پنجاب اورسندھ کیلئےالگ قانون ہے،کیاسندھ آج تک کالونی ہے؟بلاول بھٹو

پنجاب کا آئی جی فورا تبدیل ہوجاتا لیکن جب سندھ کی بات آتی تو یہاں الگ قانون ہے، کیا آج تک سندھ ایک کالونی ہے ؟

0 99

کراچی (سباح نیوز) دھابیجی میں پمپ ہاوس کی افتتاحی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم منصوبہ ہے اور ملک بھر میں سندھ حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے سب سے زیادہ لائنیں ڈالی ہیں اور اس سے پانی کی بچت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ڈی سیلینیشن اور الٹرا فلٹریشن پلانٹ کے منصوبے چاہتے ہیں تاکہ عوام کے لیے پانی کی قلت دورکرسکیں اور ہم وفاق سے بھی مطالبہ کریں گے جو ہمارا حق ہے وہ ہمیں دیں اور ہم سے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حق کے لیے جدوجہد کرتے ر ہیں گے، وفاق سندھ کے لوگوں کا حق چھیننے کی کوشش کررہا ہے جو ہم نہیں کرنے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ‘سلیکٹ’ ہونے کے بعد کراچی کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈی سیلینیشن کے منصوبے دیں گے لیکن آج تک اس کے لیے ایک روپے کی رقم بھی نہیں دلوائی گئی اور سندھ حکومت خود اس کے لیے کام کر رہی ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وفاق نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کے 4 منصوبے کے لیے مل کر کام کریں گے لیکن وہ اسے بھی سبوتاژ کر رہے ہیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی کے فلور پر سندھ کے پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کہا تھا جو ابھی تک حل نہیں ہوا، یہ ان کی ناکامی، نالائقی یہ ان کے معاشی قتل کے طریقہ کار کا ایک حصہ ہے لیکن ہم انہیں اس میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کے مسائل پر حل کرنے پر زور دے باقی ‘کٹھ پتلی حکومت’ خود گر جائے گی، ہم عوام کی خدمت و خیال رکھنے کا کام جاری رکھیں گے۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمارے صوبے کے ساتھ پورے ملک سے وعدے کیے تھے لیکن آج تک میرے صوبے میں وفاق کی طرف سے کوئی افتتاح نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ایک سال سے زیادہ حکومت کو ہوگئے مگر ایک کام نہیں ہوا اور ہمارے عوام کے لیے ایک ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔عمران خان کی حکومت کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں پہلے دن سے عوام کو خبردار کر رہا ہوں کہ یہ عوام اور غریب دشمن معاشی پالیسی لے کر چل رہے ہیں، عوام کا معاشی قتل ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ غذائی اشیا، گیس، بجلی، پیٹرول سب کچھ مہنگی کردی گئی ہے اور اب آٹے کا بحران آپ کے سامنے ہے۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وہی عمران خان کی حکومت میں وہی آٹے کا بحران اور اس کے حصول کے لیے قطاریں لگی ہوئی ہیں جو پرویز مشرف کے دور میں تھی، اس ملک کے عوام یہ معاشی قتل اب برداشت نہیں کرسکتی، پی ٹی آئی حکومت مشرف 2.0 کی حکومت ہے۔اپنی تنقید جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر طرف سے یہ حکومت غریب عوام کے لیے عذاب بنا ہوئی ہے، عوام کے خون چوس رہی ہے، ان کا ہر فیصلہ عوام دشمن ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گیس بحران ناانصافی اور آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیدا کیا گیا، سندھ اور بلوچستان اگر گیس پیدا کرتے ہیں تو آئین کے مطابق سب سے پہلا حق انہی کا ہے لیکن ‘نالائق، نااہل وفاقی حکومت ہمارے آئینی حق کو بھی مارتے ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ان علاقوں میں کرتے ہیں جہاں سے گیس پیدا ہوتی ہے، اس سے غریب عوام کو نقصان ہوتا ہے، اس لیے پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ آئین کے مطابق اس کو حق ملنا چاہیے، ہم اپنے حق سے زیادہ نہیں مانگ رہے نہ ہی کسی کو گیس روکنے کی دھمکی دے رہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم عوام کے حق پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے، اس عوام دشمن حکومت کو ماننا پڑے گا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ورنہ انہیں گھر جانا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ دو نہیں ایک پاکستان لیکن جیسے وہ حکومت چلا رہے ہیں اس سے لگ رہا ہے کہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ آپ اپنی ناکامی و نالائقی کو چھپانے کے لیے گالی دینے کے بجائے کام کریں اور عوام کے مسائل حل کریں ورنہ عوام آپ سے حساب لیں گے۔انسپکٹرجنرل(آئی جی)پولیس کی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کا آئی جی فورا تبدیل ہوجاتا ہے اور وزیراعلی کو پتہ ہی نہیں ہوتا لیکن جب سندھ کی بات آتی ہے تو یہاں الگ قانون ہے، کیا آج تک سندھ ایک کالونی ہے کہ ہمیں اپنا کام کرنے کے لیے دوسری طرف دیکھنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، سندھ کے عوام ہم سے ناراض ہیں کہ ایک سال سے صوبے کی امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے، اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے اور عوام ہمارے صوبے کے وزیراعلی سے حساب مانگتے ہیں۔بلاول بھوٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پولیس کا احتساب صرف ایک منتخب حکومت کرسکتی ہے کیونکہ اگر پولیس خود اپنا احتساب کرے گی تو امن و امان کی صورتحال بگڑتی رہے گی، لہذا ضروری ہے کہ آئین و قانون پر عمل کیا جائے اور ایک پاکستان میں ایک قانون ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کا آئی جی تبدیل ہوسکتا ہے تو سندھ کا آئی جی بھی اسی قوانین کے تحت تبدیل ہونا چاہیے۔

Facebook Comments