‎پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے چینی اور آٹے بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو قرار دے دیا ۔

یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے ، چیف جسٹس آف پاکستان کو سو موٹو لینا چاہئیے۔

0 113

لاہور(بیورو رپورٹ):‎پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے چینی اور آٹے بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو قرار دے دیا
چینی اور آٹے کی قیمت کو عمران صاحب کے حکم پہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کنٹرول کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے ، چیف جسٹس آف پاکستان کو سو موٹو لینا چاہئیے ۔‎ملک کی ۴۰ فیصد چینی کی پیداوار جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کنٹرول کرتے ہیں ۔
چینی اور آٹا بیچنے والوں کو چینی اور آٹا سستا کرنے کی ذمہ داری دے دی واہ عمران صاحب واہ پھر کہتے ہیں میں کرپٹ نہیں ہوں۔ ‎عمران صاحب پانچ دن میں جب سے آہ نے اِن دونوں کے زمہ داری سونپی ہے چینی کی قیمتوں میں 20 روپے اضافہ ہوچکا ہے ۔
‎چینی کی قیمت کنٹرول کرنے کی ذمہ داری جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو دینا بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھانا ہے۔ ‎چینی کی قیمت کنٹرول کرنے کی ذمہ داری جہانگیرترین اور خسرو بختیار کو سونپنا مفادات کے ٹکراو کی بدترین مثال ہے
‎ملک میں چینی کی چھ ملین ٹن مجموعی پیداوار میں سے 40 فیصد جہانگیر ترین اور خسروبختیار کنٹرول کرتے ہیں، ان سے کون حساب لے گا؟
کیا ن اکائونٹیبیلٹی بیرو کو نظر نہیں آ رہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں ہو رہا جسے اُن کی زبان میں “مس یوز آف اتھارٹی “کہتے ہیں ؟
‎ملک کی تاریخ میں پہلی بار سیزن میں چینی کی قیمت بڑھنا عمران صاحب کے حکم پر دوستوں کی کاروائی اور ڈاکہ ہے۔ ‎جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کے ہاتھ میں کنٹرول رہا تو چینی کی قیمت 100 روپے کلو ہونے کا خطرہ ہے۔ ‎گنے کی فصل زیادہ ہونے کے باوجود چینی کی قیمت میں اضافہ منافع خوری اور سرکاری سرپرستی میں ڈکیتی ہے۔
‎عمران صاحب گزشتہ سال جنوری 2018ءمیں چینی کی قیمت 50 روپے کلو تھی، جنوری 2019ءمیں 85 روپے کلو ہوچکی ہے۔‎پاکستان کے قریب ترین تھائی لینڈ سے چینی درآمد کریں تو پاکستانیوں کو 40 روپے کلو چینی ملتی ہے۔
‎مسلم لیگ (ن) پر انڈے، چینی، مرغی کی قیمت کنٹرول کرنے کا الزام لگانے والے آج دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہے ہیں

Facebook Comments