2018سے لے کر اب تک بنی گالہ کے سب سے لاڈلے بزدار نے کتنا پٹرول استعمال کیا ؟ بڑا دعویٰ کر دیا گیا

0 89

لاہور(ویب ڈیسک)نامورتجزیہ کار ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلی کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے خود ہی سب کچھ بھلا بیٹھے ۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ان کا کہنا تھا کہ سائیں بزادرا نے اپنے ہیلی کاپٹر پر اگست 2018 سے لے کر نومبر 2019 کے دوران مختلف شہروں کے 164 دورے کیئے جس میں ان کے ہیلی کاپٹر نے 119 گھنٹے 30 منٹ کی پروازیں کیں اور ان تمام دوروں میں کو پٹرول استعمال ہوا اس کی قیمت 86 لاکھ 4 ہزار بنتی ہیں ۔ یہ ہیں وہ تبدیلی کے دعوے دار جنہوں نے پاکستان کو تبدیل کرنا تھا اور بنی گالہ کے یہ لاڈلے وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ ساتھ 643 افراد نے بھی ہیلی کاپٹر کے مزے آڑائے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام گدھا جنگچی پر آگئی مگر بزدار صاحب کا ہیلی کاپٹر آج بھی اپنی رفتار میں چلتا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے تسلیم کیا ہے کہ اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت خسارے میں ہو رہی ہے۔ اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ آئل کمپنیاں 70 سال سے اس ملک سے منافع کما رہی ہیں۔ موجودہ صورت حال میں حکومت نے اگر کوئی فیصلہ کیا ہے تو انہیں اس پر عمل کرنا چاہیے۔حکومت تو بلیک میل ہونے سے انکار کر رہی ہے حقیقی مسائل حل کرنے کو تیار ہے۔’ انہں نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ تیل کے ذخیرے میں کمی نہیں بلکہ قیمتوں کا تعین ہے۔ حکومت آج قیمت میں تبدیلی کر دے تو مارکیٹ میں پیٹرول دستیاب ہو جائے گا۔ ملک میں جاری پیٹرول کی قلت کو دیکھیں تو کچھ زیادہ پرانی بات نہیں جب خبریں آ رہی تھیں کہ لاک ڈاؤن کے باعث پٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کمی سے قمیتوں میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔امریکی آئل مارکیٹ میں تو تیل کی قیمت میں تاریخی کمی ہوئی تھی۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں بھی مئی اور جون میں قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا۔ وزیراعظم نے تو ٹویٹ کر کے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے کم قیمت پر پیٹرولیم مصنوعات عوام کو فراہم کرنے والا ملک ہے۔ان کی ٹویٹ کے اگلے ہی دن ملک میں پیٹرول کے بحران نے سر اٹھایا اور یہ بحران دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف پورے ملک میں پھیل گیا بلکہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اب اس معاملے پر وزیراعظم اور کابینہ نے نوٹس لیا ہے اور انکوائری ہو رہی ہے۔وزارت پیٹرولیم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں جبکہ یہ کمپنیاں حکومت کو موجودہ صورت حال کا ذمہ ٹھہراتی ہیں۔

Facebook Comments