ا للہ کے نام کی عظمت وفضیلت

0 557

                 مولانا رضوان اللہ پشاوری

حضرت ابو ہریرہ  سے مروی ہے کہ رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، (یعنی) سو میں ایک کم، جس نے ان کو(یاد کیا، یا ان کو پڑھا، یا ان کے معانی جانے اور ان پر عمل کیا اور محفوظ کر لیا )وہ جنت میں داخل ہوگا۔(متفق علیہ)

بلاشبہ اللہ جل جلالہ و عم نوالہ و اعظم شانہ کی عبادت و معرفت کا جذبہ اور حوصلہ انسانی فطرت اور طبیعت کا خاصہ اور ایک حصہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ اس دنیا کے انسان نے اپنے خالق وحقیقی مالک کے وجود کو دیکھا تونہیں، لیکن اس کے باوجود جب کبھی اس کی زندگی میں کوئی خوش گوار واقعہ پیش آتا ہے توعموماً جبینِ انسانی میں سجدئہ شکر مچلنے لگتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ اس ان دیکھی غیبی ہستی کا شکر ادا کرے ، ایسے ہی جب کوئی ناگوار حادثہ پیش آتا ہے تو انسانی ہاتھ اسی نادیدہ ذات کی طرف بے اختیار بڑھتے اور پھیلتے ہیںاور آنکھیں اپنے عجز کے اظہار میں اشکبار ہو جاتی ہیں،اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کی تاریخ کا کوئی زمانہ اور کائنات کا کوئی خطہ خدا پرستی کے اس فطری جذبہ سے خالی نہیں رہا ہے ،ہمیشہ سے دنیا والے اسی کو یاد کرتے اور پکارتے ہیں۔

 اللہ جل شانہ کو ہر اس نام سے پکار سکتے ہیں جو اس کے شایانِ شان ہو ،اللہ جل شانہ کی ذاتِ منبع الکمالات کو ملحدین و منکرین کے علاوہ (جن کی تعداد ہر زمانہ میں کالعدم رہی ہے )ہر قوم و مذہب کے لوگوں نے آج تک مختلف ناموں سے مانا اور پکارا ہے اور مانتے اورپکارتے رہیںگے ،کوئی خدا کہہ کر پکارتا ہے تو کوئی گوڈ) (God کہہ کر، کوئی اِشور کہہ رہا ہے تو کوئی پرمیشور،غرض جو جس نام سے بھی اللہ جل شانہ کو یاد کرتا ہے اگر تحقیق کے بعد ثابت ہو جائے کہ و ہ نام اللہ جل شانہ کی الوہیت و عظمت اور ذات و صفات کے خلاف نہیں تو فقہی نقطئہ نظر سے اس نام سے پکار نے میں کوئی مضائقہ نہیں،کیونکہ اللہ جل شانہ خود ارشاد فرماتے ہیں:آپ کہہ دیجیے کہ اللہ جل شانہ کہہ کر پکارو! یا رحمن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو پکار سکتے ہو ایک ہی بات ہے، اس کے بہت سے بہترین نام ہیںیا تمام بہترین نام اسی کے ہیں۔(بنی اسرائیل)

اس آیتِ کریمہ سے دو باتیں معلوم ہوئیں :(1)اللہ جل شانہ کو ہر اس نام سے پکار سکتے ہیں جو اس کے شایانِ شان ہو، خواہ کسی بھی زبان میں ہو، کیونکہ اس کی عظمت والا نام عربی زبان کے ساتھ ہی خاص نہیںاور نہ ہی صرف انسانوں کی زبانوںکے ساتھ خاص ہے ، بلکہ مختلف مخلوقات کی زبانوں پر بھی تواسی کا نام ہے ۔

اگر گوشِ ہوش سے سنا جائے تو پتوں اور کلیوں کی سر سراہٹ،پھولوں کی مسکراہٹ، پرندوں اور چڑیوں کی چہچہاہٹ میں ”اللہ، اللہ ”کی آواز آتی ہے :وَاِنْ مِنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہ(بنی سرائیل)

اس آیت میں اسی کو فرمایا ہے ،جس کامطلب یہ ہے کہ اور کوئی چیز ایسی نہیںہے جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کر رہی ہو۔ معلوم ہوا ہر مخلوق اس کو پکارتی ہے اور پکار سکتی ہے ۔

اللہ جل شانہ کے اسمائِ حسنیٰ :

(2)دوسری بات یہ واضح ہو گئی کہ اللہ جل شانہ کے بہت سے بہتر نام ہیں،بلکہ تمام بہترین نام اسی کے ہیں، اسی کو فرمایا: وَلِلّٰہِ الأَسْماَئُ الْحُسْنیٰ(الأعراف)اور حدیث مذکور میں اس اجمال کی تفصیل کرتے ہوئے سرکار ِ دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اِنََّ لِلّٰہِ تِسْعَةَوََّتِسْعِیْنَ اسْماً حق تعالیٰ کے اسمائِ حسنیٰ کی تعداد ننانوے ہے ، جو شخص ایمان اور عقیدت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے اس کے ننانوے نام محفوظ کر لے ،یا ان کے ذریعہ دعا کرے ،یاان کے ذریعہ اپنے رب کو یاد کرے ، یا ان کے معانی جان کر عمل کرے تو وہ جنت میں جائے گا۔

