اسلام کی معاشی تعلیمات

0 801

https://suniowset.com/kotui-kupit-zakladku-kokain-geroin-gashish-spais-ekstazi-mefedron-amfetamin-mdma-shishki-boshki.html enter site  گوہراقبال خٹک

go اسلام ہر مسلمان کے لیے ضابطہ ہے ۔یہ محض پوچاپاٹ کا مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انسانی زندگی کے ہر باب سے متعلق اس کی ہدایات موجود ہیں ۔کوئی شعبہ ایسانہیں جو اسلامی تعلیمات سے خالی ہو ۔چنانچہ اسلام نے انسان کی زندگی کے معاشی پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا بلکہ اس میدا ن میں کافی شافی تعلیمات بھی بیان کیے ہیں بلکہ حضور ۖ نے اپنے عملی زندگی سے اقتصادیات کا مکمل نظام پیش کیا ہے اور ریاست مدینہ میں اسی نظام کو عملی شکل بھی دی اور سیرت طیبہ کی روشنی میں پھر خلفائے راشدین اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عہد مبارک میں لوگ اس خوشحال اور آسودہ حال اسلامی معیشت سے فیض یاب ہوتے رہے ۔اسلامی معاشیات کا بنیادی ڈھانچہ مغربی معاشیات سے یکسر مختلف ہے ۔مغربی معیشت کی طرح اسلام دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو جائز نہیں سمجھتا ہے ۔اسی طرح مغربی معاشی تعلیمات میں اخلاقیات کو کوئی کردار نہیں بلکہ وہاں معیشت میں خودغرضی جائز ہے جبکہ اسلام نے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا ہے ۔اور اس ضمن میں اخلاقی پابندیاں لگائے ہیں ۔ذاتی منافع کی خاطرایک طرف دولت کمانے کی ترغیب دی ہے تودوسری طرف یہ تعلیم بھی دیا ہے کہ سب کچھ یہ دنیانہیں بلکہ یہ مسافر گاہ ہے اس کے بعد بھی نہ ختم ہونے والی زندگی ہے ۔انسان کی ساری توانائیاں اور ساری جدوجہد کا مرکز یہ دنیا ہوجائے ،یہ بات اسلام کے بنیادی مزاج کے خلاف ہے ۔معاشی زندگی میں قناعت کی تعلیم دیتا ہے ا۔آج ہم نے قناعت کے پہلو کو نظرانداز کیا ہے سوکمانے ولا ہزار کمانے کی کوشش کرتا ہے جبکہ ہزار ولا دوہزار کمانے کی فکر میں لگا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چین وسکون مال دولت میں برکت نکل گیا حالانکہ ہر چیز میں فروانی ہے تاہم پھر بھی ہر کس وناکس مالی پریشانیوں کارونا رورہا ہے نہ سوکمانے والا خوش ہے نہ ہزار والا ۔ اللہ کی ذات پر توکل اور بھروسہ ختم ہونے کانتیجہ یہی ہے کہ آج معاش کی فکر نے انسان کو بھیڑیا بنایا ہے ۔ذرائع آمدن میں جائز وناجائز کا تصور ہی ختم ہوچکا ہے ۔زندگی کے حرام بیمے ،رشوت ،کرپشن ،خیانت اور سود کی شرح میں روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ یہ خرابیاں تب ختم ہونگے جب ہمارا معاشی نظام اسلامی تعلیمات کے موافق ہوجائے ۔یہ سماجی برائیوں ،بدعنوانیوں اور معاشی ناہمواریوںکا بنیادی وجہ معاشی ناانصافی ہے ۔معاشی ناانصافی کوختم اور دولت کی منصفانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لیے شریعت نے ان تمام راستوں کو بندکرنے کا حکم دیا ہے جن کے ذریعے دولت کا بہاؤ کسی فرد واحد یا معاشر ے کے ایک مخصوص طبقہ کی طرف مڑجائے ۔دوسری طرف زکوة ،صدقات ،کفارات ،وارثت جیسے واجبی اور نفلی احکام بھی دیے ہیں جن کے ذریعے دولت مستحقین اور ضرورت مندوں تک پہچنتی ہے ۔نبی ۖ نے قبیلہ حضر کے ننگے پاؤں ننگے جسم اور افلاس زدہ لوگوں کو دیکھا توپریشان ہوگئے اور اس وقت تک چین نہ آیا جب تک ان کے کھانے پینے اور دوسری ضروریات کا اہتمام نہ ہوگیا ۔آ پۖ نے اس امر کو ایمان کے منافی قراردیا ہے کہ ایک آدمی خود سیر ہو کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکے ہی گزارے
