شمالی وزیر ستان سے تعلق رکھنے والے میرانشاہ بازار کے لینڈ لاس کمیٹی نے مسمار دکانوں کا معاوضہ نہ ملنے کیخلاف پشاور پریس کلب سے خیبرپختونخوا اسمبلی تک ریلی اور احتجاجی دھرنا۔

دھرنا شرکاء نے مطالبات منوانے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

0 139

پشاور(سٹی رپورٹر)شمالی وزیر ستان سے تعلق رکھنے والے میرانشاہ بازار کے لینڈ لاس کمیٹی نے مسمار دکانوں کا معاوضہ نہ ملنے کیخلاف پشاور پریس کلب سے خیبرپختونخوا اسمبلی تک ریلی نکالتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دے دیاجبکہ دھرنا شرکاء نے مطالبات منوانے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اسلام آباد کا رخ کر لیں گے ، گزشتہ روز شمالی وزیر ستان سے تعلق رکھنے والے میرانشاہ بازار کے لینڈ لاس کمیٹی کے زیر اہتمام آپریشن ضرب غضب کے دوران تباہ ہونے والے دکانوں کے مالکان نے مسمار دکانوں کا معاوضہ نہ ملنے کیخلاف صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دے دیا ، اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی سردار حسین بابک ،ممبر صوبائی اسمبلی امیر کلام ،اور ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی اپریشن سے متاثر دکانداروں کیساتھ اظہار یکجہتی کے لئے دھرنا میں شرکت کی ،دھرنا شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ممبران صوبائی و قومی اسمبلی سمیت میرانشاہ بازار کے لینڈ لاس کمیٹی کے صدر ملک جمال الدین اور سحی الرحمان نے کہا کہ آپریشن کے دوران انکا اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ انکو ابھی تک کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ سرکاری کمیٹی نے تباہ شدہ دکانوں کی زمین کی فی مرلہ 45لاکھ روپے معاوضہ دینے کی رپورٹ تیار کی تھی مگر ابھی تک انہیں ایک پائی بھی نہیں ملی انہوں نے حکومت سے دکانداروں کو سرکاری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے حکم پر قائم کمیٹی نے زمین کی جو قیمت مقرر کی ہے حکومت اس پر عمل کریں اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم این محسن داوڑ نے کہا کہ دکانداروں کے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے مگر حکومت ٹھس سے مس نہیں ہو رہی حکومت دہشت گردی سے متاثرہ علاقہ کے رہائشیوں کو سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کاخاتمہ چاہتے ہیں اگرحکومت نے انکے مسائل کا حل نہیں نکالا تو مجبوا وزیر اعلی خیبر پختونخوا ہائوس کے ساتھ ساتھ بنی گالہ کے سامنے دھرنا دینے سے گریز نہیں کریں گے۔اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی سردار حسین بابک اور امیر کلام نے کہا کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ہرجگہ پر پختون کا استحصال ہو رہا ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی عدم دلچسپی کے ملکی مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث خیبر پختونخوا کے لوگ حقوق کے حسول کے لئے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں انہوں نے حکومت سے فوری طور آپریشن ضرب غضب کے دوران تباہ شدہ دکانوں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت قیمتی زمین کا اچھا خاصہ معاوضہ ادا کرے اور حکومت وعدے کے مطابق چیکس دیں،مقررین نے کہا کہ قبائل بہت پرامن لوگ ہیں لیکن اب ہمارے حوصلے ختم ہورہے ہیں ہم نے ہمیشہ ملک کی خاطر قربانیاں دی ہیں مگر قربانیوں کا بدلہ آج ہمیں محرومیوں میں دیا جارہا ہے آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ایک ایک شخص کا کروڑوں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے مگراس کے باوجود بھی نقصان کا معاوضہ نہیں دیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ سروے سے ہمارے سینکڑوں خاندان رہ چکے ہیں جن کو سروے کی فہرست میں شامل کئے جائیں انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ہمیں مسمار گھروں اور دکانات کا معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے ہماری احتجاجی تحریک جار ی رہے گی ۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی سردار حسین بابک نے اس حوالے سے صوبائی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔

Facebook Comments