وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا سنٹرل پولیس آفس پشاور میں ہیومین ریسورس مینجمنٹ سسٹم کی ڈیجیٹائزیشن کا باضابطہ افتتاح۔

0 122

پشاور(جنرل رپورٹ):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سنٹرل پولیس آفس پشاور میں ای روزنامچہ، ای۔ ایف آئی آر اور ہیومین ریسورس مینجمنٹ سسٹم کی ڈیجیٹائزیشن کا باضابطہ افتتاح کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ڈیجیٹل پاکستان کی طرف صوبائی حکومت کا ایک اور عملی قدم ہے۔ ای۔روزنامچہ اور ای۔ ایف آئی آر کا اجرائعوامی سہولت کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے جس کے تحت عوام کو آن لائن پورٹل، واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے ایف آئی آرز اور روزنامچوں کے اندراج کی سہولت دی گئی ہے جبکہ پرنٹ شدہ کاپی کی فراہمی کا آپشن بھی موجودہے،عوام ان چاروں آپشنزسے استفادہ کر سکتے ہیں اور گھر بیٹھے ای۔ روزنامچہ، ای۔ ایف آئی آر اور دیگر پولیس خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخو اپولیس کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اُمید ظاہر کی کہ پولیس فورس جدت کی طرف مزید پیشرفت جاری رکھے گی۔ اُنہوں نے خصوصی طور پر محکمہ پولیس کو ضم شدہ اضلاع میں پولیس فورس کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی اور یقین دلایا کہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے بھر پور تعاون فراہم کرے گی۔خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی کا پورا پاکستان معترف ہے جو ہمارے لئے فخر کا باعث ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل پولیس آفس پشاورکے دورہ کے دوران اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثنا ء اللہ عباسی، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ اور پولیس کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ کو صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، پولیس کے حوالے سے صوبائی حکومت کے اقدامات و پیشرفت اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلا س کو محکمہ پولیس میں ہیومین ریسورس کے مختلف ذیلی فورسز، خیبرپختونخوا پولیس کو درپیش چیلنجز، نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پولیسنگ، سی پیک سکیورٹی اور دیگر اُمور کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلا س کو محکمہ پولیس نے صوبے میں جرائم، بھتہ خوری، غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے کاروائی، منشیات کی روک تھام اور پولیس کی کارکردگی میں بہتری پر بھی بریفینگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی کل تعداد 109,556 ہے جن میں ریگولر پولیس کی تعداد70,372، سپیشل سکیورٹی یونٹ کی تعداد2500، سپیشل پولیس فورس9700، ضم شدہ اضلاع کے لیویز فورس کی تعداد9987 جبکہ خاصا دار فورس کی تعداد16997 ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سال2019 میں محکمہ پولیس نے 21833 کلوگرام چرس، 1022 کلوگرام ہیروئن، 836 کلوگرا م افیوم جبکہ 114 کلوگرام آئس کی ریکوری ممکن بنائی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری2020 میں پولیس کو مطلوب جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن میں 2310 افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ اسی طرح قبضہ مافیا کے خلاف کل 70 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں 252 افراد پر فرد جرم عائد کیا گیا جبکہ 236 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جنوری2020 ئمیں آئس کے خلاف آپریشن میں کل 251 کیس رجسٹرڈ ہوئے جن میں 292 افراد پر فرد جرم عائد کرکے گرفتار کیا گیا ہے۔ سال 2019 ئمیں محکمہ پولیس کو صوبہ بھر سے 5172 شکایات موصول ہوئیں جن میں 4500 شکایات کو حل کیا گیا ہے جبکہ 672 شکایات کے حل کا عمل جاری ہے۔ محکمہ پولیس میں احتساب کے تحت مختلف نوعیت کے کیسز میں اب تک 3245 پولیس اہلکاروں کو سزا دی گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کی لیویز اور خاصا دار فورس جبکہ 9681 سپیشل پولیس آفیسرز کو باقاعدہ طور پر کے پی پولیس میں ضم کیا گیا ہے۔ اسی طرح نئے ضم شدہ سات قبائلی اضلاع میں ڈی آر سیز کو مکمل فعال کیا گیا ہے۔ اجلاس کو ماڈل پولیس سٹیشن کے قیام کے حوالے سے پیشرفت پر بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت خیبرپختونخوا پولیس نے ای۔ گورننس کے تحت ہومین ریسورس مینجمنٹ سسٹم، ای۔ روزنامچہ، ای۔ ایف آئی آر جیسے اقدامات کو متعارف کرایا ہے جس کا آج باقاعدہ افتتاح بھی ہو گیا ہے۔ ای۔ گورننس کے تحت محکمہ پولیس میں اب تک 76,278 پولیس اہلکاروں کا ڈیٹا مکمل ڈیجیٹائز کیا گیا ہے۔ای۔ ایف آئی آر اور ای۔ روزنامچہ ڈیجیٹائزیشن کی طرف کے پی پولیس کا عوام کی سہولت کیلئے ایک انقلابی اقدام ہے، جس سے عوام کو پولیس خدمات تک رسائی میں کافی مدد ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کو توصیفی اسناد سے بھی نوازا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ خیبرپختونخو اپولیس حقیقی معنوں میں ایک فورس بن چکی ہے، اس مقصد کیلئے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت اور موجودہ صوبائی حکومت نے گراں قدر اصلاحات متعارف کرائیں جن کے نتائج بہتر کارکردگی کی صورت میں سب کے سامنے ہیں۔ محمود خان نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں امن عامہ کے فروغ اور جرائم کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی جار ہی ہے۔ اُنہوں نے ہدایت کی کہ نے ضم شدہ اضلاع میں محکمہ پولیس کو مکمل طور پر فعال اور متحرک بنانے کیلئے سنجیدہ اور فوری اقدامات کئے جائیں۔ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے درکار تعاون کی فراہمی یقینی بنائے گی۔

Facebook Comments