نظام کفالت اور بیت المال سسٹم کو رائج کرنے کابنیادی مقصد یہی تھا کہ ملکی وسائل اور پیداوار میں مفلوک الحال اور حاجت مندطبقہ بھی شریک کیا جائے لہذا قرآن مجید میں ارشادربانی ہے: ”کہ مالدار کے مالوں میں صدقہ وصول کرکے ان کو بری صفات سے پاک کردو اور ان کو اچھی صفات میں بڑھا ؤ اوران کے حق میں دعائے خیر کرو،،
محسن انسانیت ۖ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”اللہ نے مسلمانو ں ایک صدقہ فرض کیا ہے۔جوا ن کے مال داروں سے لیا جائے گا اور کے حاجت مندوں پر لوٹادیا جائے گا ۔دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے ضروری ہے کہ ہم ملکی نظام معشیت سے سود کا فی الفور خاتمہ کردے ۔آپۖ سود کو بدترین عنصر قرار دیا ہے ۔قرآن حکیم میں اسے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف کھلی جنگ قراردیا گیا ہے ۔حضورۖ نے فرمایا کہ:”سودکے ستردرجے ہیں ،اور سب سے کم گناہ کا درجہ ایسا ہے جیسے ماں سے زنا کیا جائے ،،اسی سود ی نظام کا نتیجہ یہی ہے کہ قوم کے لاکھوں افراد کے جمع شدہ سرمایہ پر جو نفع حاصل ہوتا ہے واہ اس سودی نظام کی وجہ سے ساراکا سارا چند سرمایہ داروں کی جیب میں چلاجاتا ہے جو بینک سے لاکھوں روپے قرض لیکر بڑی بڑی تجارتیں کرتے ہیں اور عوام کو نہایت معمولی رقم سود کی شکل میں ملتی ہے اورپھر یہی سرمایہ دار مارکیٹ کے بے تاج بادشادہ بن جاتے ہیں جب چاہتے ہیں مصنوعی قلت پیدا کردیتے ہیں ۔ہمارے بیشتر اقتصادی اور سماجی مسائل کا سبب یہی ہے یہ معاشرے میں بہت سی خرابیوں کی بنیاد ہے ۔آج جو ہمارا ملک بیرونی قرضہ جات میں جکڑا ہوا ہے ۔یہ سودی نظام کی برکت ہے ،اس نظام نے توپاکستان کی معیشت کو تہس ونہس کرڈال دیا ایک طرف قرآنی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کو پس پشت ڈال دیا اور اللہ کے خلاف کھلم کھلا جنگ لڑرہے ہیں تودوسری طرف پھر معاشرتی زبوں حالی ،رشوت ،سمگلنگ اور رزق میں بے برکتی کی شکایت بھی کررہے ہیں ۔آج ہم اپنے معاشرے کا اس آیت کریمہ میں اگر میں جائز لینں تویقینا ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم اس وقت واقعی وعید اور عذاب کی زد میں ہے جو سودی معیشت کا بالواسطہ یا بلاواسطہ نتیجہ ہے ۔اسلام نے اپنے معاشی تعلیمات میں بازاروں اور منڈیوں میں چند افراد کی اجارہ داری کاسد باب بھی کیا ہے اس سلسلے میں آپۖ نے بیع الحاضر للبادی سے منع فرمایا ہے آ پۖ نے غیر قانونی معاشی اجارہ داری حاصل کرنے والے قوموں کے خلاف عملی اقدامات فرمائے ۔آپ ۖ نے بازاروں کی خود نگرانی فرمائی اور احتکار وغیرہ سے منع فرمایا ہے ۔اسلام کی معاشی تعلیمات میں کفالہ عامہ ،عطیات اور زکوٰةسسٹم انتہائی بنیادی اہمیت کا حامل ہے آپۖ نے مدنی ریاست میں انہی کوقائم فرمایا ۔معیشت میں سادگی اور کفایت شعاری کی تعلیم دی ہے۔اسراف اور خیانت سے منع فرمایا ہے ۔ ۔مدنی ریاست میں آپۖ نے غربت کو اسلام کے معاشی نظام کے ذریعے سے ختم کرنے کی کوشش کی۔زکوٰة کو بطور اجتماعی سوشل سیکورٹی سسٹم رائج کیا ۔ذخیرہ اندوزی،ناپ تول میں کمی ،سود،اسراف سے منع فرمایا ۔مضاربہ ،مشارکہ ،اجارہ ،مرابحہ ،قرض حسنہ اور بیت المال سے سودکا متبادل نظام رائج فرمایا۔اقتصاد ی میدا ن میں یہ بھاگ دوڑ تب ختم ہوگا جب حکومت کا اقتصادی نظام اسلامی اصولوں کے مطابق ہوجائے ،بیت المال اورکفالہ سسٹم کو رائج کیا جائے ۔حضور ۖ کے زمانے میں بھی اگر کوئی شادی کا اخراجات خود برادشت نہیں کرسکتاتھا تواپۖ خود فرمایا کرتے تھے کہ اس کی شادی حکومت کروائے گی اورا س کا قرضہ بیت المال اداکرے گا ۔ساتھ ہی ساتھ ہی اللہ کی ذات پر بھروسہ کے ذریعے بھی معاش کی فکر کوشکست دیا جاسکتاہے۔

Facebook Comments

You might also like More from author