لا الہ کا پاکستان

0 819
کالم:میاں بابر صغیر ساہیوال
13جنوری1948کو اسلامیہ کالج پشاورمیں قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے ایک خطاب کے دوران پاکستان حاصل کرنے کی وضاحت ان الفاظ میں کی”ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کاٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیاتھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں”ہماری بد قسمتی دیکھیں کہ ہم اسلام کو نظام بنا کرآزمانے کی بجائے بندوں کو آزمانے کے چکروں میں پڑے رہے ہم پہلے تو فاطمہ جناح اور ایوب خان کا موازنہ کرتے رہے پھر بھٹو اور ضیاع الحق کا پھر بے نظیر اور نواز شریف یہاں تک کے ہم نے سب کو چانس دے دیامگر کبھی اسلام کو نہ چانس دے سکے ہم جب اسلام کی بات شروع کرتے ہیں تو شیعہ ،سنی ،اہلحدیث،حنفی،بریلوی،دیوبندی نہ جانے کن کن فرقوں کا موازنہ کرنے لگ جاتے ہیںاور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ شیعہ بھائی بھی آگے مزید فرقوں میں بٹ گئے ہیں سنی بھائی بھی اپنے کئی گروپ بنا چکے ہیں اور اہلحدیث بھی مزید تقسیم سے پیچھے نہ رہ سکے اور یوں مزید سب کے فرقے در فرقے بنتے رہے آج بھی ہم متحد ہونے کی بجائے یہ بحث شروع کر دیتے ہیںکہ قائد اعظم کتنے مسلمان تھے جو نا ختم ہونے والی بحث کے سلسلے کو جنم دیتا ہے حالانکہ ہمیں اپنی فکر کرنی چاہیے جو جانے والے تھے وہ تو چلے گئے ان کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو رہا ہو گامگر ہمارے اوپر ابھی بھاری ذمہ داریا ںعائد ہیںہم اپنے فرائض میں کتنی کوتاہیا ں برت رہے ہیںہمیں سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاہیے کیونکہ اگر ہم اپنے آپ کو درست کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہمارے ملک کے ساتھ معاملات اپنے دین کے ساتھ معاملات اور اپنے رب کے ساتھ معاملات بھی خودبخود ٹھیک ہو جائیں گے ہمارے آبائو اجداد ہمارے حق کی خاطر خاک و خون میں تڑپے اور لاالہ کی بنیاد بن گئے یہ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اوپر بھی لاالہ کا نفاذ کریںہمارے نبی کریم ۖ نے آج تک کبھی کسی کو تلوار کے زور پر یا پھر ڈرا دھمکا کر مسلمان نہیں کیا تھابلکہ کافر خود ان کا حسن سلوک اور اللہ تعالی کی طرف سے ان کو دی گئی تعلیمات پر عمل سے متاثر ہو کرمسلمان ہوتے تھے آپ نبی کریم ۖ کے دور میں توکسی بھی مذہب کا پیرو کار آپ ۖ کی پناہ میں آکر خود کو سب سے زیادہ محفوظ تصور کرتا تھاآپۖ نے کبھی یہ نہیں کہاکہ پہلے مسلمان ہو جائوتو پھر تمہاری بات سنوں گایا پھر تمہیں پناہ دوں گالیکن ہم اپنی طرف نظر دوڑائیں تو نظریں شرم سے منوں مٹی تلے دب جاتی ہیںکیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیاکہ آج تک ہمارے ملک میں اسلام کیوں نہیں نافذ ہو سکاجب بھی ہمارے ملک میں اسلام کے نفاذ کی بات کی گئی تو ہمارے اندر کی فرقہ پرستی جاگ جاتی ہے اور پھر ہم کبھی نا ختم ہونے والی جنگ کا آغاز کر دیتے ہیںکبھی اپنے آپ سے لڑتے ہیں تو کبھی اپنے بھائی سے بات تو ہم کسی سے کرتے ہی نہیں ہیںکیونکہ ہم پہلے ہی اپنے اندر ایک فیصلہ نافذ کر چکے ہوتے ہیںبات اسلام کی فتح و شکست کی نہیں ہوتی بلکہ ہماری ناک و عزت کی ہوتی ہے ہماری اپنی "میں” سے بڑھ کر اس دنیا میںہمیں کوئی چیزبڑی نہیں ہوتی ہمیں تو معاملے کا اتنا علم بھی