سلام کی اہمیت وفضلیت تعلیمات نبوی ۖکی روشنی میں

0 521

Андорра Купить закладку кокаин амфетамин гашиш ск мдма go to site  مفتی ابو رملہ

ابتدائے آفرنیش سے تمام قوموںکا ملاقات کے وقت پیار ،محبت جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ مانوس ہونے کے لیے خاص کلمات کا رواج رہا ہے اور آج تک چلا آرہا ہے ہر قوم کا الگ الگ دستور اور طریقہ ہے تاہم اس سلسلے میں اسلام نے مسلمانوں کے لئے ایسے کلمات بتلائے ہیں جو ساری دوسری قوموںسے ممتاز ہے اس سے بہتر کوئی کلمہ محبت وتعلق اور اکرام وخیرا ندیشی کے اظہار کے لئے سوچا بھی نہیں جاسکتا یہ ایک بہترین دعا ہے (السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ)اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو ہر طرح کی سلامتی نصیب فرمائے یہ اپنے سے چھوٹوں کے لئے شفقت اور پیار ومحبت کاکلمہ بھی ہے ۔اگر ملنے والے کا پہلے سے باہمی تعارف موجود ہیں تواس کلمہ میں محبت اور خیر اندیشی کا پورا اظہار ہے اور اگر پہلے سے کوئی تعارف نہ ہو تویہ کلمہ ہی تعلق اور خیر سگالی کا وسلیہ بنتا ہے اور اس کے ذریعہ ایک دوسرے کو گویا اطمینان دلایا جاتا ہے ۔بہرحال ملاقات کے دوران السلام علیکم سے بہتر کوئی کلمہ نہیں کیونکہ ان کے کہنے سے آپس میں تین دعائیں کی جاتی ہیں اس کے برعکس دیگر کلمات مثلا گڈ مارننگ ،ہیلو ،گڈ ایویننگ وغیرہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا نہ دنیوی اور نہ اخروی ۔بالفرض اگر اس کو دعاپر محمول بھی کر دی جائیں تواس صورت میں ان کلمات میں صرف دعا صرف صبح اور شام تک محدود ہے جبکہ السلام علیکم کہنا ایک جامع دعا ہے کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں ۔آپسمیں ملاقات کے وقت السلام علیکم اور علیکم السلام کی تعلیم رسول اللہ ۖ کی نہایت مبارک تعلیمات میں سے ہے اور یہ اسلام کا شعار ہے اسی لئے آپۖ نے ا س کی بڑی تاکید فرمائی اوربڑے فضائل بیان فرمائے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے ارشادفرمایا : لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور مخلوق خدا کو کھانا کھلاؤاور سلام کو خوب پھیلاؤ ،تم جنت میں پہنچ جاؤگے سلامتی کیساتھ۔حدیث مذکور میں تین نیک کاموں کی ترغیب دی گئی ہے اور ان کے کرنے والے کو جنت کی بشارت دی ہے۔ایک اللہ کی عبادت دوسرے محتاج اور مسکین کو کھانا کھلانا تیسرے سلام ڈالنا ۔جواسلامی شعار ہے ۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : تم جنت میں نہیں جاسکتے جب تک پورے مومن نہ ہوجاؤ اور تمہیں ایمان والی زندگی عطا نہیں ہوگی جب تک تم میں باہمی محبت اور بھائی چارہ کا فروغ نہ ہو کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتادوں جس کے کرنے سے تمہارے درمیان محبت پیدا ہوجائے وہ یہ ہے کہ سلام کو آپس میں خوب پھیلاؤ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کہ ایمان جس پر داخلہ جنت کی بشارت اور وعدہ ہے ،وہ صرف کلمہ پڑھ لینے کا اورعقیدہ کانام نہیں ہے بلکہ وہ اتنی وسیع حقیقت ہے کہ اہل ایمان کی باہمی محبت اور مودت بھی اس کی لازمی شرط ہے اور رسول اللہ ۖ نے بڑے اہتمام کے ساتھ بتلایا ہے کہ ایک دوسرے کو سلام کرنے اور اس کا جواب دینے سے یہ محبت دلوںمیں پیدا ہوتی ہے۔حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے ارشادفرمایا : کہ لوگوں میں اللہ کے قرب اور اس کی رحمت کازیادہ مستحق وہ بندہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے ۔حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آپ نے ارشادفرمایا کہ :سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے بری ہے ۔حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ ایک شخص حضورۖ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا ”السلام علیکم ،،آپ نے سلام کا جواب دیا ،پھر وہ مجلس میں بیٹھ گیا ،توآپ نے ارشادفرمایا ”اس بندے کے لئے اس سلام کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی گئیں پھرایک اور آدمی آیا اس نے کہا ”السلام علیکم ورحمة اللہ ،،آپ نے سلام کاجواب دیا اور پھر فرمایا اس سلام کی وجہ سے اس بندے کو بیس نیکیاں لکھی گئیں پھر ایک اور شخص آیا اس نے کہا”السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ،،آپ نے جواب دے کرارشاد فرمایا اس بندے کو سلام کی وجہ سے تیس نیکیاں لکھی گئیں۔لہذا افضل طریقہ یہ ہے کہ ملاقات کے وقت پوراسلام کیاجائے تاہم سلام کی سنت صرف السلام علیکم کہنے سے بھی اداہوجاتی ہے ۔ پھر سلام کرنے میں اس بات کا خاص خیال کررکھا جائے کہ سلام صاف الفاظ سے ہو بعض لوگ سلام کے الفاظ بگاڑ کر سلام ڈالتے ہیں جس سے بعض اوقات دعاکی بجائے بددعابن جانے کا اندیشہ ہے ۔درحقیقت سلام اللہ کا عطیہ ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تواللہ تعالی نے ان فرمایا کہ جاؤفرشتوں کی جماعت بیٹھی ہے اس کو سلام کرواور فرشتے جو جواب دیں اس کوسننا ،اس لئے کہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔لہذا حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جا کرسلام کیا اور فرشتوں نے جواب میں وعلیکم السلام ورحمةاللہ کہا اور ورحمة اللہ کا اضافہ کیا یہ نعمت اللہ نے اسطرح عطاء فرمائی جو ایک بہت بڑی نعمت ہے سلامتی اور عافیت کی دعاہے۔زندگی میں توعافیت سے بڑھ کوئی نعمت ہوہی نہیں سکتا لہذاسلام جیسے بابرکت کلمہ کے ہوتے ہوئے ہماری بہت بڑی بدنصیبی ہوگی کہ اس بابرکت کلمے کو چھوڑ کر ہم اپنے بچوں کو دیگر کلمات کی تعلیم دے رہے ہیں اور دوسری قوموں کی نقالی کریں ۔

Facebook Comments

You might also like More from author