پام آئل سے چھٹکارا کیسے پائیں؟

0 234

پام آئل ایک ایسی حیرت انگیز پراڈکٹ ہے جس کا استعمال کیک اور بِسکٹ سے لے کر تعمیرات تک بہت سے شعبوں میں ہوتا ہے۔ اس کی پیدوار کے لیے برساتی جنگلات کاٹ کر پام کے درخت لگائے جاتے ہیں۔اج اپ نے جو صابن آپ نے اپنی جلد پر ملا، جس ٹوتھ پیسٹ سے آپ نے دانت مانجھے،وہ بھی اس سے خالی نہ رہا ہوگا۔بس یہ طے ہے کہ آج آپ نے پام آئل کا استعمال کیا ہے۔یہاں تک کہ آپ نے آج جس سواری، بس، ٹرین یا کار، سے سفر کیا ہے وہ بھی ایسے ایندھن سے چلتی ہے جس میں پام آئل ہوتا ہے۔
پام آئل نباتات سے حاصل کیا جانے والا سب سے مقبول تیل ہے۔ پچاس فیصد تک مصنوعات میں پائے جانے کے علاوہ یہ کارخانے چلانے میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔پام آئل کی کیمیائی ساخت اسے زیادہ نقطۂ پگھلاؤ اور سیرشدہ چربی یا سیچوریٹڈ فیٹ کے درجے میں رکھتی ہی، یعنی اسے کئی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ہماری روز مرہ زندگی میں اس کے بہت زیادا عمل دخل ہے۔
پام آئل کے مخصوص کیمیائی خواص اسے پکانے کے لیے بھی دوسرے تیلوں سے ممتاز بناتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ درجۂ حرارت پر بھی اپنی خاصیت نہیں بدلتا، اور نہ ہی جلد خراب ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جن مصنوعات میں اس کی آمیزش ہوتی ہے انھیں زیادہ عرصے تک سٹور کیا جا سکتا ہے۔
تیل والے پام کے درخت استوائی خطوں میں بھی اگائے جا سکتے ہیں اور کاشتکاروں کے لیے بہت نفع بخش ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ سخت زمین میں بھی آسانی سے جڑیں پکڑ لیتے ہیں۔ یہ ہی سبب ہے کہ ان علاقوں میں اس کی فصل میں اضافہ ہوا ہے۔تیل والے پام کے درخت بہت زیادہ پیداوار دیتے ہیں اور ان کی کاشت بھی سستی ہوتی ہے، اور یہ ہی ان کے پھیلاؤ کا سبب ہے۔کھانے کا تیل ایلجی سے بھی نکالا جا سکتا ہے لیکن زیادہ لاگت کی وجہ سے پام آئل کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔آئل حاصل کرنے کے لیے پام کی وسیع پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے جس کے لیے برساتی جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی جاتی ہے جس سے حیوانات اور نباتات کی لاتعداد انواع کا مسکن تباہ ہو رہا ہے۔

Facebook Comments