وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا قبائلی ضلع خیبر میں عوامی جلسے سے خطاب

وزیر اعلیٰ کا 7 ارب روپے لاگت سے باڑہ سے مستک روڈ کی تعمیر کا اعلان،

0 83

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہویے کہا کہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سب سے زیادہ دورے قبائلی اضلاع کے کیے، تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم عمران خان نے قبائلی اضلاع کے دورے کیے،ہر جگہ اور ہر علاقہ کا خود دورہ کرونگا،کاغذات میں سب درست ہوتا ہے میں خود حالات کا جائزہ لینے کے لئے دورے کر رہا ہوں، فاٹا انضمام اور انتخابات کا عمل پانچ کی بجائے ایک سال میں پورا کیا قبائلی علاقوں کی ترقی پر رواں مالی سال 83 ارب روپے خرچ کررہے ہیں، قبائلی اضلاع میں جرگہ نظام ڈی آر سی کے ذریعے بحال رہے گا،قبائلی علاقوں میں آسامیوں پر صرف قبائیلی عوام کا حصہ ہے، غریب قبائیلی عوام کو احساس پروگرام میں شامل کرینگے، میں عمران خان کا سپاہی ہو انکے احکامات پر عملدرآمد یقینی بناونگا،  دہشتگردی سے متاثرہ سکولوں کی تعمیر اگلے ماہ سے شروع کیا جائے گا، ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں تمام قبائلی عوام کو مفت صحت سہولت فراہم کی ہے، ہم نے عدالتوں اور تمام محکموں کی قبائلی اضلاع تک توسیع ممکن بنایا ہے، قبائلی عوام کا اپنے اضلاع میں مائنز پر پہلا حق دلوانے کے لیے قانون پاس کروایا، ترقیاتی منصوبوں سے ہم پانچ سالوں میں قبائلی اضلاع کی تقدیر بدل دیں گے، وزیر اعلیٰ کا ضلع خیبر میں تمام معطل خاصہ دار فورس کی بحالی کا اعلان بھی کیا،یہاں اپ کے مسائل کو سنے ایا ہوں اور اس کو حل کرنے کے لئے ایا ہو : میرا فرض بنتاہے کہ میں اپنےعوام کےپاس جا کر مسئلے سنو اور انہیں حل کروں۔اگر کوئی کہے کہ تحریک انصاف نے کام نہیں کیا تو فاٹا کا خیبر پختونحوا میں انصمام اس حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔:انضمام کے بعد یہاں پر انتیس ہزار حاصہ دار فورس کو صوبائی پولیس میں ضم کرنا بھی ایک مشکل کام تھا جو اس حکومت نے کیا۔وزیر اعظم احساس پروگرام کا دائرہ وسیع کر کے ان علاقوں تک پہنچایا گیا ہے بہت جلد اس کے ثمرات سے یہاں کے غریب عوام مستفید ہونگے۔

انصاف روزگار سکیم کے تحت قبائلی علاقوں کے جوانوں کو روزگار کے لئے بلا سود قرضے دئیے جائینگے،وزیر اعلی محمود خان نے راجگال تیراہ میں بھی بہت جلد ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کرنے کا عندیہ دیا۔اقلیتی برادری کے لئے بنائی گئی کرسچن کالونی لنڈیکوتل کا بھی بہت جلد افتاح کرونگا،یہاں اپ کے مسائل کو سنے ایا ہوں اور اس کو حل کرنے کے لئے ایا ہوں۔

Facebook Comments