(موت )

0 676
مولانا رضوان اللہ پشاوری
موت دیگر مخلوقات کی طرح خالق کائنات کے حکم کن سے وجود میں آئی ہے اور ہمیشہ انسانی نظروں سے اوجھل رہتی ہے، انسان اسے ڈھونڈتے ہوئے بھی نہیں پاسکتا،بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بجا ہوگا کہ انسانی آنکھ اسے زندگی میں دیکھنے سے قاصر ہے،کوئی دیکھے بھی تو کیسے دیکھے، نہ ہی اس کا کوئی مکان ہے اور نہ ہی یہ مکین ہے اور نہ اس کا کوئی مخصوص راستہ ہے کہ انسان گھات لگاکر اسے پکڑلے،یہ جس گھر کا رخ کرتی ہے کہرام مچادیتی ہے، وہاں کے مکینوں کو رنج والم کی چادر اوڑھا دیتی ہے حتی کہ عرصہ دراز تک وہاں کی فضا سوگوار ہوجاتی ہے ۔
موت حکم الٰہی کی ہمیشہ منتظر رہتی ہے ،حکم ملنے پر پلک جھپکنے کی سی دیر نہیں کرتی اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ہدف کی تلاش میں نکل پڑتی ہے،چاہے وہ آنکھوں کو چندھیا دینے والی سورج کی شعاعوں میں (یعنی دن میں) ہو یا ظلمت شب کی تاریک راہوں میں ہو،شہر میں ہو یا بستی میں، بازاروں میں ہو یا ویرانوں میں۔ غرض یہ کہ جہاں بھی ،جس حالت میں اپنے ہدف کو پاتی ہے،لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوجاتی ہے ۔
موت کو کیسے یاد رکھا جائے ؟
امام غزالی فرماتے ہیں کہ موت کا معاملہ زیادہ خطرناک ہے اور لوگ اس سے بہت غافل ہیں اول تو اپنے مشاغل کی وجہ سے اس کا تذکرہ ہی نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تب بھی چونکہ دل دوسری طرف مشغول ہوتا ہے اس لئے محض زبانی تذکرہ مفید نہیں،بلکہ ضرورت اس کی ہے کہ سب طرف سے بالکل فارغ ہوکر موت کو اس طرح سوچے کہ گویا وہ سامنے ہے جس کی صورت یہ ہے کہ: اپنے عزیز واقارب اور جانے والے احباب کا حال سوچے کہ کیونکر ان کو چار پائی پر لے جاکر مٹی کے نیچے دبا دیا۔ان کی صورتوں کا، ان کے اعلیٰ منصبوں کا خیال کرے اور یہ غور کرے کہ اب مٹی نے کس طرح ان کی صورتوں کو پلٹ دیا ہوگا، ان کے بدن کے ٹکڑے الگ الگ ہوگئے ہوں گے،کس طرح بچوں کو یتیم، بیوی کو بیوہ اور عزیز واقارب کو روتا چھوڑ کر چل دئے، ان کے سامان‘ ان کے کپڑے پڑے رہ گئے،یہی حشر ایک دن میرا بھی ہوگا۔ کس طرح وہ مجلسوں میں بیٹھ کر قہقہے لگاتے تھے آج خاموش پڑے ہی،کس طرح دنیا کی لذتوں میں مشغول تھے آج مٹی میں ملے پڑے ہیں،کیسا موت کو بھلارکھا تھا آج اس کا شکار ہوگئے ۔ کس طرح جوانی کے نشہ میں تھے آج کوئی پوچھنے والا نہی،کیسے دنیا کے دھندوں میں ہر وقت مشغول رہتے تھے آج ہاتھ الگ پڑا ہے،پاؤں الگ ہے ،زبان کو کیڑے چاٹ رہے ہیں،بدن میں کیڑے پڑ گئے ہوں گے ۔ کیسا کھل کھلا کر ہنستے تھے آج دانت گرے پڑے ہوں گے ۔ کیسی کیسی تدبیر یں سوچتے تھے برسوں کے انتظام سوچتے تھے حالانکہ موت سر پر تھی،مرنے کا دن قریب تھا،مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ آج رات کو میں نہیں رہوں گا اور آج یہی حال میرا ہے ۔ آج میں اتنے انتظامات کررہا ہوں مگر کل کی خبر نہیں کہ کل کیا ہوگا۔
ایک دردناک واقعہ:
