2017ء بھی مایوس کن سال

0 465

follow link تحریر:رحمت اللہ شباب

وطن عزیز پاکستان میں دہشتگردی ،لاقانونیت اور مہنگائی کی تازہ لہر کے باعث روز مرہ استعمال کے مختلف اشیاء کی قیمتوں میں عوام کی پریشانی فطری عمل ہے ۔گوکہ یہ لہر پہلی نہیں بلکہ عوام مسلسل مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشانی سے دوچار ہیں لیکن گزشتہ چار ماہ کے واقعات کے باعث آنیوالی یہ لہر آفت ناگہانی نہیں بلکہ ملک میں سیاسی انتشار کے باعث پیدا شدہ حالات کا نتیجہ ہے جس کی ذمہ داری اس بحران کے وابستگان پر عائد ہوتی ہے ۔ پریشان کن امر یہ ہے کہ اشیائے خود ونوش سمیت مختلف چیزیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوگئی ہیں ،روز مرہ استعمال کی مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کم آمدنی والے طبقے کا خاص طور پر متار ہونا فطری امر ہے ۔ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے اور روپے کے قدر میں کمی کا اثر روز مرہ استعمال کی مختلف اشیاء کی قیمتوں پر پڑنے کے باعث مہنگائی میں مزید اضافہ ہورہا ہے ۔ صارفین کی یہ شکایت بجا ہے کہ روز مرہ استعمال کی مختلف اشیاء کی قیمتیں پہلے ہی پریشان کن حد تک زیادہ تھیں جبکہ مہنگائی کی نئی حالیہ لہر نے غریب وکم آمدن والے لوگوں کی کم توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ رہی سہی کسر ناجائز منافع خوری پویر کردیتے ہیں ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس صورتحال کا منڈی کی تجارت اور معاشی اتار چڑھائو اور مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کے طریقوں سے مقابلہ کرنے کی نہ تو سکت ہے اور نہی حکمت عملی اور نہ ہی اس پر کسی دور میں توجہ دی گئی ،لے دیکر انتظامیہ کے پاس عوام اشک شوئی کیلئے چند دن کے نمائشی چھاپے اور زیادہ سے زیادہ چند ایک گرفتاریاںہیں جس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ،بہر حال صوبائی حکومت کو کم از کم مصنوعی ،مہنگائی پیدا کرنیوالوں کیخلاف تو صوبہ گیر سخت مہم چلانی چاہیے اور گرانفروشی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے والوں کو لگام دینے کی پوری سعی کرلینی چاہیے ۔قار آئین کرام 2017ء کے واقعات کی تفصیل کچھ یوں ہیں ۔ملک بھر میں مردم شماری کی گئی اور مردم شماری میں 40ہزار سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا ۔ عدد شمارکے مطابق 20کروڑ 77لاکھ 74ہزار ریکارڈ کی گئی پنجاب میں 11کروڑ 74لاکھ ،خیبرپختونخوا میں 3کروڑ 5لاکھ 23ہزار ،سندھ ،4کروڑ 69لاکھ 90ہزار ،بلوچستان میں ایک کروڑ 23لاکھ 44ہزار ،اسلام آباد اور فاٹا میں 1کروڑ 2ہزار ریکارڈ کی گئی ۔ اسی طرح ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے 23مرتبہ ضمنی انتخابات کئے گئے ۔ جس میں حکمران جماعت ن لیگ سرفہرست رہی ۔ 2017ء میں سیکورٹی اداروں نے امن وامان برقرار رکھنے کیلئے آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں 4ہزار 326دہشتگردوں کو گرفتار کیاگیاہے ۔ جس پر آرمی عدالتوں میں مقدمات دائر کئے گئے ہیں ۔ آرمی چیف کے مطابق فوجی عدالتوں نے اسی سال 274مقدموں کا فیصلہ ہے اور 56مجرمان کو پھانسی دی گئی ہے ۔ جبکہ 161مجرموں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ۔