لیکن یہاں علمائِ محدثین فرماتے ہیں کہ اس تعبیر سے اللہ جل شانہ کے اسمائِ حسنیٰ کی تکثیر بیان کرنا مقصود ہے ، تحدید نہیں، ورنہ ان ننانوے اسمائِ حسنیٰ کے علاوہ بھی اللہ جل شانہ کے ایسے بہت سے نام ہیں جن کا ذکر کلام اللہ اور احادیث ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں نہیں، البتہ ننانوے کا جو عدد ذکر کیا گیا اس کا مقصد یہ ہے کہ حدیث ِ پاک میں اسمائِ حسنیٰ کو یاد کر نے والے کے لیے جنت کی جو فضیلت ہے وہ ان ہی ننانوے ناموں کے ساتھ مخصوص ہے ۔(مظاہرِ حق جدید) اور بعض سلف سے منقول ہے کہ جس نے ’’اللّٰہم‘‘سے دعا مانگی اس نے گویا تمام ہی اسمائِ حسنیٰ کے ذریعہ دعا مانگی ۔( مظاہرِ حق جدید )

پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ جل شانہ کے جتنے بھی اسمائِ حسنیٰ ہیں وہ سب کے سب اس کی الوہیت و ربوبیت اور شانِ عظمت و رفعت،قدرت وقوت، نصرت و حفاظت، محبت و ہدایت،شفقت و سخاوت وغیرہ پر دلالت کرتے ہیں،ان تمام اسمائِ حسنیٰ میں لفظ اللہ اسمِ ذات اور باقی اسمائِ صفات ہیں،جیسا کہ خود قرآنِ پاک کے ارشاد سے پتہ چلتا ہے ،فرمایا:وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں،اسے تمام کھلی چھپی باتوں کا علم ہے ، وہی رحمٰن و رحیم ہے ۔(الحشر)

یہاں اسمائِ حسنیٰ میں لفظ اللہ کو اسم ِ ذات قرار دیا اور موصوف بنایا، اور دوسرے اسمائِ حسنیٰ کو صفت بنایا ہے ، پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس کی عظمتِ شان اس کے ہر ہر عظیم الشان نام سے بھی ثابت ہوتی ہے ۔

ایک حیرت انگیز حکایت :

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق منقول ہے کہ مقامِ نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد اہل و عیال کے نان نفقہ سے مطمئن کرنے کی غرض سے حق تعالیٰ نے حکم فرمایا: موسیٰ! تمہارے قریب جو چٹان ہے اس پر عصا مارو،تعمیل ارشاد میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جب عصا مارا تو چٹان کے دو ٹکڑے ہو گئے اور درمیان سے ایک پتھر نکلا،پھر حکم ہوا کہ اس پتھر پر بھی عصا مارو،حکم کی تعمیل فرمائی تو اس سے ایک اور پتھر نکلا،ارشاد ہوا کہ اس پتھر پر ایک اور ضرب مارو،اب کی بار جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر عصا مارا تو اس میں سے ایک عجیب و غریب کیڑا نکلا،جس کے منہ میں بطورِ غذا ایک ہرا پتہ تھا اور ہونٹ ہل رہے تھے ،کان لگا کر معلوم کیا تو آواز آرہی تھی : ”سُبْحاَنَ مَنْ یَراَنِیْ، وَیَسْمَعُ کَلاَمِیْ، وَیَعْرِفُ مَکاَنِیْ، وَ یَذْکُرُنِیْ، وَلاَ یَنْساَنِیْ”پاک ہے وہ جو اس جگہ بھی مجھے برابر دیکھتاہے ،میری بات کو برابر سنتا ہے ،میرے  مکان اورمسکن سے بھی واقف ہے ،مجھے برابر یاد رکھتا ہے ، بھولتا نہیں ۔(گلستانِ قناعت)

واقعی وہ ایسے ہی بلند و بالا شان والا ہے :

اس کے مثل کوئی چیزنہیں ہے ۔(شوریٰ) مگراس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ

تو دل میں تو آتا ہے ، سمجھ میں نہیں آتا

میں جان گیا تری پہچان یہی ہے مولیٰ!

