پورپی انٹیلی جنس کے تہلکہ خیز انکشاف نے امریکہ کو ایک ہلا کر رکھ دیا

0 135

برسلز(ویب ڈیسک) یورپی یونین کی انٹیلی جنس کے ایک ذمے دار نے کہاہے کہ ایران اپنے مقتول جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد نسبتا صبر کا مظاہرہ کرتا رہا ہے ،اب وہ کسی غیر ذمے دارانہ رد عمل کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مذکورہ ذمے دارنے بتایاکہ اس بات کا اندیشہ  ہے کہ اس موقع پر اسرائیل کا منصوبہ یہ ہے کہ ایران کو ایسی جوابی کارروائی پر اکسایا جائے جو عسکری جارحیت میں بدل جائے اور اس طرح ٹرمپ اپنی کرسی صدارت پر برا جمان رہیں۔یورپی یونین کے ذمے دار کا کہنا تھا کہ بائیڈن کے زیر قیادت امریکی انتظامیہ کو اس بات کی بہت کم خواہش ہو گی کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کو دھماکوں سے اڑانے کے لیے مہم جوئی یا خفیہ مشن انجام دے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق آذربائیجان نے یورپی ملک آرمینیا کے جوہری پاور پلانٹ پر میزائل حملہ کرنے کی دھمکی دے دی، دونوں ممالک کے درمیان شروع ہونے والی سرحدی جھڑپیں تاحال جاری، دونوں اطراف کے متعدد فوجی ہلاک ہو چکے۔ تفصیلات کے مطابق اسلامی ملک آذر بائیجان اور یورپی ملک آرمینیا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔دونوں ممالک کی افواج کے درمیان کئی روز سے سرحدی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ اب اس تمام صورتحال میں آذر بائیجان نے دھمکی دی ہے کہ وہ آرمینیا نے جوہری پاور پلانٹ پر میزائل حملہ کر سکتے ہیں۔ آذر بائیجان نے آرمینیا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تو پھر جواب میں انتہائی قدم اٹھایا جائے گا۔واضح رہے کہ کہ آذر بائیجان کی شمالی سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان اتوار کے روز جھڑپیں شروع ہوئیں۔ان جھڑپوں کے دوران دونوں اطراف کی فوجوں نے شدید شیلنگ کی۔ دونوں ممالک کے درمیان 6 روز سے جھڑپیں جاری ہیں اور اس کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ جھڑپیں اب باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کی فوج کی جانب سے کی جانے والی شیلنگ کے نتیجے میں آخری اطلاعات تک آذربائیجان کے 7 فوجی جاں بحق ہو چکے، جبکہ آرمینیا کے 4 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

Facebook Comments