اسی سال سیکورٹی اداروں کی بروقت اقدامات کی وجہ سے پبلک مقامات پر ہونیوالے حملوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے ۔ پشاور ،کوئٹہ،کراچی میں کئی بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے ۔ جن میں 228افراد شہید جبکہ 800کے قریب افراد زخمی ہوئے ۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی نمایاں کمی ہوئی اور اسی سال 160افراد کو ٹارگٹ کلنگ میں شہید کردیاگیا ۔جن میں ڈپٹی آئی جی خیبرپختونخوا ،2 ڈی آئی جی ،آرمی کے 4میجر ،6کیپٹن اور 7ایس ایچ اوز بھی شامل ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خیبرپختونخوا میں 619دہشتگردوں کو گرفتار کیاہے جبکہ بلوچستان میں 381،سندھ میں 559 اور پنجاب سے 326 دہشتگردوں کو گرفتار کیاگیا ہے ۔اور اسی طرح 726دہشتگردوں کو ٹھکانے لگادئیے ہیں ۔ملک بھر میں غیرت کے نام پر 109 واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ جن میں 56افراد کئے گئے ہیں۔ اسی سال عدالتوں میں چلنے والے مقدمات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔اور ملک کے نیچے سے اعلیٰ لیکر اعلیٰ عدالتوں تک 86852 مقدمات نمٹائے گئے ہیں ۔ ان مقدمات میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سمیت ،1صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شاہ محمد وزیراور پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کو نااہل کردیاگیا ہے ۔ شاہ محمد وزیر کو بعد میں عدالت نے ایک مرتبہ پھر سے اہل کردیا ہے ۔ اور اسی طرح نیب نے 20 فیصد اپنے کام میں تیزی لائی اور قومی خزانے کو نقصان دینے والے 1100سے زائد افراد کیخلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ جن میں 153 سیاسی جبکہ 205 سرکاری افسران شامل ہیں۔217میں کرائم کے شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا اورمجموعی طور پر 11ہزار دو سو 22افراد کو قتل کیا گیا ہے ۔ منشیات کے استعمال میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ 16391 افرادکو سزائیں سنائی گئی ہے ۔قتل اور اقدام قتل کے معاملات میں 22ہزار 7سو 18افراد کو سزائیں دی گئی ہے ۔ جس میں 22افراد کی پھانسیاں بھی شامل ہیں ۔ملک بھر میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 13سو 53افراد جاںبحق ہوچکے ہیں ۔جبکہ ہزاروں افراد غیر معمولی زخمی بھی ہوچکے ہیں ۔ اسی سال ٹریفک کا سب سے بڑا حادثہ تبلیغی جماعت کی گاڑی کو پیش آیا تھا جس میں 50سے زائد افراد شہیدہوئے تھے ۔اور اسی طرح آتشزدگی کے واقعات میں 216افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس کا سب سے بڑا واقعہ آئل ٹینکر میں لگی آگ کی وجہ سے 116افراد جان سے گئے تھے ۔ سال2017ء میں پاک افغان اور بھارت کے ساتھ بارڈر پر ہونیوالے ناخوشگوار واقعات 210ریکارڈ کئے گئے جس میں 26افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔ سال 2017ء میں حکومت مخالف تحریک میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی اور ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران 11افراد جاںبحق ہوچکے ہیں ۔ 2017ء میں وزیراعظم ،وفاقی اورصوبائی وزراء نے 54غیر ملکی دورے کئے ہیں جس میں امریکہ برطانیہ اور ترکی کے دورے شامل ہیں ۔ اسی طرح آرمی چیف نے بھی 19غیر ملکی دورے کئے اس سال امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں 6ڈرون حملے کئے ہیں جس میں 11افراد جاںبحق ہوئے ۔
