عقیدہ ختم نبوت اورناموس رسالت ۖکا تحفظ ہمارے ایمان وعقیدہ کا اہم ترین حصہ ہے

0 100

لاہور( صباح نیوز): عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ۖکا تحفظ ہمارے ایمان و عقیدہ کا اہم ترین حصہ ہے اور ان عقائد کے حوالہ سے آئین کے ہر آرٹیکل اور قانون کی ہر شق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گااور اس سلسلہ میں ہر طرح کے غیر ملکی دبائو اور اندرونی سازشوں کا مل کر اور ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کے خطاب پر محض زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے کشمیر کے حوالے سے عملی اقدامات کرکے اس تاثر کا خاتمہ کرے کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور مقتدر حلقے خدانخواستہ کشمیر پر کوئی سودے بازی کرکے آئے ہیں۔ اس حوالے سے قوم کے اندر اضطراب پا یا جارہا ہے۔
اس امر کا اظہار منصورہ میں منعقدہ اعلامیہ علماء کنونشن کے مشترکہ اعلامیہ اور متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں کیا گیا ۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ یہ کنونشن فلسطین ، مقبوضہ کشمیر، شام، عراق، روہنگیا سمیت پورے عالم اسلام کے انتہائی تشویشناک حالات کے تناظر میں اتحاد امت کو وقت کا اہم ترین تقاضا قرار دیتا ہے۔
اسی طرح پاکستان میں سیکولر طبقہ کی طرف سے آئین پاکستان کی اسلامی دفعات اور اسلامی معاشرت کے خلاف سازشوں اور مغرب کے بے حیا طرز زندگی کو فروغ دینے اور اسلامی پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی اِکا دُکا کوششوں کے مقابلے میں تمام فروعی ، گروہی ، مسلکی اختلافات کو بالاتر رکھ کر اتحاد و اتفاق اور باہمی رواداری کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ کنونشن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی اور بد ترین ریاستی دہشت گردی کی جاری لہر ، مقبوضہ کشمیر کے معصوم عوام کے قتل عام کے بڑھتے ہوئے واقعات اور معصوم شہریوں پرو حشیانہ ظلم و تشدد کی شدید مذمت کرتا ہے۔
بھارتی ریاستی دہشت گردی پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی مجرمانہ چشم پوشی اور عالم اسلام کی مجرمانہ خاموشی ، ظلم و ستم اور ریاستی دہشت گردی کی عملاً سرپرستی اور دنیا بھرمیں دہشت گردی کو فروغ دینے کی ایک ناپاک جسارت ہے۔یہ کنونشن مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت کشمیر کی آزادی کے لیے عملی اقدامات کا اعلان کرے۔ اعلامیہ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے میٹرک تک مفت تعلیم کا معیاری بندوبست کیا جائے ۔
اسلامیان پاکستان کو مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست کی طرز پر مسلمان اور سچا عاشق رسول بنانے کے لیے علماء کرام کی تعلیمات سے استفادہ کرتے ہوئے نصاب میں مناسب تبدیلیاں کی جائیں۔ یہ کنونشن وطن عزیز میں بڑھتی ہوئی قتل و غارت گری ، بدامنی ،معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ بد فعلی اور قتل کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور عریانی اور ٹی وی چینلز کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی کودینی تعلیمات سے دوری کا عملی نتیجہ قراردیتا ہے۔
یہ کنونشن مطالبہ کرتا ہے کہ اس بھیانک صورت حال سے بچنے کے لیے نصاب تعلیم سے لے کر ذرائع ابلاغ تک اسلام اور مسلمانوں کی اخلاقی قدروں کا احترام کیا جائے اور پورے عزم کے ساتھ اسلامی طرز زندگی کو ہر سطح پر جاری و ساری کیا جائے۔ نیز عدالتی نظام کی خرابیوں کو دور کرکے اسلامی قوانین سے بھر پور استفادہ کیا جائے۔ حکومت سودی نظام معیشت کے خاتمے اور اسلامی نظام معیشت کی ترویج کے لیے موثر اور ٹھوس لائحہ عمل تشکیل دے تاکہ اسلامی نظام معیشت کے قیام کا راستہ ہموار ہوسکے۔
یہ کنونشن مطالبہ کرتا ہے کہ ریاست مدینہ کے نام پر حکومت عوام کو گمراہ کرنے کی بجائے عملاً ریاست مدینہ کے قیام کے لیے اقدامات کرے ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی پاکستان اور امت اسلامیہ کے مفاد میں تشکیل دی جائے اور اس سلسلے میں استعماری قوتوں خصوصاً امریکہ کے کسی قسم کے دبائو کو قبول نہ کیا جائے۔ جبکہ قرار دادمیں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کے خطاب پر محض زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے کشمیر کے حوالے سے عملی اقدامات کرکے اس تاثر کا خاتمہ کرے کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور مقتدر حلقے خدانخواستہ کشمیر پر کوئی سودے بازی کرکے آئے ہیں۔
اس حوالے سے قوم کے اندر اضطراب پا یا جارہا ہے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ بھارت کو عالمی دبائو کے ذریعے پابند کیا جائے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت دے،اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل فی الفور مسئلہ کشمیر حل کروائیں۔محض سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کا زیر بحث آنا طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں۔ بھارت جموں و کشمیر میں تاریخ کا طویل ترین کرفیو ختم کرے اور 9لاکھ فوج کو مقبوضہ کشمیر سے نکالے۔ حکومت پاکستان اخلاقی، سیاسی اور سفارتی ہی نہیں کشمیریوں کی عملی مدد کا اعلان کرے۔
پاکستانی حکمران بھار ت کو کرفیو اٹھانے کے حوالے سے اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق آزادی دینے کے لیے دو ٹوک پیغام دے کہ اگر بھارت یہ نہیں کرتا تو سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کیے جائیں۔ فضائی حدود کے استعمال پرپابندی عائد کرے اور بھارت کے سفارتی عملے کو پاکستان سے نکال باہر کرے اور بھارت سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلالے۔ ان اقدامات کے بعد بھی اگر بھارت راہ راست پر نہیں آتا تو پاکستان دو ٹوک اعلان کرے کہ دفعہ370اور 35-Aکے بھارت کی طرف سے خاتمے کے بعد پاکستان حق رکھتا ہے کہ اپنی افواج مقبوضہ کشمیر میں داخل کرے اور بھارت کو خطے کو چھوڑنے پر مجبور کرے۔ اس لیے کہ کشمیر کا کوئی ایک فرد بھی بھارتی شہری کی حیثیت سے جینا پسند نہیں کرتا ۔
محض طاقت سے ایک پوری قوم کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا اور یہ طرز عمل دنیا میں مروجہ انصاف کے صریحاً منافی ہے۔ دنیا میں انصاف پسندی کا دعویٰ کرنے والے اور بنیادی انسانی حقوق کے چمپیئن ممالک کشمیر کے حوالے سے آنکھیں بند رکھنے کی بجائے بھارت پر دبائو ڈالیں کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے باز آجائے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے قائدین پر مشتمل عبوری حکومت قائم کی جائے اور اس کا آفس جنرل اسمبلی میں قائم کیا جائے۔ آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کے قائدین کو اعزازی رکنیت دی جائے اور پہلا مشترکہ اجلاس نیویار ک میں بلایا جائے۔

Facebook Comments