دیر سے تعلق رکھنے والی شادی شدہ خاتون 28سال بعد کرم ایجنسی سے بازیاب

0 521

پشاور ( عبدالبصیر قلندر) دیر سے تعلق رکھنے والی شادی شدہ خاتون بیٹی سمیت 28سال بعد ڈرامائی انداز میں کرم ایجنسی سے بازیاب ،دوران حراست اغواء کاروں نے تشدد کیا جبکہ کرم ایجنسی کے ایک شخص نے دس سال تک حبس بجا میںرکھنے کے بعد زبردستی نکاح در نکاح کروایا، خاتون نے کہا کہ دیر سے تعلق رکھنے والا لکڑہارا میرے لئے فرشتہ ثابت ہوا جنہوں نے مجھے 28سال بعدمیں اپنے گھروالوں سے ملا یا ، زبردستی شادی رچانے والے شخض نے کرم ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ میں چھوٹے بھائی کیخلاف جھوٹ پر مبنی مقدمہ درج کر دیا ہے جس کی وجہ سے خاندان کے افراد ذہنی کوفت کا شکار ہیں، اغواء کاروں کی چنگل سے رہائی پانے والی خاتون مسماة زرہ بی بی نے رونامہ پیام خیبر کو بتایا کہ 28سال قبل وہ شیربالا نہاگ درہ دیر میں پڑوس کے گھر ذاتی کام کے غرض سے گئی جہاں پر پڑوس میں رہنے والے شخص شیر دل اس کو چائے میں نشہ آوار چیز پلا کراوربعد میں اغواکرکے تخت بھائی مردان لے گیا اور بعدازاں کرم ایجنسی میں فضل گل اوراس کے دیگر ساتھیوں پر 30ہزار روپے کے عوض فروخت کیا اس دوران اس پر فضل گل نے دس سال تک ظلمکے پہاڑ توڑے اور بعدمیں زبردستی نکاح در نکاح کیا ، انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل کرم ایجنسی کے علاقے سور سرنگ میںدیر سے تعلق رکھنے والاایک لکڑ ہار آیا جس کو میں نے اپنی اغوا ہونے کی کہانی سنائی اور اس نے میرے بھائیوں کو اطلاع دی اس کے بعد میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ رابطے میں رہی اور موقع پا کر سور سرنگ سے فرار ہو کر اپنے گھردیرواپس آگئی ہوں ، زرہ بی بی نے کہا کہ ان سے زبردستی شادی رچانے والے شخص نے کرم ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے دفتر میں انکے چھوٹے بھائی کیخلاف اغواء کا جھوٹا مقدمہ درج کیا ہے ،بازیاب خاتون نے ناظم یونین کونسل صندل بالا حشمت علی خان اور بھائی خیال زیب کی موجودگی میں 15ستمبر 2017کوتھانہ جاگام دیرمیں تحریری طور پر اقرار کیا ہے کہ انکی بیٹی رضیہ بی بی اپنی مرضی کے ساتھ انکے ساتھ آئی ہے اور اعتراف کیا ہے اب نہ وہ اپنے سابق شوہر شیر اعظم اور نہ ہی زبردستی شادی رچانے والے شخص فضل گل کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ انکی بیوی کے اغوامیں ملوث عناصر سے انکی زندگی کو خطرہ ہے ، متاثرہ خاندان نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، گورنر کے پی اقبال ظفر جھگڑا اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحیٰی آفریدی سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے

Facebook Comments

You might also like More from author