اس سال غیر معیاری ادویات سے 9ہزار سے زائد افراد جاںبحق ہوئے ہیں اور اسی طرح ڈرگز اتھارٹی نے 2790افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ملک بھر میں 852افراد کو لاوارث دفنا دئیے گئے ہیں ۔ 2017ء میں ڈینگی مچھروں نے بھی اپنا حصہ ڈال دیا ہے ۔اور ملک میں 362افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جن میں زیادہ تعداد خیبرپختونخوا سے ہیں ۔ اسی سال طلاق کے شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور فیملی کوٹس میں 3114کیسز میں فیصلے کے بعد طلاق ہوچکے ہیں۔ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال تیل کی قیمتوں میں 6مرتبہ کمی اور پیشی کردی گئی۔ بجلی کی قیمتوں میں دو مرتبہ جبکہ روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیاگیا ۔ اسی سال ٹماٹر ،پیاز اور آلو کی قیمتوں نے نا صرف 5سالہ ریکارڈ توڑا بلکہ غریب عوام کا جینا ہی دوبھالا کردیا اور سال کی آخر تک قیمتوں اضافہ برقرار رکھا ۔ موبائل کمپنیوں نے بھی بہتی گنگھا میں ہاتھ دھولئے اور 100 روپے کے کارڈ میں 19سے 25روپے کردئیے گئے ہیں ۔ اسی سال روڈوںپر احتجاج کے بجائے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ اور موبائل کمپنی ،سبزی فروٹ اور دیگر کئی حوالوں سے شہریوں نے سوشل میڈیا پر احتجاج ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔2017ء میں گیس، بجلی کی لوشیڈنگ کے بعد موبائل کمپنیوں نے بھی 4مرتبہ لوڈشیڈنگ کی،محرم کے علاوہ ،اسلام دھرنا کے دوران موبائل سروس معطل کردیاگیا تھا۔ اس دوران پاکستان بھر کے ٹی وی چینلز اور دوسری نشریاتی ادارے بھی بند کرنے پڑے ۔اس سال سموگ نے بھی پاکستانیوں کو خوب رولایا ۔جس میں کئی حادثات بھی رونما ہوئے اور قیمتی جان بھی ضائع ہوئے
۔ اسی سال برما کے روہنیا مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی ،توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کے حوالے سے 3000سے زائد احتجاج ریکارڈ کئے گئے ۔ تو دوسری طرف مسجد اقصیٰ کو امریکہ کی جانب سے اسرائیلی دارالحکومت تسلیم قرار دینے کے بعد اب تک احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے ۔2017ء میں سب سے زیادہ تنقید اور حمایت جے آئی ٹی کو حاصل رہی ۔جے آئی ٹی نے سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف کرپشن کیسوں میں تحقیقات کی ۔اور اسی طرح 2017ء سیاست کے حوالے سے بھی کافی یاد گار رہا ۔سابق وزیراعظم کی نااہلی پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رکن عائشہ گلالئی کی طرف سے پی ٹی آئی سربراہ عمران خان پر الزامات نئے پاکستان تحریک NA120،NA4،اور کوئٹہ میں ضمنی انتخابات سمیت آصف علی زرداری پر نیب کیس ،سابق صدر پرویز مشرف پر شہید بے نظیر بھٹو کے قتل کے الزامات کے ساتھ ساتھ ایم ایم اے کی بحالی اور دیگر سیاسی اور قوم پرست جماعتوں کی طرف سے انتخابات کی تیاری ،ایم کیو ایم کا آنا اور جانا اور روٹھو کو منانا ،مصطفیٰ کمال کی کمالات ،طاہر القادری اور خادم حسین رضوی کی جذبات شہ سرخیوں میں رہے ۔