مدارسِ کی آزادی پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دینگے * اصلاحات اور معاہدہ مدارس کے مفادات کے خلاف ہوا تو مزاحمت کرینگے مولانا فضل الرحمان کا تحفظ مدارسِ کنونشن سے خطاب

0 103

پشاور(جنرل رپورٹ) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارسِ دینیہ اسلام کی ترویج و اشاعت کا ذریعہ ہیں اسکے خلاف منصوبہ بندی کرنے والے حکمران ماضی میں بھی ناکام ہونے اور آج بھی ناکام ہونگے وہ پشاور میں جے یوآئی کے زیر اہتمام تحفظ مدارسِ کنونشن سے خطاب کر رہے تھے کنونشن کی صدارت مولانا عطاء الرحمن نے کی جبکہ کنونشن سےمولانا عبدالغفور حیدری شیخ مولانا محمد ادریس
مفتی غلام الرحمن سینٹر مولانا فیض محمد مولانا عطاء الحق درویش مولانا امان اللہ حقانی عبدالجلیل جان مفتی عبدالشکور ایم این اے
نے بھی خطاب کیا جبکہ اکرم خان درانی شمس الرحمن شمسی
مفتی فضل غفور
سید ھدایت اللہ شاہ مولانا فضل علی۔مولا نا محمد قاسم ۔نورسلام آحمد علی درویش
حاجی دانشمند
آصف اقبال داوزئ اور ارکان قومی وصوبائی اسمبلی بھی موجود تھے
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عصری اور دینی علوم کو جدا کرنے والوں نے تعلیم میں تفریق پیدا کیا اور آج مدارسِ پر اصلاحات کے نام بین الاقوامی ایجنڈا مسلط کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی اسلام دشمن قوتوں کے خلاف معرکہ لڑ کر ان کے عزائم خاک میں ملائے تھے اور آج بھی اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حکمرانوں کی مدارسِ کے خلافِ سازش اور بیرونی ایجنڈا ناکام بنائینگے انہوں نے کہا مدارسِ کے نصاب میں تبدیلی اور مدارسِ میں اصلاحات کی باتیں کرنے والے اپنے اداروں کو ٹھیک کریں اور ان میں اصلاحات لاہیں ہمارے مدارس صحیح سمت کی جارہے ہیں انہوں نے کہا ملک کی اقتصادی اور معاشی صورتحال تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے غریب اور متوسط طبقے کی قوت خرید ختم ہوچکی ہے عوام اپنے بچوں کو فروخت کرنے اور خودکشی پر مجبور ہو چکے ہیں لیکن سلیکٹڈ حکمران اپنے چہیتوں کو نوازنے میں معروف ییں انہوں نے کہا کہ آج قبائل انظمام کے ہاتھوں خون کے آنسو رورہے ہیں اور انظمام کے حامی سیاستدان قبائل کی لاشوں ماتم کررہے ہیں ہم نے کل بھی قبائل کے حقوق کی جنگ لڑی تھی اور ہم آج بھی ڈھنکے کی چوٹ پر اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے قبائل کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے رہنگے
قبائل کو سو ارب سالانہ دینے کا وعدہ کرنے والے انظمام کے حامیوں نے قبائل کو اب بےیار ومددگار چھوڑ دیا ہے انہوں نے کہا کہ قبایل کو اپنا صوبہ دیا جائے اس موقع پر مدارسِ کے مہتمیین نے کھڑے ہو کر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔. 5000 ہزار سے زائد مدارس کے مہتمیین نے مولانا فضل الرحمن کو مدارسِ دینیہ سے متعلق تمام معاملات کا اختیار دے دیا
مدارس کنونشن نے مدارس اصلاحات کو بین الاقوامی ایجنڈا قرار دے کر مسترد کردیا
کنونشن کے اختتام پر شرکاء کو روایتی کھانا پینڈے کا ظہرانہ دیا گیا

Facebook Comments