سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کے نئی راہیں کھلیں گی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

0 51

سلام(چنگیز خان جدون ) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ سی پیک پاکستان خصوصاََ گلگت بلتستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کے نئی راہیں کھلیں گی۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کے اعتبارسے ہمارے شمالی علاقے خصوصاََ گلگت بلتستان دنیا کی توجہ کا مرکز ہے اور ٍگلگت بلتستان میں سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے ذریعے ہم علاقائی پسماندگی اور بے روزگاری پر قابو پا سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلگت بلتستان کے اسمبلی کے اسپیکر فدد محمد نوشاد کے ساتھ منگل کے روز پارلیمنٹ ہاو¿س میں ہونے والی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ ملاقات میں گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں سمیت قانون سازی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گا۔اسپیکر نے کہا کہ ملک معاشی مسائل کا شکار تھاجس سے نبرد و¿آزما ہونے کے لیے موجودہ حکومت نے مشکل فیصلے کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو خستہ حال معیشت ورثے میں ملی جسے بہتر کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی مسائل کے حامل معاملات پر قانون سازی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت نے خطے میں خوف ناک انسانی المیہ جنم لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے فوری حل کے لیے قدامات کرے۔اسپیکر گلگت بلتستان فدد محمد نوشاد نے اسپیکر قومی اسمبلی کا گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی کاموں میں اور سیاحت کے فروغ پر گہر ی دلچسپی لینے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین کے مابین رابطوں کے فروغ سے علاقے کے مسائل حل کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے مسائل پر خصوصی توجہ دے۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین میں راوبط سے قانون سازی اور تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔اسپیکر گلگت بلتستان نے کہا کہ موجودہ حکومت کے معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات قابل ستائش ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو نام نہاد بھارتی جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الااقوامی برادری اور اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے بوسنیا کے پاکستان میں سفیر ثاقب فورک نے ملاقات کی۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اسپیکر نے کہا کہ پاکستان بوسنیا کے ساتھ اپنے پارلیمانی تعلقات کوبڑی اہمیت دیتا ہے اور پارلیمانی روابط کومزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین کاروباری شعبوں میں وسعت آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت معاشی ترقی کے حصول کے لیے بوسنیا کے ساتھ تجارت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں ترقی اور خوشحالی ا?ئے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی اعتبار سے تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں ترقی اور خوشحالی کے لیے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان تمام تر تنازعات کا بات چیت کے ذریعے حل کو خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو سے کشمیر عوام شدید اذیت میں مبتلا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے کومقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔بوسنیا کے سفیر ثاقب فورک نے پاکستان کے بوسنیا کے ساتھ خوشگور تعلقات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بوسنیا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی قدر کے نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بوسنین پارلیمنٹ پاکستان کے ساتھ پارلیمانی تعلقات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوسنیا میں بے پناہ معاشی مواقع موجودہ ہیں جس سے پاکستانی سرمایہ کار استفادہ حاصل کر سکتےہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی خام مال سے تیار شدہ مصنوعات یورپی منڈیوں میں فروخت کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں جسے دنیا فرموش نہیں کر سکتی۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں177 دنوں سے جاری بھارتی محاسرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ بوسنیا مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کے لیے اپنی سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

Facebook Comments