نہیں ہوتامگر کیا کریں ہمیں اب یہ عادت سی ہو چکی ہے کہ ہم اپنے ناقص علم کی دوسروں سے تعریف کروانا پسند کرتے ہیںبس دو چار دفعہ تعریف کیا ہوئی ہم تو عالموں سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لیتے ہیںاور پھر کسی بھی بات کی تحقیق کرنے یا کسی سے متفق ہونے کی بجائے اپنے نئے گروپ کا آغاز کر لیتے ہیںہماری تعلیمات کو غیروں نے نا صرف اپنے اوپر نافذ کیابلکہ ان پر تحقیق بھی کی اور موجودہ سائنس کے تجربات سے اسے ثابت بھی کیاان تعلیمات کو جو ہمارے مذہب نے چودہ سو سال پہلے ہمیںمہیا کر دی تھیں آج کے ترقی یافتہ ممالک میں ان پر کتابیں لکھی جارہی ہیںاور وہ سائنسدان اور محقق بھی بڑے حیران ہوتے ہیں کہ جو معاملہ ہمیں قرآن و حدیث میں بتایا گیا تھاانہیں اسکا ثبوت حاصل کرنے میں پوری زندگی لگ گئی جبکہ ہم چودہ سو سال پہلے بتائی گئی باتوں پر تب یقین کرتے ہیںجب سائنس کے تجربات سے وہ ثابت ہو جاتی ہے یعنی ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ سائنس کے ثبوت دیکھ کر شرمندہ ہونے کی بجائے مزید ڈھیٹ بن جاتے ہیںاس کے بر عکس کسی کی معمولی سی غلطی یا باتوں میں اختلاف پر فوراً اس کا دین سے خارج ہونے کا سرٹیفکیٹ یعنی اس پر کفر کا فتویٰ جاری کر دیتے ہیںآج علمائے ا کرام کو دہشت گردی کا نشانہ صرف تعصب اور فرقہ واریت کی بنیاد پر بنایا جارہا ہے وہ شخص جو ساری عمرعلم حاصل کرکے بالآخر عالم کا درجہ حاصل کرتاہے وہ چاہے جس فرقے کا بھی ہو تمام فرقوں کے لیے تمام مذاہب کے لیے قابل احترام ہونا چاہیے لیکن ہم ہیں کہ جعلی عالموں ، پیروں ،فقیروں کا تو احترام کرتے ہیںان کے لیے جان کی بازی تک لگا دیتے ہیںمگرہمارے علم اور اعمال کا اثاثہ وہ علماء اکرام جنہوں نے حاصل کیا ہو ا علم دوسروں تک پہنچانا ہے ان کی مختلف طریقوں سے تذلیل کی جاتی ہے کیا ہم نے اسی لیے یہ ملک حاصل کیا تھااتنی تذلیل تو ہندوستان میں ہندو اور انگریز بھی مسلمانوں کی نہیں کرتے جتنی ہم اپنے بھائیوں کی کرتے ہیںاپنے ہم وطنوں کی کرتے ہیںہماری انتہا پسندی کا نقصان کسی اور کو نہیںہمارے اپنے ہی گھر کو ہو رہا ہے ہم خود اپنے گھروں کو آگ لگا کر تماشا دیکھ رہے ہیںہم نا تو خود آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیںاور نا ہی باہر سے کسی کو مدد کے لیے آنے کا کہتے ہیںہمیں خوف تو اپنے گھر والوں سے ہوتا ہے لیکن ہم ظاہر یہ کرتے ہیںکہ ہمیںباہر والوں سے خوف محسوس ہوتا ہے کاش کہ اب بھی ہم جان جائیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہے اور تفرقے کی لعنت کو ختم کرنا ہے ایک دوسرے کی بات اور مسلک کا احترام کرنا ہے ساری دنیا ہمارے خلاف متحد ہو کر بیٹھی ہوئی ہے پہلے تو وہ گِدھوں کی طرح باہر بیٹھے ہمارا انتظار کر رہے تھے کہ جیسے ہی ہم باہر نکلیں گے وہ ہمیں نوچ کھائیں گے مگر اب سارے گِدھ ایک ایک کر کے ہمارے گھروں میں داخل ہو گئے ہیںاور جہاں ان کو کوئی نظر آتاہے اسے نوچ لیتے ہیںہمارے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے ہمیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے معافی مانگنی چاہیے اور اپنا اور اپنے بھائیوں کا مل کر تحفظ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں راہ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
Facebook Comments

You might also like More from author