اسی سال سب زیادہ جملہ مجھے کیوں نکالا سننے میں رہا ۔جو نا صرف حکمران جماعت کی طرف سے لگایا گیا بلکہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھی جلسوں اور جلوسوں میں ملی نغموں کی شکل میں سننے کو ملااور نعروں ایک عالمگیر شہریت اختیار کیاگیا ۔ 2017ء میں کئی غیر انسانی واقعات بھی رونما ہوئے جس میں مشال خان کیس ،ڈیرہ اسماعیل خان اور رحیم یار خان واقعہ شامل ہیں۔اسی سال عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ اور ریحام خان بھی میڈیا میں سرفہرست رہی ۔اور شیخ رشید اور پی ٹی آئی ورکروں کی طرف سے کاضی بینڈ بھاجوں کی تیاری بھی بحث ومباحثوں میں رہی ۔2017ء میں راء ایجنٹ کلبھوشن کی گرفتاری ،والدہ اور بیوی سے ملاقات جاسوسی آلات کے حوالے سے نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا میں پاکستان کا نام شہ سرخیوں میں رہا ۔ اسی سال کرکٹ میں بھی پاکستان فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا ۔ نا صرف چیمپنئنز ٹرافی اپنے نام کرلی بلکہ انڈر 16کے ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی بھی حاصل کرلی تھی ۔تو دوسری طرف پہلی بار ٹی ٹونٹی میں غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستانی گرائونڈ کا رخ کیا اور یوں 2017ء پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کا سال ثابت ہوا۔ 2017ء میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قانون رسالت کے قانون ،نیا پاکستان ،پانامہ لیکس ،ڈان لیکس ،فوج اور عدالتوں کے حق اور خلاف باتوں کے علاوہ حلقہ بندیوں کے علاوہ کوئی عوامی منصوبہ پیش نہیں کیاگیا ۔ اس سال بھی پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کا فیصلہ نہ ہوسکا ۔ پاکستان کے تمام سیاسی پارٹیاں فاٹا پر سیاست کرنے میں لگا رہے تھے ۔یہ وہ واقعات ہیں جو 2017ء میں ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔2016ء کی طرح یہ سال بھی پاکستانیوں کو مایوسی کے سوا کچھ خاص نہ دے سکا ۔ اسی سال بھی انصاف ،نا صحت کی طرف کوئی توجہ ،نہ تعلیمی نظام بہتر ہوسکا ۔اور نہ ایک دوسرے کیلئے احساسات اور جذبات کا خیال رکھا گیا بس وحی 2016ء کا نظام گالی گلوچ کی سیاست اور یہی وجہ ہے کہ 2017ء میں بہت کچھ پایا تو بہت کچھ کویاں بھی ،آج دنیا کہاں پر کھڑی ہے اور ہم کہاں پر ؟دنیاوی اسلامی ،قانونی ،افرادی اور اخلاقیات کے باوجود بھی ؟۔۔۔۔۔دعا ہے کہ نیا سال عالم اسلام پاکستان اور عوام کیلئے خوشی کی نوید لیکر آئے اور ہم سب کو آخوت کے ساتھ امن وامان میں رکھے ۔۔۔
پاکستان زندہ بادل
قوم کو نیا سال مبارک

2017کے خونی واقعات
7جنوری 2017ء کو پاراچنار میں ایک دکان اندر بم دھماکے کے نتیجے میں 18افراد جاںبحق جبکہ 53زخمی ہوئے تھے۔12فروری کو لاہور کے مال روڈ پر خودکش حملے کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک اور ایس ایس پی آپریشنز سمیت 14افراد جاںبحق ہوئے تھے ۔ 15فروری کو پشاور کے علاقے حیات آباد میں خود کش حملے کے نتیجے میں2افراد جاںبحق جبکہ 7افراد زخمی ہوئے تھے ۔ اسی حملے کے10منٹ بعد مہمند ایجنسی میں خودکش حملے کے نتیجے میں 4افراد جاںبحق ہوئے تھے ۔ 