ضم قبائلی اضلاع کے تعلیمی اسکالرشپس بندش کے خلاف جماعت اسلامی کے ایم پی اے سراج الدین خان نے صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں توجہ دلاو نوٹس جمع کرادیا۔

سابقہ قبائلی اضلاع کے طلبہ وطالبات کو انضمام سے قبل دی جانی والی تعلیمی اسکالر شپس فی الفور بحال کئے جائے۔قرارداد کا متن

0 108

پشاور( جنرل رپورٹ )باجوڑ سے جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی حاجی سراج الدین خان نے جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں توجہ دلاونوٹس جمع کرایا جس میں انہوں نے موقف اپنایا ھے کہ انضمام سے قبل فاٹا سیکرٹریٹ کے زریعے قبائلی اضلاع کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات کو ہر سال5000روپے تعلیمی اسکالر شپ ملتا تھا۔لیکن 2018ء سے قبائلی اضلاع کے مزکورہ تعلیمی وظائف بند ہیں جس سے ہزاروں مستحق اور قابل طلبہ وطالبات کو حصول علم میں شدید مشکلات کا سامنا ھے۔
انہوں نے کہا ہے کہ فاٹا ریفارمز کے تحت حکومت نے قبائلی اضلاع کے طلبہ کیلئے10سال تک تعلیمی اسکالر شپس دینے کا وعدہ بھی کیا ہے لیکن انضمام کے بعدتاحال نئے تعلیمی اسکالر شپس کا اجراء نہیں ہوا ہے اور بدقسمتی سے سابقہ تعلیمی اسکالرشپس بھی 2018ء سے بند ہیں جو کہ قبائلی اضلاع کے طلبہ کے ساتھ سنگین ظلم ہے سراج الدین خان نے کہا ہے کہ اس حوالے سے فاٹا سیکرٹریٹ نے پی سی ون تیار کرکے ہائر ایجوکیشن کو ارسال کیا ہے لیکن تا حال صوبائی حکومت نے اس کی منظوری نہیں دی ہے۔انہوں نے وزیر ہائر ایجوکیشن سے مطالبہ کیا ھے کہ ضم اضلاع کے طلبہ وطالبات کا سابقہ بند تعلیمی اسکالر شپ فی الفور بحالی کیا جائے اور فاٹا ریفارمز کے تحت کئے گئے تعلیمی اسکالر شپس کے وعدوں کو بھی عملی بنایا جائے تاکہ قبائلی اضلاع کے طلبہ کو ان کا حق مل سکے۔

Facebook Comments