تیرہ سو سال کی عمر کا بادشاہ حضرت دانیال علیہ السلام ایک دن جنگل میں چلے جا رہے تھے ۔ آپ کو ایک گنبد نظر آئی،آواز آئی کہ اے دانیال! ادھر آ۔ دانیال علیہ السلام اس گنبد کے پاس گئے تو دیکھا بڑی عمدہ عمارت ہے اور عمارت کے بیچ ایک عالی شان تخت بچھا ہوا ہے، اس پر ایک بڑی لاش پڑی ہے، پھر آواز آئی کہ اے دانیال تخت کے اوپر آؤ، آپ اوپر تشریف لے گئے تو ایک لمبی چوڑی تلوار مردہ کے پہلو میں رکھی ہوئی تھی۔ اس پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی کہ” میں قوم عاد سے ایک بادشاہ ہوں،خدا نے تیرہ سو سال کی مجھے عمر عطا فرمائی، بارہ ہزار میں نے شادیاں کیں،آٹھ ہزار بیٹے ہوئے لاتعداد خزانے میرے پاس تھے اس قدر نعمتیں لے کر بھی میرے نفس نے خدا کا شکر ادا نہ کیا،بلکہ الٹا کفر کرنا شروع کر دیا اور خدائی کادعوٰی کرنے لگا۔ خدا نے میری ہدائیت کے لئے ایک پیغمبر بھیجا، ہر چند انہوں نے مجھے سمجھایا، مگر میں نے کچھ نہ سنا، انجام کار وہ پیغمبر مجھے بد دعا دے کر چلے گئے، حق تعالیٰ نے مجھ پر اور میرے ملک پر قحط مسلط کر دیا،جب میرے ملک میں کچھ پیدا نہ ہوا،تب میںنے دوسرے ملکوں میں حکم بھیجا کہ ہر ایک قسم کا غلہ اور میوہ میرے ملک میں بھیجا جائے،میرے حکم کے مطابق ہر قسم کا غلہ اور میوہ میرے ملک میں آنے لگا جس وقت وہ غلہ یا میوہ میرے شہر کی سرحد میں داخل ہوتا فوراً مٹی بن جاتا اور وہ ساری محنت بیکار ہو جاتی اور کوئی دانہ مجھے نصیب نہ ہوتا۔ اسی طرح ساتھ دن گزر گئے، میرے قلعے سے سب خدام اور میرے بیوی بچے بھاگ گئے، میں قلعہ میں تنہا رہ گیا،سوائے فاقہ کے میری کوئی خوراک نہ تھی، ایک دن میں نہایت مجبور ہو کر فاقہ کی تکلیف میں قلعہ کے دروازے پر آیا،وہاں مجھے ایک شخص نظر آیا ،جس کے ہاتھ میں کچھ غلہ کے دانے تھے جن کو وہ کھاتا چلا جاتا تھا،میں نے اس جانے والے سے کہا کہ ایک بڑا برتن بھرا ہوا موتیوں کا مجھ سے لے لے اور یہ اناج کے دانے مجھے دیدے مگر اس نے نہ سنی اور جلدی سے ان دانوں کو کھا کر میرے سامنے سے چلا گیا،انجام یہ ہوا کہ اس فاقہ کی تکلیف سے میں مر گیا،یہ میری سر گزشت ہے ،جو شخص میرا حال سنے، وہ کبھی دنیا کے قریب نہ آئے ۔(سیرة الصالحین)
ذائقہ موت:
اللہ تعالیٰ نے موت میں ذائقہ رکھا ہے ، اب وہ کیسا ہے ،میٹھا یا کڑوا؟ اس کا دار ومدار انسانی اعمال پر منحصر ہے، البتہ ذائقہ چکھنے سے کوئی بھی کسی صورت میں بچ نہیں سکتا، جیساکہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔
حضرت حسن  فرماتے ہیں کہ حضور انے ایک مرتبہ موت کی سختی کا ذکر فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ: اتنی تکلیف ہوتی ہے جیسے کہ تین سو جگہ تلوار کے کاٹ سے ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جب وصال ہوا تو حق تعالیٰ شانہ نے دریافت کیا کہ موت کو کیسا پایا؟انہوں نے عرض کیا کہ: میں اپنی جان کو ایسا دیکھ رہا تھا جیسے زندہ چڑیا کو اس طرح آگ پر بھونا جارہا ہو کہ نہ اس کی جان نکلتی ہو، نہ اڑنے کی صورت ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ ایسی حالت تھی جیساکہ زندہ بکری کی کھال اتاری جارہی ہو۔
حضرت شداد بن اوس  فرماتے ہیں کہ: موت دنیا وآخرت کی سب تکلیفوں سے سخت ہے ،وہ قینچیوں سے کتر دینے سے زیادہ سخت ہے، وہ دیگ میں پکانے سے زیادہ سخت ہے ۔ اگر مردے قبر سے اٹھ کر مرنے کی تکلیف بتائیں تو کوئی شخص بھی دنیا میں لذت سے وقت نہیں گزار سکتا، میٹھی نیند اس کو نہیں آسکتی۔(موت کی یاد حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا)
موت کی تکلیف جسم کو ہوتی ہے :
حضرت سید نابلال رضی اللہ عنہ کمزور ہوگئے اور ان کے چہرے پر موت کے آثار نمایاں ہوئے تو ان کی بیوی نے کہا : ہائے میں لٹ گئی ۔ آپ رضی اللہ نے فرمایا کہ یہ تو خوشی کا موقع ہے اب تک میں زندگی کی مصیبتوں میں مبتلا تھا اور تو کیا جانے کہ موت کس قدر عمدہ اور آسائش والی شے کانام ہے ۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ گلاب کی مانند دمک رہا تھا اور آنکھوں میں موجود نور اس بات کی گواہی دے رہا تھا جن لوگوں کے دل سیاہ ہوتے ہیں وہ آپ رضی اللہ عنہ کو سیاہ فام کہتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ کالا رنگ حقارت کی دلیل نہیں اور آنکھ کی پتلی بھی سیاہ ہوتی ہے ۔
حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو آنکھ کی پتلی جیسا فضلیت والا وہی کہہ سکتا ہے جس کو تمام انسانوں میں وہ مرتبہ ومقام حاصل ہو جوآنکھ کی پتلی کو تمام اعضاء پر حاصل ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے خصائل سے واقف حضور نبی کریم ۖ اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی ہوسکتے ہیں اور ان کے حقیقی مرتبہ سے وہی واقف ہیں نہ کہ عام لوگ جوان کے مرتبہ کو تقلیدی طور پر ہی جانتے ہیں ۔
حضرت سیّدنابلال رضی اللہ عنہ کی بیوی بولی کہ آپ رضی اللہ عنہ تنہا رخصت ہو کر مسافر بن رہے ہیں اور اپنے اہل وعیال سے دور ہورہے ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایساہرگز نہیں بلکہ آج رات میری جان سفر کے بعد واپس لوٹ رہی ہے ۔ بیوی بولی کہ یہ تو بڑے دکھ کا مقام ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ یہ تو خوشی نصیبی ہے ۔ بیوی بولی کہ اب ہم آپ رضی اللہ کا چہرہ کیسے دیکھ سکیں گے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب میں بارگاہ الٰہی میں ہوں گا اور اس کا حلقہ ہر ایک کے ساتھ پیوستہ ہے ۔ اگر تو اپنی نظر بند کرے اور پستی کی جانب نہ جائے تو اس حلقہ میں نور الہٰی اس طرح چمکتا ہے جس طرح انگوٹھی میں جڑانگینہ ۔ میں اب معارف اور اسرار کاخزانہ بن گیا ہوں اور اس جسم میں اسے سنبھالنے کی سکت نہیں ہے ۔ میں جب گدا تھا تب میری روح اس جسم میں سماسکتی تھی اب جبکہ میں معارف کا شاہ بن گیا ہوں تو اس کے لئے وسیع جگہ کی ضرورت ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام بھی اسی وجہ سے دنیا کو ترک کر کے آخرت کی جانب روانہ ہوئے ۔ جو لوگ مردہ دل ہوتے ہیں ان کے لئے دنیا عزت کی جگہ ہے اور اہل دنیا کے لئے وسیع جبکہ اہل باطن کے لئے تنگ ہے ۔ اگر دنیا تنگ نہیں ہے تو پھر یہاں کے رہنے والوں میں ہنگامہ آرائی کیسی ہے ؟ یہاں تنگی کااحساس اس وقت ہوتا ہے جب انسان سوتاہے او روسعت کے باوجود یہ دنیا اسے تنگ محسوس ہوتی ہے ۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح ظالموں کے چہرے بظاہر خوش ہوتے ہیں لیکن ان کی روح تنگی کی وجہ سے آہ وبکا میں مشغول ہوتی ہے ۔ اولیا ء اللہ کی روح عالم بیداری میں اسی طرح آزاد ہوتی ہے جس طرح عوام الناس کی روح نیند کے وقت اور ان کی مثال اصحاب کہف سی ہے جودنیاوی اعتبار سے تو نیندمیں تھے اور اخروی اعتبار سے بیدار تھے ۔
حضرت سیّد نابلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ زندگی کی حالت میں روح جسم میں ٹیڑھی رہتی ہے جس طرح بچہ ماں کے پیٹ میں ٹیڑھا ہوتا ہے ۔ جس پر موت کی تکلیف ایسی ہی ہے جس طرح بچہ کی پیدائش کے وقت ماں کو دردزہ کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے ۔ موت کے بعد روح پرواز کرتی ہے اور موت کی تکلیف جسم کو ہوتی ہے اور روح اس درد کی قید سے آزاد ہوتی ہے ۔ اس دنیا میں ہر انسان دوسرے کے درد سے ناواقف ہے ماسوائے اہل اللہ کے جو کہ اللہ عزوجل کی رحمت سے ہر ایک کے احوال سے واقف ہوتے ہیں ۔(حکایات رومی)
اللہ تعالیٰ ہمیں موت سے پہلے پہلے موت کی تیاری کی توفیق عطافرمائے(آمین بجاہ سید المرسلین)
Facebook Comments

You might also like More from author