16فروی کو بلوچستان کے ضلع اروان میں بارودی مواد پھٹنے سے آرمی کپٹن سمیت 3اہلکار شہید ہوئے تھے ۔ 16فروری کو لال شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے کے نتیجے میں 88افراد جاںبحق ہوئے تھے ۔ جبکہ 17فروری کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس وین پر حملے نتیجے میں 5پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ 21فروری کو ضلع چارسدہ کے سیشن کوٹ میں خود کش حملے کے نتیجے میں 7افراد جاںبحق جبکہ 20قریب زخمی ہوئے تھے ۔ 6مارچ کو مہمند ایجنسی چیک پوسٹ پر حملے کے نتیجے میں پاک فوج کے 5جوان شہید ہوئے تھے ۔ 31مارچ کو پاراچنار میں اہل تشیع کے امام بارگاہ کو نشانہ بنادیاگیاتھا جس میں 25افراد جاںبحق ،اور 100سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ 14اپریل 2017 کو ڈیرہ غازی خان میں آپریشن کے دوران رینجرز کے 5جوان شہید جبکہ مقابلے میں 10حملہ آور بھی مارے گئے تھے ۔ 25 اپریل کو کرم ایجنسی میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے کے نتیجے میں 6بچوں سمیت 16افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جس میں تین خاصہ دار بھی شامل تھے ۔22مئی کو جے یوآئی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور ڈپٹی چیئر مین سینٹ عبدالغفوری حیدری کے قافلے کو نشانہ بنایاگیا جس میں 27افراد شہید ہوئے تھے ۔ اسی طرح 23جون کو کوئٹہ کے شہداء چوک میں خود کش حملے کے نتیجے میں 7پولیس اہلکاروں سمیت 14افراد شہید ہوئے تھے ۔ اسی ہی دن خیبرپختوپختونخوا کے ضلع پاراچنار میں یک دیگر دو خود کش حملے کئے گئے تھے جس کے نتیجے میں 80افراد جاںبحق جبکہ 200کے قریب زخمی ہوئے تھے ۔ 10جولائی کو ضلع بلوچستان کے شہر چمن میں خود کش حملے کے نتیجے میں 3جوان جاںبحق جبکہ 20زخمی ،24جو لائی کو فیروز پور روڈ پر خودکش حملے میں 26افراد جاںبحق جبکہ 53زخمی ہوئے تھے ۔ 12اگست کو کوئٹہ میں ہونیوالے حملے میں 8پولیس اہلکار سمیت 17 افراد شہید ہوئے تھے ۔5اکتوبر کو ایک مرتبہ پر بلوچستان کے علاقہ درگاہ پیر ذاخیل میں خودکش حملے میں 21افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔ 18اکتوبر کو کوئٹہ میں ایک بار پھر خودکش حملے میں 8افراد شہیدہوئے ۔ 9نومبر کو بلوچستان کے درالحکومت کوئٹہ میں دھماکے کے نتیجے میں ایس ایس پی سمیت تین پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے ۔ 9نومبر کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں پولیس کے ڈی آئی جی اپنی اہلیہ اور بیٹے سمیت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ۔ 24نومبر کو پشاور کے علاقہ حیات میں ایڈیشنل آئی جی اشرف نور کی گاڑی کو نشانہ بنایاگیا جس میں وہ اپنے سیکورٹی گارڈ کے ہمراہ شہید ہوئے ۔ یکم دسمبر کو پشاور کے ایگری کلچر انسٹیوٹ کونشانہ بنایا گیا جس میں 9طلبہ شہید ہوئے ،17دسمبر کو ئٹہ میں چرچ پر حملہ کیاگیا جس کے نتیجے میں 9افراد جاںبحق اور 85 کے قریب زخمی ہوئے ۔ یہ خونی واقعات سال 2017ء میں رونما ہوئے ۔

باکس
نوٹ :۔یہ عداد وشمار ملک بھر کے اخبارات اور ذرائع ابلاغ سے لئے گئے ہیں اس میں کمی اور پیشی کی گنجائش موجود ہے

Facebook Comments

You might also like More from author