پاکستان اور افریقہ میں تجارت کے فروغ کی کانفرنس کےافتتاحی اجلاس سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا خطاب کرتے۔

0 88

اسلام آباد(محمد الیاس، اقراء لیاقت)پاکستان اور افریقہ میں تجارت کے فروغ کی کانفرنس کےافتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ھوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ سب کو صبح بخیر کہتے ہوئے آپ کا خیرمقدم کرتا ہوں۔میں صدر کنیاتا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ آج یہاں ہم میں موجود ہیں اور انہوں نے تقریب کو رونق بخشی۔ہم عزت مآب آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ پاکستان اور افریقہ میں تجارتی ترقی کے فروغ کی اس پہلی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں شریک ہوئے۔ ہم کینیا کے کیبنٹ سیکریٹریز برائے خارجہ امور اور تجارت، صنعت وکوآپریٹوز کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس ہمہ جہت شہر نیروبی میں اس تقریب کے انعقاد کے لئے حکومت پاکستان کی بھرپور معاونت کی۔افریقہ میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے سلسلے میں اس آغاز کے لئے نیروبی کا انتخاب دانستہ کیاگیا۔پاکستان اور کینیاءمیں دوستی اور قریبی تعاون کی مضبوط اور فعال تاریخ ہے۔ کینیا، افریقہ میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ گذشتہ برس ہماری دو-طرفہ باہمی تجارت تقریباً ایک ارب ڈالر کی حد کو چھو چکی ہے ۔
پاکستان میں کینیا چائے اور کینیا میں پاکستان کے چاول کے صارفین کی قابل لحاظ تعداد اور شائق موجود ہیں۔ یہ خوبصورت ملک افریقہ کا دروازہ ہے اور افریقہ مستقبل کا دروازہ ہے۔ باالفاظ دیگر ”کینیا مسستقبل ہے“کینیا افریقہ کی سب سے اینٹر پرائزنگ قوم ہے۔ افریقہ تیزی سے ترقی کرتی معیشت کے ساتھ ساتھ ’سلیکون سوانا ‘ اور متنوع وسائل کی بنیاد ہے۔صدر کنیاتا ’بِگ 4 ایجنڈا‘ کے تحت تبدیلی لارہے ہیں تاکہ مینوفیکچرنگ، فوڈ سکیورٹی، صحت عامہ میں اضافہ ہو اور عوام کو مناسب رہائشی سہولیات میسرآسکیں۔ یہ اقدامات ترقی وخوشحالی کی طرف کینیا کی ترقی کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ یہ بہت حد تک پاکستان میں ترقی کے خاکے کی عکاسی ہے۔ کینیا بڑے خواب دیکھنے اور کامیابیاں حاصل کرنے والوں کی جگہ ہے جو تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری کا مرہون منت ہے۔ اس کے نتیجے میں یہاں کی حقیقی صلاحیتیں تعبیر پارہی ہیں، اس میں کاروبار اور تخلیقات کے میدان میں دنیا کی قیادت کی صلاحیت موجود ہے۔مائیکرو کومسم ایک نئے افریقہ کے طلوع ہونے کی نمائندگی کررہا ہے۔لہذا میں ایک مرتبہ پھر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ یہ موقع ہمیں فراہم کیا اور ہمارے درمیان استوار تاریخی روابط کو ایک مرتبہ پھر دوہرانے کا موقع فراہم کیا ۔ اس کے نتیجے میں ہمیں ترقی اور خوشحالی کے یکساں فوائد سے ہمکنار ہونے کا موقع ملا ہے۔اسی طرح یوگینڈا بھی ہمہ پہلو معشیت کا حامل ملک ہے جو شاید دنیا میں مہاجرین کے لئے سب سے مہمان نواز ملک ہے۔اس کانفرنس میں کینیا سے اتنی زیادہ تعداد میں معزز مہمانوں، کیبنٹ سیکریٹریز اور وزیرمملکت برائے تجارت یوگینڈا کی شرکت، قابلِ تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ افریقہ، پاکستان کے لئے اجنبی نہیں نہ ہی پاکستان افریقہ کے لئے اجنبی ہے۔ ہمارے احساسات ، خواب، امنگیں، خواہشات اور تخلیقات، ہمارے دکھ درد کی کہانیاں ایک جیسی ہیں ہمارے جذبے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔عزت مآب صدر کنیاتا نے بجا طورپر کہا ہے کہ ”اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ آپ کس مقام پر ہو، یہ جاننے کے لئے آپ کس سمت جارہے ہو، آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ آپ آئے کہاں سے ہو۔“پاکستان اور افریقہ کے تعلقات کے تناظر میں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت پاکستان نے بنیادی ضروری کام مکمل کرلیا ہے اور اس ضمن میں ضروری اقدامات کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔قیام پاکستان اور شاید اس سے بھی قبل دونوں خطوں اور عوام کے درمیان ایک تعلق اور رشتہ استوار رہا ہے۔ زمینی اور بحری راستوں کے ذریعے ہم تجارت کرتے رہے ہیں اور سینکڑوں سال سے یہ میل میلاپ جاری ہے۔آپ میں سے اکثر پاکستانی بھی، شاید آگاہ نہ ہوں کہ ہماری ساحلی پٹی پر آباد افراد کے آباءکا تعلق افریقہ سے ہے۔تین نہایت منفرد رجحانات نے رنگ ونسل اور پاکستان کے افریقہ کے ساتھ تعلقات کو مترشح کیا ہے جو سات دہائیوں سے دونوں اقوام کے درمیان استوار تعلقات پر محیط ہیں۔ان میں سرفہرست یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے افریقی ریاستوں کی آزادی کی تحریک کی سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور مادی مدد کی ہے۔ ہم نے رنگ ونسل کے امتیاز اور بیرونی جارحیت کے خلاف ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ ساوتھ کوآپریشن کے فریم ورک کے اندر پاکستان نے افریقی ریاستوں اور شہریوں کی استعداد کار بڑھانے کے لئے معاونت فراہم کی۔ میں بڑے فخر ومسرت سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ 52 ریاستوں کے 700 افریقی سفارتکار پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی کے تربیت شدگان کی تنظیم کا حصہ ہیں۔
ہمارے لئے عزت کا مقام ہے کہ ہم نے ان کی میزبانی کی اور وہ ہمارے مہمان رہے۔ ہمیں ان پر فخر ہے۔ یہ سفارتکار جن میں سے بہت سارے آج بہت اعلی مناصب پر فرائض ہائے منصبی بجالارہے ہیں، پاکستان اور افریقہ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ہماری نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے افریقہ کی شراکت داری سے کئی منصوبہ جات کامیابی سے مکمل کئے ہیں۔تیسری بات یہ ہے کہ صومالیہ سے لائیبیریا اور کانگو تک ہماری افریقی بھائیوں کو جب بھی امن وامان کے قیام کے لئے جس بھی طرح کی ضرورت درپیش آئی، ہم نے ہمیشہ ان کی آواز پر لبیک کہا۔ اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے پاکستانی نیلے ہیلمٹ خطے میں استحکام کے لئے سرگرم عمل دکھائی دئیے ہیں۔ ایک مرحلے پر ان کی تعداد دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔
ہم نے دوست ممالک کی مسلح افواج کی استعداد کار بڑھانے میں بھی معاونت فراہم کی ہے اور ہرممکنہ حد تک سکیورٹی کوآپریشن مہیا کیا۔ دیگر کے مقابلے میں ہماری فراہم کردہ امداد اور معاونت ہوسکتا ہے کہ کم رہی ہو لیکن یہ مدد اور معاونت ہمیشہ غیرمشروط، جامع اور موثر ترین رہی ہے اور اس کا مقصد کبھی کسی توقع یا بدلے کا حصول نہیں رہا۔یہ پاکستان کی دوستی کا اثاثہ ہے۔ یہ کل تک کی بات تھی ۔ آج افریقہ پر ایک نیا سورج چمک رہا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج افریقہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔ اس کی یک جہتی بڑھ رہی ہے۔ شہری آبادی تیزی سے فروغ پارہی ہے۔ امریکی ڈالر 2.5ٹریلین ڈالر، مالیتی معیشت جو 54 ریاستوں پر مشتمل ہے اور 1.3 ارب صارفین ہیں۔
