کشمیرجلد آزاد ہوگا مشکل وقت سے نکلیں گےایک عظیم قوم بنیں گے:عمران خان

0 108

مظفر آباد(صباح نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی حکمران گھبرائے ہوئے ہیں کیونکہ وہ پھنس گئے ہیں نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں چھ ماہ قبل جو قدم اٹھایا ہے،اس قدم کی وجہ سے کشمیر جس طرف جائے گا یہ میرا ایمان ہے کہ کشمیر اب آزاد ہو گا ۔
نریندر مودی پانچ اگست کو وہ مہک غلطی کربیٹھا ہے جس سے وہ اب پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔پانچ اگست کو نریندر مودی جو کر گیا ہے یہ کشمیر کی آزادی کا راستہ ہے۔ جدھر نریندر مودی بھارت کو لے گیا ہے اب وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا، یہ اگر پیچھے ہٹ بھی گیا تو جو انتہا پسندہندونیشنل ازم کا جن بوتل سے نکل گیا ہے وہ واپس بوتل میں نہیں جائے گا۔
اب کشمیر اب آزادی کی طرف جائے گا۔ دنیا نے پہلی دفعہ دیکھنا شروع کیا ہے، اگر آج اس طرح نہیں دیکھ رہی تو یہ ہر مہینے سین بدلے گا۔ ہمارا کام ہے اب دنیا کو آگاہ کریں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب ہرفورم پر اس کو مزید تیزی سے بڑھائیں گے۔ ایک ایک سربراہ ریاست سے میں نے بات کی اور تین مرتبہ میں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھایا کہ کشمیر کا مسئلہ کیا ہے،مجھے کبھی بھی کرپٹ لوگوں سے جو ملک سے پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے ہیں سے مفاہمت کرنے کا نہ کہیں، ذاتی کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہے،میرے گھر میں کوئی چوری کرتا ہے اور میرے گھر کو مقروض کردیتا ہے تو کیا میں اس سے دوستی کر لوں۔
ان خیالات کا وزیر اعظم عمران خان نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کی صدارت اسپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے کی۔ جبکہ اجلاس سے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان ، قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یٰسین ، تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، مسلم کانفرنس کے ملک نواز ،جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرشید ترابی اور سردار حسن ابراہیم خان نے بھی خطاب کیا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ایک جمہوریت پسند انسان ہوں، میں جمہوریت پسند کوئی اقتدار کی خاطر نہیں ہوں ۔ دنیا کی تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جمہوریت کی جتنی بھی بری حالت ہو وہ سب سے بہتر نظام ہے۔ جتنی بہتر جمہوریت ہو گئی اتنی ہی خوشحالی ہو گی اور جتنی بہتر جمہوریت ہو گئی اتنی اس ملک میں غربت کم ہو گی۔ جمہوریت کا مطلب میرٹ کی بالادستی۔ ان کا کہنا تھا وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اتفاق رائے پیدا کرنے کی بات کی میں اس سے متفق ہوں۔
مسئلہ ایک ہے کہ اگر آج دنیا کے سب سے خوشحال ملک دیکھیں اور دنیا کے غریب ترین ملک دیکھیں تو اس بات کا احساس ہو گا کہ خوشحال ملک اس لئے خوشحال نہیں ہیں کہ اللہ تعا لیٰ نے ان کو وسائل دیئے ہیں اور غریب ملک اس لیے غریب نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وسائل نہیں دیئے۔ خوشحالی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس صاف ستھری حکومت ہے اور کرپشن نہیں ہے۔
سب سے زیادہ وسائل غریب ملکوںکے پاس ہیں جن میں کانگو اور نائیجریا شامل ہیں وہ تیل پر بیٹھے ہیں تاہم کرپشن کی وجہ سے غریب ترین ملک ہیں۔ میری ذاتی کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ میرے گھر میں کوئی چوری کرتا ہے اور میرے گھر کو مقروض کردیتا ہے تو کیا میں اس سے دوستی کر لوں۔ عمران خا ن نے ایک شعر پڑھا

