ملت کاپاسباں۔محمدعلی جناح

0 537
https://boskagashkupit.com/zamoskvoreche.html تحریر:مجیب فتح خان خیل
ملت ہوئی ہے زندہ پھراس کی پکار سے
تقدیر کی  اذاں ہیں  محمد  علی  جناح
قائد ملت نے وطن عزیزکواتحاد،اتفاق،ہمت اورنظم وضبط کے ذریعے حاصل کیاہے نہ کسی جنگ وجدل کے ذریعے اورانہی اتحاد، اتفاق اورمحنت کے ذریعے ہمہ صفات قائدمحمدعلی جناح نے تاریکیوںمیںجومشعل روشن کیاہے آج بھی وطن کاہربچہ قائدکااحسان مندہے کیونکہ اس عظیم رہنماء نے اس ملک میںبسنے والوںکیلئے ایک آزادماحول فراہم کیاہے خواہ وہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتاہو۔
قائداعظم محمدعلی جناحبلندشخصیت کے مالک،کردارکی پختگی اوراصولوںپرثابت قدمی کابہترین نمونہ تھے۔شیکسپیئرکہتاہے کہ کچھ لوگ پیداہی عظیم ہوتے ہیںاورکچھ اپنی جدوجہد،کارناموں،اصولوںاورمحنت کی بدولت عظمت حاصل کرلیتے ہیںگوکہ قائدبانئی پاکستان میںعظمت،قابلیت اورنیک نامی کی ساری خوبیاںپیدائشی تھیںاوریہ خوش قسمتی ہمیںنصیب ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے باب السلام سندھ کے مشہورشہرکراچی میں25دسمبر1876بروزپیرجناح پونجاہ کے گھرپیداہونیوالے بچے جس کی پیدائش ہی کے وقت سے لوگوںنے اسے دیکھتے ہی کہناشروع کیاتھاکہ یہ بچہ بڑھاہوکربادشاہ بنے گااوریہ الفاظ اس وقت حقیقت بن گئے کہ جب برصغیرمیںایک آزادمسلم مملکت کے قیام کاودیرینہ خواب جومسلمانان ہندگزشتہ دوصدیوںسے دیکھتے چلے آرہے تھے وہ14اگست 1947کوقائداعظم محمدعلی جناح کی مدبرانہ صلاحیتوں،فہم وفراست اورغیرمتزلزل عزم وہمت،سیاسی بصیرت اوربے مثل قائدانہ صفات سے مسلمانوںکی بقاء وسلامتی کی خاطرایک آزادمملکت خدادپاکستان کی شکل میںمعرض وجودمیںآیا۔
بلاشبہ سیاست میںغیرمتنازعہ رہناکمال کی بات ہے اس کیلئے جس بے داغ اوراجلے کردارکی ضرورت ہوتی ہے وہ ذاتی قربانیوںکے بغیرحاصل نہیںہوتا۔پاکستان کیاپوری دنیامیںاس کی مثال کم ملتی ہے کہ کسی سیاست دان کے کردان کواس کے مخالفین بھی سراہتے ہوں۔قائد ملت سیاسیات عالم کی ایسی ہی بے مثال،غیرمعمولی اورمنفردشخصیت ہیں۔عظمیت کیاہوتی ہے اورکیسے حاصل کی جاتی ہے؟اس بارے میںمفکرین کے اقوال بہت کم مل جاتے ہیں لیکن عظمت کابنیاداصول یہ ہے کہ بے غرض اوربے لوث ہوکربلاامتیازاجتماعی فلاح وبہبودکیلئے ایسے اقدامات اٹھائے جائیںجس سے انسانوںکی ایک بڑی تعداد اجتماعی طورپراستفادہ حاصل کرسکے۔قائدملت عظمت کے اصولوںپرپورااترتے ہیںوحقیقی معنوںمیںتھے قائد ہمارے ان کی بے غرضی کایہ عالم تھاکہ انہوںنے سب سے پہلے سخت ڈسپلن اپنی شخصیت پرنافذکیا۔عیش ،آرام اورتن آسانی کی زندگی انہوںنے کبھی نہیںگزاری انہوںنے اپنی ذاتی کامیابی اور آسائش کیلئے کبھی کوئی کام نہیںکیابلکہ جن سخت ضوابط کی توقع وہ دوسروںسے کیاکرتے تھے ان کی پابندی سب سے پہلے خود کیاکرتے تھے۔کام کام اور صرف کام کااصول دوسروںکیلئے بعد میںاوراپنے لئے پہلے تھااوریہی وجہ سے کہ انہوںنے مختصرسی زندگی میںتخلیق پاکستان کاوہ کارنامہ انجام دیاکہ جس ی نظیرپیش کرنے سے تاریخ قاصرہے اس عظیم مقصدکے حصول کیلئے قائد اعظم  نے ذاتی آرام کوبالائے طاق رکھ اپنی صحت دائوپرلگادی تھی۔
21اگست 1936کوکلکتہ یونیورسٹی میںکے پوسٹ گریجویٹ طلباء سے برصغیرکامردحریت قائداعظم محمدعلی جناح نے فرمایاکہ "آپ اچانک ایک نئی دنیا تخلیق نہیں کر سکتے،حصول آزادی کیلئے آپ کوایک عمل سے گزرناہوگاآپ کوآگ کے دریا،ابتلااور قربانیوںکی راہ سے گزرناپڑیگا،مایوس نہ ہوںقومیںایک دن میںنہیںبناکرتیں،آپ حقائق کا مطالعہ کریں،انکاتجزیہ کریںاورپھراپنے فیصلوںکی تعمیرکریں”