54ریاستوں کا یک ہی ایجنڈا ہے کہ سماجی، سیاسی اور معاشی روابط کو فروغ دیا جائے۔ افریقی کونٹیننٹل فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر جنوری 2018ءمیں دستخط ہوئے تھے۔ یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ اس کے نتیجے میں علاقائی رابطوں اور ثمرات کا ایک محور وجود میں آجائے گا۔افریقی یونین کے تحت یہ خطہ متاثر کن پیش رفت دکھارہا ہے، اس میں بلارکاوٹ نقل وحرکت کی آزادی شامل ہے جو افریقی یونین پاسپورٹ اور افریقی ائیر ٹرانسپورٹ مارکیٹ کے اقدام سے ممکن ہوئی۔
400 سے زائد افریقی کمپنیاں آج سالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد کمارہی ہیں۔
2018ءمیں دنیا کی دس تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں سے چھ افریقی ہیں۔
2019ءکی ورلڈ بنک کی کاروبار میں آسانیوں کی درجہ بندی میں، 10بہترمعیشتوں میں سے5 افریقہ سے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا کی ایک تہائی اصلاحات افریقہ کے "سب سہارا” سے ریکارڈ کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان پر بھی نیا سورج طلوع ہوا ہے۔ پختہ عزم کے ساتھ ہم نے دہشت گردی کی لہر کا منہ موڑ دیا ہے۔
آج آپ پاکستان کا دورہ کریں تو آپ محسوس کریں گے کہ عدم تحفظ، قصہ پارینہ بن چکا ہ آج پاکستان میں وہ تمام لوازمات موجود ہیں جو اکیسویں صدی میں کامیابی کے لئے درکار ہوتے ہیں۔بیس کروڑ سے زائدآبادی کے ملک پاکستان میں، نصف کی عمر 30 سے کم ہے۔ ہم دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہیں۔ پاکستان میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں، مسائل، مواقع میں تبدیل ہورہے ہیں۔ قوت خرید کے لحاظ سے پاکستان کی معیشت کا تخمینہ 1.19 ٹریلین ڈالر لگایاگیا ہے جو اسے پچیس ویں بڑی معیشت بناتا ہے۔ہمارے ملک میں شہر تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں، پاکستان دنیا میں تیسری سب سے بڑی تعداد میں انگریزی بولنے والی آبادی ہے۔
2019ءمیں پاکستان میں کاروباری آسانیوں کے لحاظ سے، کی گئی درجہ بندی میں 28 درجے کی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس درجہ بندی کی بدولت پاکستان دنیا میں اصلاحات کے لحاظ سے سرفہرست آ چکا ہے جبکہ موڈیز نے پاکستان کی آوٹ لُک منفی سے مستحکم کردی ہے۔افریقہ کی طرح پاکستان معدنی ودیگر وسائل کے لحاظ سے مالامال ہے جن سے استفادہ نہیں کیاگیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ
1۔ پاکستان میں دنیا کا چوتھا بڑا سیراب رقبہ ہے۔ ہمارے پاس دنیا کا سب بڑا آبپاشی کا نظام ہے۔ پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا کپاس پیدا کرنے والا ملک ہے، چوتھا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے، لائیوسٹاک میں ہم دوسرے نمبر پر ہیں، آموں کی پیداوار میں چھٹے اور کھجور کی پیداوار میں ہمارا نمبر ساتواں ہے۔
2۔ پاکستان کو 92 معدنیات کے لحاظ سے جانا جاتا ہے جس میں سے 52 کی تجارت ہورہی ہے۔ پاکستان سیمنٹ کے شعبے میں گیارہ بڑے پروڈیوسرز میں شامل ہے۔ دوسرے نمبر پر سب سے بڑے نمک کے ذخائر ہمارے پاس ہیں۔ پانچویں سب سے بڑے تانبے اور دوسرے نمبر پر سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر بھی پاکستان میں ہیں۔