مفاہمت نہ سکھا جبرناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے مجھے کسی بلا سے
ان کا کہنا تھا کہ مجھے کبھی بھی کرپٹ لوگوں سے جو ملک سے پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے ہیں ، مہربانی کر کے مجھے کبھی ان سے مفاہمت کرنے کا نہ کہیں۔جو ادارہ کھول کر دیکھتا ہوں اس کے پیچھے کرپشن ہے اس کو کنگال کیا گیا ہے، پی آئی اے لیں، بجلی لے لیں، گیس لے لیں، جو بھی لیں اس کے پیچھے کرپشن نظر آئے گی۔ یہ ذاتی لڑائی نہیں ہے یہ میرے ملک کی لڑائی ہے۔
چین جو آج ترقی کر گیا ہے انہوں نے پانچ سالوں میں 450وزیروں کو جیل میں ڈالا ہے۔امریکہ یا دیگر ممالک کو دیکھیںوہ 30 ،30سال بعد جن لوگوں نے کرپشن کی ہے ان لوگوں کو پکڑ کر جیل میں ڈالتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی پارلیمنٹ کو ایک بات کہنا چاہتاہوں کبھی اپنے اندر مایوسی نہ لے کرآئیں کیونکہ مایوسی گناہ ہے۔قوموں پر مشکل وقت آتا ہے اور ہم سے زیادہ مشکل وقت قوموں پر گزرا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز پسند ہے وہ مشکل وقت میں صبر کرنا ہے۔ مجھے پہلے دن سے کبھی اس بات پر شک نہیں ہوا کہ ہم مشکل وقت سے نکلیں گے بھی اور ایک عظیم قوم بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے ساری الیکشن مہم اس بنیاد پر چلائی کہ وہ کیسے پاکستان کو سبق سکھائے گا اور آر ایس ایس کا فلسفہ اوپر لے کر آیا۔ پانچ اگست کے بعد پہلی بار میں نے پاکستانی قوم کو بتایا کہ آر ایس ایس کا فلسفہ کیا ہے، یہ اس کا حصہ تھا جو اس نے کشمیر میں کیا۔
میں کشمیر اسمبلی میں آیا اور میں نے وعدہ کیا کہ میں کشمیر کا سفیر بنوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے پوری کوشش کی اور جس بھی فورم میں گیا میں نے بتایا کہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے اور دنیا کے سامنے میں آر ایس ایس کا فلسفہ لے کر گیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے صرف سربراہان ریاست کو ہی ٹیلی فون نہیں کیا بلکہ میں نے ہر فورم کا استعمال کیا۔ میںمغربی دنیا کو پاکستان میں زیادہ تر لوگوں سے بہتر جانتا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ ان کو ایک دفعہ کہنے سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ ان کے کمرشل مفادات ہیں، تاہم مجھے پتہ ہے کہ مغرب کس چیر سے متاثر ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مغربی اخبار میں نازی فلاسفی کو کسی فلاسفی سے جوڑ دیں تو ناممکن ہے کہ اس کے بعد اسے نظر انداز کریں، یہ ان کی نفسیات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے نظریہ سے سب سے زیادہ خطرہ تو بھارت کو ہے۔ بھارت میں اس فلسفہ سے کم از کم 50کروڑ لوگ متاثر ہوں گے، مسلمان 20کروڑ ہیں۔تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جب بھی نسل پرستی اور قومیت کا جن بوتل سے نکلتا ہے اور یہ دوسری کسی انسانی کمیونٹی کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں توکہیں بھی اٹھا کر دیکھ لیں اس کے بعد خون ہی ہوتا ہے اور تباہی مچتی ہے۔
کراچی میں لسانی بنیادوں پر نفرتیں پھیلادیں اور کراچی کی تباہی کر کے رکھ دی اور کراچی کے اندر کتنے ہزار لوگ مارے گئے۔جب بھی آپ نفرتوں کے اوپر کوئی نظریہ بناتے ہیںاس میں ہمیشہ خون خرابہ اور تباہی ہوتی ہے۔ اب اس سے بھارت کو خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے لوگوں کو کہتا ہوں کہ آپ کو مایوس نہیں ہونا چاہیئے۔ اس وقت ہمیں سب سے زیادہ تکلیف اس بات پر ہے کو 80لاکھ کشمیریوں سے جو ہورہا ہے،ایمان ہے کہ وہ یہ تکلیف تووہ سہہ جائیں گے کیونکہ تکلیف تو ان کو پہلے بھی تھی اور برے حالات پہلے بھی تھے لیکن یہ اب منزل کی طرف جائے گا۔
نریندر مودی بھارت کو لے گیا ہے اب وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا، یہ اگر پیچھے ہٹ بھی گیا تو جو انتہا پسندہندونیشنل ازم کا جن بوتل سینکل گیا ہے وہ واپس بوتل میں نہیں جائے گا۔ اب وہ وقت ہے کہ کشمیر اب آزادی کی طرف جائے گا۔ دنیا نے پہلی دفعہ دیکھنا شروع کیا ہے، اگر آج اس طرح نہیں دیکھ رہی تو یہ ہر مہینے سین بدلے گا۔ ہمارا کام ہے اب دنیا کو آگاہ کریں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب ہرفورم پر اس کو مزید تیزی سے بڑھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر فورم پر ہمارا سب کا کام ہونا چاہیئے کہ دنیا کو یاد کروائیں کہ بھارت نے کھلی جیل میں 80لاکھ لوگوں بند کیا ہوا ہے، یہ زیادہ دیر نہیں کرسکتے۔
آگے صورتحال مزید خراب ہو گی اور بھارت کی صورتحال بھی بگڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نردیندر مودی نے پریشانی کے عالم میں کہا کہ ہم پاکستان کو 11 روز کے اندر فتح کرسکتے ہیں۔ جب دونوں ممالک کے ایٹمی ہتھیار ہوں تو کوئی نارمل آدمی ایسا بیان نہیں دے سکتا، ایسا کرکے نریندرمودی ہندوتوا کے نظریہ کے ماننے والوں کو خوش کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکمران اس وقت گھبرائے ہوئے ہیں کیونکہ وہ پھنس گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کا نظریہ ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے تاہم وہ اس لئے پھنس گئے ہیں کہ دنیا اس وقت دیکھ رہی ہے۔
بھارت توجہ ہٹانے کے لئے پلوامہ طرز کا فالس فلیگ آپریشن کرے گا یا کوئی دھماکہ کروا کر کشمیریوں پر اور ظلم کریں گے۔ یہ سیاسی اور سفارتی جنگ ہے اور یہ میڈیا کی جنگ ہے۔ ہم اس تحریک میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اسمبلی اور حریت قیادت بیٹھ کر آپس میں بات کر لے اوراس کے بعد ہمارے ساتھ میٹنگ کریں اورآپ کی مشاورت سے ایک کمیٹی بنائیں گے کیونکہ ہم نے اب مسئلہ کشمیر کو ہم نے اگلے مرحلہ میں لے کرجانا ہے اور ہم مل کر تحریک چلائیں گے۔ ان کا کہنا تھا پانچ اگست کو نریندر مودی جو کر گیا ہے یہ کشمیر کی آزادی کا راستہ ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان سردار علی امین خان گنڈاپور، پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام بھی اس موقع پر موجود تھے

Facebook Comments