25دسمبراس سے قبل بھی سینکڑوںبارگزرچکاہے کہ مگرموجودہ وفاقی حکومت نے جس اندازسے یوم آزادی اورقائدکی تاریخ پیدائش کادن جس طرح منانے کے انتظامات کئے ہیں وہ دیدنی اورقابل ستائش ہے۔گزشتہ روزبھی وزیرمملکت برائے اطلاعات،نشریات وقومی ورثہ مریم اورنگزیب نے
ڈائریکٹریٹ آف الیکٹرانک میڈیااینڈپبلکیشن اورپاکستان آڈیالوجی ٹرسٹ کی تعاون سے منعقدہ  "ہمارے قائد”(Our Quaid)کے نام سے
منسوب ایک تصاویری  نمائش سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قائد ملت کی وژن اورفلسفہ کوفروغ دینے کیلئے پاکستان مسلم لیگ(ن)کی حکومت کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیںکررہی اورقائد ہی کی وژن اورفلسفہ کی بدولت ملک میںچلینجزکابھرپورطریقے سے مقابلہ کررہے ہیں۔موصوفہ نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے تمام علاقائی دفاترکوباقاعدہ مراسلہ جاری کیاہے کہ قائدکی یوم پیدائش کے موقع پرتقریبات کوبھرپورکوریج دی جائے اورہیڈکوارٹرپریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آبادکوباقاعدہ 30دسمبرتک اس حوالے رپورٹ پیش کیاجائے ۔علاوہ ازیںوزیرمملکت مریم اورنگزیب نے طلباء وطالبات کوخطاب کرتے ہوئے کہاکہ قائدملک کی یوم پیدائش کے حوالے سے کیک کاٹنے کے تقریب کی ویڈیوپاکستان ٹیلی وژن کو0310-580350پر واٹس ایپ کیاجائے جس باقاعدہ نشرکیاجائیگا۔یہ لائحہ عمل اس بات کی عکاسی کرتاہے موجودہ وفاقی حکومت نے قائدکے افکاراوروژن کوفروغ دینے کی جوسعی کررکھی ہے اس سے پہلی شایدکسی نے یہ اقدامات اٹھائے ہوں۔
قائداعظم محمدعلی جناح نے پاکستان کے آنے والی نسلوںکیلئے رہنما اصول چھوڑیںجن کواپناکرہم اپنانام دنیامیںروشن کرسکتے ہیںکیونکہ قائداظم محمد علی جناح نے فرمایاکہ”اسلامی تعلیمات کی درخشندہ روایات وادبیات اس امرپرشاہدہیںکہ د نیاکی کوئی بھی قوم جمہوریت میں ہمارامقابلہ نہیںکرسکتی جواپنی مذہب میںبھی جمہوری نکتہ نظررکھتے ہیں”
جنرل گل حسن اپنی یاداشتوںکی کتاب”آخری کمانڈران چیف” میںلکھتے ہیںکہ قائداعظم بچت کے زبردست حامی تھے،گورنرجنرل ہائوس میں انہوںنے جورہنماء اصول بنائے ان سے تجاوزکرناممکن نہ تھا۔وہ لکھتے ہیںکہ ایک بارمیںنے ان سے پوچھاکہ کابینہ کے اجلاس کے دوران چائے یاکافی پیش کرنے کیلئے وہ کونساوقت پسندفرمائیںگے جواب سادہ اورمختصرتھا”کسی وقت بھی نہیں،ہرشخص کافی یاچائے گھرسے پی کرآئے”
  آج جس آزادی سے ہم فیضیاب ہورہے یہ قائداعظم کی انتھک محنت اوراوربرصغیرپاک وہندک مسلمانوںکیلئے الگ ریاست بنانے کی لگن کا نتیجہ تھا۔وفات سے دوتین دن قبل پروفیسرڈاکٹرریاض علی شاہ کی قائداعظم سے ملاقات ہوئی اورقائدنے ڈاکٹرریاض علی شاہ سے فرمایاکہ تم جانتے کہ جب مجھے یہ احساس ہوتاہے کہ پاکستان بن چکاہے،تومیری روح کوکس قدراطمینان ہوتاہے یہ ایک کٹھن اور مشکل کام تھاجومیںاکیلانہیں کرسکتاتھا میرا ایمان ہے کہ یہ رسول خداکاروحانی فیض ہے کہ پاکستان وجودمیںآیااب یہ پاکستانیوںکافرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کانمونہ بنائیںتاکہ خدااپناوعدہ پوراکریںاورمسلمانوںکوزمین کی بادشاہت دے۔
یوںدی ہمیںآزادی کہ دنیاہوئی حیران
اے    قائد  اعظم    ترا   احسان    ہے    احسان
٭٭٭٭٭٭٭٭
Facebook Comments

You might also like More from author