا فرد صرف محمد بن جعفر غندر ہوتا، تب بھی اس کا قول راجح [وزنی] ہوتا۔ کیوںکہ شعبہ سے روایت کرنے میں اتھارٹی وہ ہیں مگر یہاں تو تین اور متقن [پختہ کار] راوی اس کے ساتھ ہیں۔
[چوتھی وجہ] یہ بھی ہے کہ اس حدیث میں نکارت(۷) ہے۔ اس کا اعتراف بھی اصحابِ تحقیق نے کیا ہے۔
(۷- نکارت: جب کسی حدیث کی دو روایتوں میں سے ایک کا راوی ’ضعیف‘ ہو اور دوسری کا ’اضعف‘ یعنی زیادہ ضعیف ہو، اور اضعف راوی، ضعیف راوی کی نفی کرے تو اس کو نکارت کہتے ہیں۔ ضعیف راوی کی روایت کو ’معروف‘ اور اضعف کی روایت کو ’منکر‘ کہتے ہیں۔)

مناویؒ نے لکھا کہ وَاَقَرَّہُ الذَّھَبِیُّ فِی التَّلْخِیْصِ لٰکِنَّہٗ  فِی الْمُھَذَّبِ  قَالَ: ھُوَ مَعَ نَکَارَتِہٖ اِسْنَادُہٗ نَظِیْفٌ (فیض القدیر، ۴/۲۵۶) [ذہبی نے تلخیص میں تو اس کو برقرار رکھا ہے، مگر مہذب میں کہا ہے کہ باوجود نکارت کے اس کی سند صاف ہے]۔
پھر عبدالرزاق مہدی نے لکھا کہ وَظَاھِرُہُ الصِّحَّۃُ لٰکِنْ اَعَلَّہُ  الْحَاکِمُ  بِاَنَّ اَصْحَابَ شُعْبَۃَ  رَوَوْہُ مَوْقُوْفًا…… ثُمَّ اِنَّ لَفْظَ الْحَدِیْثِ الْاَوَّلِ صَدْرُہٗ مُنْکَرٌ فَاِنَّ الصَّبْرَ عَلَی الْمَرْاَۃِ السَّیِّئَۃِ الْخُلْقِ فِیْہِ ثَوَابٌ عَظِیْمٌ  (تفسیر القرآن العظیم ھامش ، ۱/۵۹۳)
یعنی [یہ حدیث بظاہر صحیح ہے، مگر امام حاکم نے اس میں یہ علت بیان کی ہے کہ شعبہ کے شاگردوں نے اس کو ’موقوف‘ روایت کیا ہے] …… اس طرح  پہلی حدیث کا ابتدائی حصہ ’منکر‘ ہے کیوں کہ بدخلق عورت پر صبر کرنا بڑے ثواب کا کام ہے۔
اس کے ’منکر‘ ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ سنن ابواؤد، مسنداحمد اور بیہقی میں ایک روایت وارد ہے، جس کا آخری حصہ یہ ہے:
قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللہِ! اِنَّ لِیْ اِمْرَاَۃٌ فِیْ لِسَانِھَا شَیْءٌ (یَعْنِی الْبَذَاءَۃَ) قَالَ: طَلِّقْھَا قُلْتُ: اِنَّ لِیْ مِنْھَا وَلَدًا وَلَھَا صَحْبَۃٌ ، قَالَ فَمُرْھَا (یَقُوْلُ) عِظْھَا فَاِنْ یَّکُ فِیْھَا خَیْرٌ فَسَتَقْبَلُ (البیہقی، ۷/۳۰۳)
یعنی میں نے کہا:یارسول اللہ! میری بیوی ہے، وہ ذرا بدزبان ہے تو نبی علیہ السلام نے فرمایا: ’اسے چھوڑ دے‘۔ میں نے کہا: ’اس سے میری اولاد بھی ہے۔ پھر اس کے ساتھ رفاقت بھی رہی ہے‘۔ تو نبی علیہ السلام نے فرمایا: ’اسے وعظ و نصیحت کرلیا کرو۔ اگر اس میں کچھ خیر ہوا تو وہ اس کو قبول کرے گی‘۔
شیخ ابواسحاق کا کہنا ہے کہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بدزبان اور بدخلق عورت کو رکھنا جائز ہے، اِلّا یہ کہ ہم اس حدیث کو بلاضرورت و حاجت پر محمول کریں۔ مگر یہ بعید ہے کیوں کہ بندہ عموماً جب کسی عورت کو نہ چاہتے ہوئے بھی رکھتا ہے تو اس کی کوئی وجہ ہوگی: فَھٰذَا الْحَدِیْثُ یَدُلُّ عَلٰی جَوَازِ اَنْ یُّمْسِکَ الْمَرْءَۃَ السَّیِّئَۃَ الْخُلْقِ سَلِیْطَۃَ اللِّسَانِ اِلَّا  لَوْ حَمَلْنَا الْحَدِیْثَ عَلٰی غَیْرِ الضَّرُوْرَۃِ اَوِ الْحَاجَۃِ، وَفِیْہِ بُعْدٌ لِّاَنَّ الْمَرْءَ عَادَۃً لَّا یُمْسِکُ الْمَرْءَۃَ وَھُوَ کَارِہٌ اِلَّا لِمَعْنًی،  واللہ اعلم  (اسعاف اللبیث، ۱/۲۱۷)
مگر ہم تو کہتے ہیں کہ ایسی عورت کو برداشت کرنا، اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا ثواب کا کام ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ درج بالا حدیث نبی علیہ والسلام کا قول نہیں ہے بلکہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ پر موقوف ہے۔ اس لیے زیادہ پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ                                        اتم واحکم۔ (مولانا واصل واسطی)
الجامع الصغیر کی شرح فیض القدیر میں زیربحث حدیث کی جو تشریح کی گئی ہے  اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنی بدخو بیوی کو بد دعا دیتا ہے تو وہ قبول نہیں ہوتی، اس لیے کہ اس کو اختیار ہے کہ اسے علیحدہ کردے، چنانچہ اس نے خود ہی اپنے آپ کو عذاب میں ڈالا ہوا ہے۔ [فیض القدیر ، المکتبۃ التجاریۃ، مصر، طبع اول ۱۳۵۶ھ، ۳/۳۳۶)
گویا وہ اپنے اس اختیار کو استعمال کرنے کے بجاے اسے بددعا دیتا ہے تو اسے اس کا حق نہیں پہنچتا۔ اسی طرح کی تشریح باقی دو افراد کے بارے میں بھی کی گئی ہے کہ وہ اگر اپنے فریق مخالف کو بد دعا دیتے ہیں تو وہ ان کے حق میں قبول نہیں ہوتی، اس لیے کہ انھوں نے خود ہی کوتاہی کا ارتکاب کیا ہے۔ اس تشریح سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس حدیث کا اصل مقصد بددعا کی ممانعت ہے، نہ کہ طلاق کی ترغیب۔ اس صورت میں یہ حدیث چاہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہو یا حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا قول، ہر صورت میں اس کا مفہوم درست ہے۔ واللہ اعلم ![گل زادہ شیرپاؤ ]

Facebook Comments

You might also like More from author