3۔ ترقی کرتی معیشتوں میں پاکستان زیادہ ڈیجیٹل ہے۔ عالمی اقتصادی فورم نے پاکستان کو 139 ممالک میں سے ٹیلی کام کے استعمال میں نمبر ایک ملک قرار دیا ہے۔ سمندری خدمات کے حوالے سے پاکستان کو دنیا کا تیسرا سب سے پرکشش ترین مقام قرار دیاگیا ہے۔ ہمارے آئی ٹی کے ماہرین نے بلین ڈالر کی حد عبور کرلی ہے اور ہمارے آئی ٹی کے شعبے، میں کاروبار شروع کرنے والے دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا نشان چھوڑ رہے ہیں۔
4۔ پاکستان توانائی کے وسائل کے لحاظ سے بھی مالا مال ہے۔ دریائے سندھ سے 60 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ بجلی کی پیداواری، صلاحیت پچاس ہزار میگاواٹ ہے۔ اس کے علاوہ شمسی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے بہت سارے ذرائع موجود ہیں۔
5۔ ہمارا جغرافیائی محل وقوع نہایت اہمیت کا حامل ہے جہاں ایشیاءکے چار خطے آپس میں ملتے ہیں۔ ان میں وسط ایشیائ، جنوب ایشیائ، مشرق_ وسطیٰ اور چین شامل ہیں۔ شاید یہ محل وقوع پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری جو چین کا ’روڈ اینڈ بیلٹ‘ کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، تیزی سے روبہ عمل ہے جیو اکنامک ثمرات کے حصول میں تیزی سے ڈھل رہا ہے۔ سی پیک ہماری گہرے پانیوں کی بندرگاہ گوادر سے جڑا ہے جس کے زریعے وسیع ایشیاءتک بحری رسائی کم ترین وقت میں ممکن ہے۔ افریقہ اس میں اضافی فوائد کے ساتھ شامل ہے۔ سی پیک کے اولین مرحلے کی تکمیل کے ثمرات سے ڈھانچے کی ترقی اور توانائی میں قلت کے مسائل کو دور کیاگیا۔ اس تناظر میں سی پیک کے راستے پر ہم خصوصی اقتصادی زونز بھی بنارہے ہیں تاکہ پاکستان اورچین کی مارکیٹ تک رسائی سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔پاکستان کو امریکہ اور یورپ کی منڈیوں تک رسائی کی ترجیح بھی میسر ہے۔
6۔ پاکستان دنیا کے لئے کھل رہا ہے۔ ہماری نئی ویزہ پالیسی پچاس ممالک سے سیاحت کے لئے آنے والوں کو آمد پر ویزا دینے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ 175ممالک سے آن لائن ویزا کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ سیاحت ہماری اولین ترجیح ہے۔ امریکہ کے ممتاز ترین لگژری ٹریول میگزین ’کونڈے ناسٹ ٹریول‘ نے پاکستان کو سال 2020کے لئے تعطیلات گزارنے کے لئے دنیا کا بہترین مقام قراردیاہے، نہ صرف اس سال بلکہ آئندہ دس سال کے لئے۔
7۔ پاکستان کی دفاعی صنعت نے بے حد ترقی کی ہے۔ ہم اعلی معیار کی مصنوعات بناتے ہیں جو مغربی اور دیگر دنیا کے مقابلے میں قیمت کے لحاظ سے نہایت مناسب ہیں۔ ایف سولہ طیارے کے ہم پلہ صلاحیتوں کا حامل، جے ایف 17 طیارہ ہے جو انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہے۔
8۔ پاکستان کی معیشت میں سٹرکچرل امور کو حل کیاجارہا ہے۔ سخت اصلاحات کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگئی ہے اور پائیدار ترقی کے راستے پر رواں ہے۔ صرف گزشتہ سال میں ہم نے جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان میں
کرنٹ اکاونٹ خسارے میں 73 فیصد کمی ہوئی برآمدات میں 12 فیصد اضافہ ہوا داخلی ٹیکس وصولیاں 28.4 فیصد بڑھ گئیں اور مجموعی طورپران میں 16.9 فیصد اضافہ ہوا
غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔کرنسی مارکیٹ میں استحکام آچکا ہے۔پاکستان میں 2.25ارب ڈالر کی ریکارڈ غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے جو 200فیصد اضافہ دکھارہی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ یہ صورتحال پاکستان اور افریقہ کے لئے کیا اہمیت رکھتی ہے؟
