کورونا وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ چین کے گوانگ ڈونگ صوبے میں اس انفیکشن کے دو کیسز انسان سے انسان میں منتقلی کی وجہ سے ہوئے۔

0 142

چین کے علاقے ووہان سے شروع ہونے والے نئے وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق کے ساتھ اس سے مرنے والے افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے جبکہ یہ وائرس اب ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پھیل رہا ہے۔
کورونا وائرس کی اس نئی قسم کا تازہ شکار 89 سالہ ایک بزرگ شخص بنے جو چین کے شہر ووہان میں رہتے تھے۔
چین میں اس وائرس سے متاثرہ 200 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر ووہان میں ہوئے جبکہ بیجنگ، شنگھائی اور شینزین میں بھی لوگوں کو سانس کی تکالیف کی شکایت ہوئی ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چین کے گوانگ ڈونگ صوبے میں اس انفیکشن کے دو کیسز انسان سے انسان میں منتقلی کی وجہ سے ہوئے۔
ایک الگ بیان میں ووہان میونسپل ہیلتھ کمیشن نے کہا ہے کہ ووہان میں کم از کم 15 طبی کارکن بھی اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ ان مریضوں کو علاج کے دوران الگ رکھا جارہا ہے۔
جنوبی کوریا نے بھی پیر کے روز اپنے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے جبکہ تھائی لینڈ میں دو اور جاپان میں بھی ایک کیس سامنے آیا ہے۔ متاثرہ افراد حال ہی میں ووہان سے واپس آئے تھے۔
ان کیسز میں تیزی سے اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاکھوں چینی باشندے نئے قمری سال کے موقع پر سفر کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ وائرس چین کے وسطی شہر ووہان سے پھوٹا، جس کی آبادی ایک کروڑ دس لاکھ کے قریب ہے۔
پیر کو اس کے 136 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ اس سے پہلے شہر میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 62 تھی۔
اتوار کی شام تک حکام کا کہنا تھا کہ 170 افراد کا ہسپتالوں میں علاج جاری ہے جن میں سے نو کی حالت نازک ہے۔
یاد رہے کہ سائنس دانوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک عجیب و غریب وائرس کی وجہ سے چین میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سرکاری طور پر بتائی گئی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ تاہم برطانوی ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد 1700 کے قریب ہے۔

Facebook Comments