اللہ جل شانہ کی رفعت :

ظاہر ہے کہ ذات خدا وندی کو ”اللہ” اسی لیے توکہتے ہیں کہ وہ نہایت ہی اعلیٰ و ارفع اور بلند و بالاہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اتنی بلند ہیں کہ پستی کا امکان ہی نہیں،وہ عجز و فنا سے بلند،ضعف و اضمحلال سے بلند،فقر و محتاجی سے بلند،سونے اور اونگھنے سے بلند،کمزوری اور سستی سے بلند،ہر قسم کے نقص و عیب اوروہم و گمان سے بلند ہے ، اس کی بلندی کے سامنے تمام بلندیاں ہیچ ہیں،اس کے علم کے سامنے سب علوم جہالت،اس کی سماعت کے سامنے سب کی سماعتیں بہرا پن، اس کی بصارت کے سامنے سب کی بصارتیں اندھا پن،اس کی فصاحت کے سامنے سب کی فصاحتیں گونگا پن،اس کے وجود کے سامنے سب کا وجود کالعدم اور اس کی بقا کے سامنے سب کی بقا فنا ۔وہ اس قدر بلند و بالا ہے کہ عظمتوں کی معراج اور بلندیوں کی انتہا اسی کے لیے ہے ۔

لفظ”اللہ” حق تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے :

اور یہی وجہ ہے کہ جس طرح اللہ جل شانہ کی ذات و صفات بلند و بالا ہیں، ان میں اس کا کوئی ثانی اور شریک نہیں،اسی طرح اس کا اسم ِ ذات بھی بلند و بالا ہے ، اس میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں،اس لیے علماء نے فرمایا کہ لفظ ”اللہ” حق تعالیٰ شانہ کے ساتھ خاص ہے ،لہٰذا لفظ ”اللہ ” سے حق تعالیٰ ہی کو موسوم کیا جا سکتا ہے ، اس کے علاوہ کسی کو نہیں،چناںچہ ارشاد ربانی ہے :کیا کوئی اور ہے ؟ جو اللہ کے نام سے موسوم ہو۔(سورة مریم)اسکی ایک تفسیر یہی منقول ہے ،اسی لیے اس مبارک نام کا نہ تثنیہ ہے اور نہ جمع ۔(قاموس الفقہ)

لفظ اللہ کی ایک زبر دست خصوصیت یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں لفظ ”اللہ ”تقریباً دو ہزار نوسو چالیس مرتبہ آیا ہے ۔ (حکا یتوں کا گلدستہ) حتیٰ کہ جمہور اہل علم نے تولفظ ”اللہ”ہی کو اسم اعظم قرار دیا ہے ۔(مرقاة )

لیکن قطب ربانی، محبوبِ سبحانی حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر لفظ ”اللہ” زبان سے اس حال میں ادا کیا جائے کہ دل میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کچھ نہ ہو، تب لفظ ”اللہ” اسم اعظم ہے ۔(مرقاة)اور ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ دل اگر غیر سے اور پیٹ حرام سے خالی ہو تو پھر اللہ جل شانہ کا ہرنام”اسم اعظم”ہے ۔

لفظ ”اللہ” تو ایسا بابرکت نام ہے کہ اگر خدا نہ خواستہ غفلت کے ساتھ لیا جائے تب بھی برکت سے خالی نہیں،پھر عظمت کے ساتھ لینے کی کیا فضیلت ہوگی؟

اللہ جل شانہ کا مقدس نام کائنات کی روح :

کیوںکہ اللہ جل جلالہ کا مقدس نام تو اس وقت بھی تھاجب کائنات میں کچھ نہ تھااور اس وقت بھی ہوگا جب کچھ بھی باقی نہ رہے گا،اللہ جل جلالہ کا مقدس نام ہی کائنات کی اصل روح اور جان ہے ، یہ دنیا کی بستی اسی وقت تک آباد رہے گی جب تک کسی ایک کی زبان پر بھی یہ مقدس نام جاری رہے گا،اور جس وقت کوئی زبان بھی ”اللہ، اللہ” کا ورد کرنے والی باقی نہ رہے گی اس وقت بساطِ عالم کو لپیٹ دیا جائے گا،آسمان کی قندیلیں بجھادی جائیںگی،دریائوں اور سمندروں کا پانی خشک ہوجائے گا،نظامِ عالم درہم برہم ہو جائے گا۔(مشکوٰة )

بس ثابت ہوگیاکہ اللہ جل شانہ کی ذات جیسے عظیم ہے اس کا مقدس نام بھی اسی طرح عظیم ہے اور عظمت سے اس کا مقدس نام لینے والا بھی عظیم ہے ۔ حضرت تھانوی  فرماتے ہیں: اللہ رب العزت کا نام اتنا عظمت والا ہے کہ اگر ہم ہزار بار بھی مشک اورعنبر سے اپنی زبان دھو کر اس کا مقدس نام لیں تو اس کے تقدس کا حق ادا نہیں کر سکتے ، لیکن یہ اس کا انعام اور احسان ہے کہ اس نے اپنا مقدس اور عظیم نام ہماری ناپاک اورحقیر زبان پر بآسانی جاری فرمادیا، اب جو اس پاک نام کو وردِ زبان رکھے گا،اس کی زبان اور جسم دونوں پاک ہو جائیں گے ۔ ان شاء اللہ۔حق تعالیٰ ہمیں اپنی معرفت اور اپنے نام کی عظمت نصیب فرمائے ۔(آمین بجاہ سید المرسلین)

جَزَی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّداً صَلّٰی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا ہُوَ أَہْلُہ

٭…٭…٭

Facebook Comments

You might also like More from author