کیا مسلم ممالک ایران کے لیے متحد ہو پائيں گے؟

0 135

نئے سال کا آغاز ایران کے لیے زیادہ اچھا نہیں رہا۔ تین جنوری کو امریکہ نے ایران کے اہم ترین کمانڈرز میں سے ایک جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا۔
ایران میں اس پر سخت غم و غصہ دیکھا گیا اور سڑکوں پر جنرل سلیمانی کی حمایت میں عوام کا سیلاب نکل آیا۔ ایران نے انتقام کی بات کی لیکن کچھ خاص نہیں کرسکا۔
ایران اس مشکل وقت کے دوران بالکل تنہا نظر آ رہا ہے۔ نہ صرف وہ پوری دنیا میں تنہا نظر آیا بلکہ مسلم ممالک بھی اس کے ساتھ کھڑے نظر نہیں ا رہا۔
ملائیشیا واحد مسلمان اکثریتی ملک تھا جو ایران کی حمایت میں کھڑا ہوا۔ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد دنیا کے سب سے عمر رسیدہ وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم ممالک متحد ہوجائیں۔
ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بارے میں مہاتیر محمد نے کہا کہ یہ غیر اخلاقی ہے اور متنبہ کیا کہ دنیا جسے ’دہشت گردی‘ کہتی ہے اس موت سے اسے مزید توانائی حاصل ہوگی۔
انھوں نے کہا ’اب ہم لوگ محفوظ نہیں ہیں۔ اگر کوئی کچھ کہتا ہے اور دوسرے کو وہ پسند نہیں آتا تو وہ ایک ڈرون دوسرے ملک بھیجتا ہے اور اسے مار ڈالتا ہے۔‘
ایران پر امریکی پابندیوں کے باوجود ملائشیا کے سعودی عرب کے مقابلے میں ایران سے بہتر تعلقات ہیں۔ مہاتیر نے کہا تھا کہ سلیمانی کی موت کے بعد یہ ایک اچھا موقع ہے کہ تمام مسلمان ممالک متحد ہوجائیں۔
کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مہاتیر محمد مسلم دنیا کو متحد کرنے کی بات ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب عالم اسلام پہلے سے کہیں زیادہ الجھا ہوا ہے۔

Facebook Comments