کہاں اور کس مقام پر دونوں کے درمیان میلاپ کی گنجائش نکل رہی ہے؟
آپ کے لئے پاکستان کی کیا اہمیت ہے اور آپ کی پاکستان کے لئے کیا اہمیت ہے؟
عصر حاضر کی ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں ہم دونوں کی تجارت، ترقی، جیو اکنامکس اور جیوسٹرٹیجی کے حوالے سے کیا اہمیت اور امکانات ہیں؟
افریقہ میں مجموعی تجارتی پورٹ فولیو ایک ٹریلین ڈالر ہے۔ پاکستان اور افریقہ کے درمیان اس وقت تجارت پانچ ارب ڈالر ہے۔ میرے خیال میں یہ فرق دور کرنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل کے امکانات ہمارے لئے روشن منزل کاپتہ دے رہے ہیں۔اس کانفرنس کا مقصد یہ ہے کہ دونوں جانب کی کاروباری برادری کے درمیان قریبی مشاورت اور اشتراک عمل استوار ہو۔ یہی اس مسئلہ کا حل ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرے خیال میں ہم دونوں ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت اور استعداد رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی گفتگو کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہوں گا کہ ہمیں مستقبل کی شراکت داری کے لئے مضبوط بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

الف)۔ رابطوں کی استواری: ایشیاءمیں گوادر کی وہی اہمیت ہے جو ممباسا کی افریقہ میں ہے۔یہ ایشیاءاور افریقہ میں تجارت اور ترقی کے مراکز ہیں۔ ممباسا گوادر ملٹی ماڈل رابطہ، ٹرانسپورٹ کی لاگت کم کرسکتا ہے اور مختلف شعبہ جات اور صنعت میں شراکت داری کے بے پناہ نئے امکانات کھول سکتا ہے ۔ اس سے افریقی برآمدات کو ایشیائی مارکیٹوں تک آسان رسائی میسرآجائے گی اور ایشیائی مصنوعات، وسائل اور اشیاءکی افریقہ تک مختصر ترین راستے سے تیز ترین فراہمی کو یقینی بنانا ممکن ہو گا۔
ب)۔ تکمیل: یہ امر واضح ہے کہ ہماری معیشت ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ ایسے شعبہ جات ہیں جن میں پاکستان کے تجربے اور مہارت سے آپ استفادہ کرسکتے ہیں جبکہ ایسے بہت سارے شعبے ہیں جس میں آپ کے تجربے سے ہم فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ایک دوسرے کی معیشت میں ہماری سرمایہ کاری اور صنعت میں شراکت داری سے دونوں اطراف یکساں فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ زراعت، زراعت پر مبنی صعنت، ٹیکسٹائل، خدمات، کھیلوں کا سامان، چمڑے، لائٹ انجینئرنگ، ادویات اور آلات جراحی کا معیاری سامان ایسی مصنوعات اور شعبے ہیں جن سے دونوں فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔
ج)۔ کم قیمت: آپ پاکستان سے ٹیکنالوجیز اور استعداد کار نہایت سستے داموں حاصل کرسکتے ہیں، کسی بھی اور ذرائع کے مقابلے میں یہ نہایت کم قیمت ہوگی۔ یہ بات افریقہ سے اشیاءکی خرید کے حوالے سے پاکستان پر صادق آتی ہے۔ لاگت میں کمی سے ہمارے وسائل پر دباو کم ہوگا اور وسائل کے بہترین استعمال کا موقع میسرآئے گا۔ یہ اچھی معاشی حکمت عملی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مجھے اعتماد ہے کہ یہ کانفرنس باہمی اعتماد، خیرسگالی اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں، دستیاب مواقعوں اور زمینی حقائق سے آگاہی میں نہایت اہم ثابت ہوگی جس کے نتیجے میں مستقبل کی شراکت داری، تعاون اور مل کر آگے بڑھنے کی مضبوط بنیاد قائم ہوگی۔ پاکستان افریقہ کے دروازے پر دستک دینے آیا ہے۔ آئیے ہم اپنی صلاحیتوں کے اشتراک سے خوابوں کو تعبیر میں ڈھالیں ۔ آئیے ہم ایک دوسرے کی طاقت بنیں۔

Facebook Comments