CPJنے پاکستان اور افغانستان کو صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ممالک قرار دیا ہے، رپورٹ

0 318

پشاور ( عبدالبصیر قلندر ) دنیا بھر میں صحافیوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے )نے پاکستان اور افغانستان کو صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ممالک قرار دیا ہے ، کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 1992 سے لیکر اب تک پاکستان میں فرائض کی ادائیگی کے دوران 114صحافی قتل کئے گئے ، 9/11کے بعد افغانستان پر امریکہ اور اس کی اتحادیوں کے حملے کے بعد خطے میں بڑھتی دہشت گردی کے باعث نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان بھی دہشت گردی کی زد میں آیا اور اب تک کئی صحافی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں ، افغانستان میں صحافتی اداروں کی معاونت کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق افغانستان 2017 ء میںصحافیوں اور نشریاتی اداروں کیلئے انتہائی خطرناک رہا اور صحافیوں سمیت اداروں کے 14کارکن دہشت گرد وں کے حملوں کا نشانہ بنے ، ، غیر سرکاری تنظیم "نی "(NAI)کی جاری کردہ رپورٹ میں 2017ء کو صحافیوںکیلئے خونریز سال قرار دیا ہے ، ادارے کے سربراہ عبدالمجیب خلوتگرنے حال ہی میں صحافیوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے متعلق تیار کردہ رپورٹ میں بتایا کہ رواں سال افغانستان میںنشریاتی اداروں پر 127حملوں کے واقعات رونما ہوئے جن میں 23صحافی زخمی ، 21پر تشدد ، 49کو دھمکیاں موصول ہوئیں جبکہ 41کو قید وبند کا سامنا کر نا پڑا ، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے 42صحافی حراساں کئے گئے جبکہ طالبان اور داعش کے ہاتھوں42 صحافیوں پرتشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں ، 2014میں صحافیوں سمیت صحافتی اداروں میں کام کرنے والے 14کارکن جاں بحق ہوئے ، بین الاقوامی ادارہ برائے تحفظ صحافی ( انٹرنیشنل نیوز سیفٹی انسٹیٹوٹ) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 8سالوں کے دوران مرد صحافیوںکی نسبت خواتین صحافیوںکے قتل میں اضافہ ہوا ہے ، گزشتہ سال دنیا بھر میں تین خواتین صحافیوں سمیت 112صحافیوں کو قتل کیا گیا ، سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق رواں سال صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ممالک میں افغانستان، میکسیکو ، عراق، شام اور فلسطین شامل ہیں لیکن 32 صحافی ایسے ممالک میںبھی نشانہ بنائے گئے جن کو صحافیوں کیلئے پرامن قرار دیا گیا ، صحافیوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے ادارہ سی پی جے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کا شمار اب بھی صحافیوں کیلئے خطرناک ممالک میں کیا جاتا ہے۔

Facebook Comments

You might also like More from author