وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا وزارتِ خارجہ میں انتالیسویں اسپیشلائزڈ ڈپلومیٹک کورس کی گریجویشن تقریب سے خطاب

سیکریٹری خارجہ،سابقہ سیکریٹریز خارجہ ،انتالیسویں اسپیشلائزڈ ڈپلومیٹک پروگرام کے شرکاء

0 144

اسلام اباد(بیورو رپورٹ ) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا وزارتِ خارجہ میں انتالیسویں اسپیشلائزڈ ڈپلومیٹک کورس کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ،مجھے اس گریجویشن تقریب میں شرکت کر کے انتہائی مسرت ہورہی ہے
میں انتالیسویں ڈپلومیٹک گریجویشن کورس کے شرکاء کو کامیابی کے ساتھ ،کورس مکمل کرنے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں
مجھے بتایا گیا کہ کورس کے شرکاء کو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ لاہور،سیالکوٹ،کراچی کویٹہ اور گوادر لے جایا گیا اور پاکستان کے اہم سیاحتی اور ثقافتی مقامات سے متعارف کروایا گیا
مجھے یقین ہے کہ بزنس کمیونٹی اور مختلف اہم اداروں کے ساتھ ملاقات سے آپ کو پاکستان کے معاشی اور تجارتی مفادات کو بہتر انداز آگے لے جانے میں معاونت ملے گی
مجھے امید ہے کہ افغانستان اور چین کے سفارتکاروں کے ساتھ ہونیوالی سہ فریقین تربیتی ورکشاپ سے آپ کو سفارت کاری کے اہم رموز سیکھنے کا بہترین موقع میسر آیا ہو گا

مجھے بتایا گیا کہ کورس کے شرکاء ڈپلومیٹس کو دوہفتے چین میں تربیت کے لیے بھیجا گیا
مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ آپ کو پروفیشنل ڈپلومیٹس کے ساتھ تربیتی ورکشاپ کروائی گئی تاکہ آپ عملی پہلوؤں کو سیکھ سکیںآپ گریجویشن کے بعد اب عملی سفارت کاری میں قدم رکھ رہے ہیں یہ آپ کے کیریئر کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا جہاں آپ کتابی دنیا سے عملی زندگی میں داخل ہوں گے مگر آپ کو یہ بات ذہن نشین رکھنا ہے کہ آپ کو ہمیشہ سیکھتے رہنا ہے
اس تیزی سے بدلتے منظر نامے میں،ایشیاء بین الاقوامی سطح پر خصوصی اہمیت اختیار کر چکا ہے
نئے منظر نامے میں پاکستان کے لئے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں
ایک متحرک خارجہ پالیسی کو اپنا کر ہم ان مواقعوں سے استفادہ کر سکتے ہیں اور چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں
ہمارے سفارت کار اس بدلتی صورتحال میں پاکستان کو آگے لے جانے میں اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں
علاقائی سطح پر بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں
ہمیں پرامن اور متحرک اقتصادی ہمسائیگی کے اصول کو آگے لے کر چلنا ہے
ہمیں تجارت ،توانائ اور کمیونیکیشن کے فروغ سے اپنی اقتصادی استعداد کو خطے میں مستحکم بنانا ہے
چنانچہ روائیتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری اور تجارت کو بڑھانے کیلئے تحرک کرنا ہو گا
سفارتی کاری اور بین الاقوامی امور لازم و ملزوم ہیں
آج کے سفارت کار کو سفارتی کاری کے علم کے ساتھ ساتھ ،علم سیاست، بین الاقوامی قوانین اور معاشی سفارت کاری کو بھی سیکھنا ہے
آپ کو روائتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ، مناظرے اور سوشل میڈیا پر دسترس حاصل کرنا ہوگی تاکہ آپ ہر وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ۔۔۔دفاع کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہوں
آپ کا تجزیہ استدلالی اور آپ کی تجاویز عملی نوعیت کی ہونی چاہیں۔مجھے اطمینان ہے کہ فارن سروس اکیڈمی بہترین تربیت فراہم کر رہی ہے۔
اسے مزید بہتر بنانے کیلئے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چین نے خیر سگالی کے تحت اپنی پرانی ایمبسی کو فارن سروس اکیڈمی کیلئے وقف کیا ہے جس کی تزئین وآرائش کا کام جاری ہے۔
مجھے یقین ہے کہ فارن سروس اکیڈمی اسی طرح نئے سفارتکاروں کو بہترین تربیت فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہے گی
آپ سب پاکستان کا مستقبل ہیں ہمیں ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ ہم سب جمہوریہ پاکستان کے نمائندے ہیں اور ہم پاکستانی عوام کو جوابدہ ہیں۔آپ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آپ سب سے پہلے پبلک سرونٹ ہیں۔
آپ کو پاکستان اور عالمی دنیا کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے آپ کو اس قوم کی خدمت بہتر انداز میں کرنے کا عزم کرنا ہے۔مجھے توقع ہے کہ آپ ایمانداری،جانفشانی اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض منصبی انجام دیں گے
آپ کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا خصوصی خیال رکھنا ہے ۔
میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا عملی سفر دلچسپ اور چیلنجز سے بھرپور ہو گا۔میں آپ کے اس عملی سفر پر آپ کیلئے دعا گو ہوں۔

Facebook Comments