سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس و ٹیکسٹائل کا اجلاس

0 118

اسلام آباد(اقراءلیاقت )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس و ٹیکسٹائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاو¿س میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں جغرافیائی اشارے (رجسٹریشن اور تحفظ) بل 2019ئ کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو چیئرمین ا نٹولیکچوئل پراپرٹی ارگنائزیشن (آئی پی او) کے چیئرمین نے بل کے اغراض و مقاصداور بل کی شق وائز تفصیلات بارے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس بل کا مقصد پاکستان کے جغرافیائی اشارات کی رجسٹریشن، انتظام اور تحفظ کرنا ہے جس میں جغرافیائی اشارات کا طریقہ کار، رجسٹریشن، منظوری اور حقوق تخلیقی ملکیت کے تحفظ کے لئے مجوزہ طریقہ کار کو چلانے والے اور مصنوعات کے صارفین جو جغرافیائی اشارے کی حامل ہیں کو موثر بنانا ہے۔ یہ بل دیہی علاقوں کے روایتی علم اور تخلیقی مہارتوں کے استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گا تا کہ ان کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کئے جاسکیں۔ مقامی روزگار کے مواقع کی فراہمی کے ساتھ تمام مقامی اسٹیک ہولڈرز کو شامل کر کے نظام میں شامل کرنا ہے۔ یہ بل دیہی نقل مکانی کے مسئلے کا تدارک بھی کرے گا اور پیداواری سائیکل کے بنانے اور اسے برقرار رکھنے کے قابل بھی بنائے گا اور اس سے معیاری مصنوعات کے نیٹ ورک کو قائم رکھا جائے گا۔ اس بل کی بدولت تجارتی اور کاروباری ماحول کی فراہمی میسر ہو گی اور ملک کی ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس بل کے 12باب (چیپٹرز)ہیں کمیٹی کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی تجارتی قوانین کیلئے یہ بل انتہائی ضروری ہے جس کے ذریعے کسی بھی ملک کی اپنی پیدا ہونے والی چیزوں کو قانون سازی کے ذریعے تحفظ ملتا ہے۔ انڈیا نے 1989کو اپنا قانون پاس کر لیا تھا پاکستان میں اس بل کا پہلی با ر 2005میں ڈرافٹ بنایا گیا تھا۔پاکستان اور انڈیا میں بے شمار چیزیں ملتی جلتی ہیں اور انڈیا 361اقسام کی اجناس پر کلیم کرتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 121ممالک نے اس قانون کو اختیار کر رکھا ہے۔ بیٹرن کے قانون میں ترمیم تیار کر لی ہے عوام کے کمنٹس کے بعد قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں کاپی رائٹس کا قانون 1962میں بنایا گیا تھا اسکو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور کاپی رائٹس قانون کی سٹڈی کر کے نیا ڈرافٹ تیار کیا جا رہا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں اس بل کا تفصیل سے جائزہ لیا تھا کافی عر صہ تک قانون التوائ کا شکار رہا ہے اس بل کے پاس ہونے سے پاکستان کی ایکسپورٹ میں نمایاں بہتری ہو گی۔ منوفیکچرنگ،زراعت سمیت دیگر شعبے بھی نمایاں مستفید ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تغیرات کو مد نظر رکھتے ہوئے ادارہ اس حوالے سے بھی تجاویز تیار کرے۔ سینیٹر زدلاور خان، خوش بخت شجاعت اور امام الدین شوقین نے کہا کہ پاکستان کے مختلف ممالک میں سفارتخا نے قائم ہیں مگر کمرشل اتاشیوں کی ایکسپورٹ کے فروغ میں کارکردگی اتنی موثر نہیں ہے جتنی ہونی چاہئے۔سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سفارتخانوں میں تعینات عملے کی کارکردگی کا جائزہ لے سکے۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے آئند ہ اجلاس کے ایجنڈے میں یہ معاملات شامل ہیں تب تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے بل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تین ترامیم کے ساتھ بل کو متفقہ طور پر ہاو¿س کو پاس کرنے کیلئے ریفر کر دیا۔
کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز دلاور خان، ڈاکٹر غوث محمدخان نیازی، نزہت صادق، خوش بخت شجاعت، امام الدین شوقین اور ذیشان خانزادہ کے علاو ہ چیئرمین آئی پی او اور جوائنٹ سیکرٹری وزارت کامرس اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
*******

Facebook Comments