سپریم کورٹ کا خیبر پختونخوامیں سپیشل سیکرٹری کا عہدہ تخلیق کرنے کا نوٹس

0 104

اسلام آباد(بیورو رپورٹ): سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا میں سپیشل سیکرٹری کا عہدہ تخلیق کرنے کا نوٹس لے کرچیف سیکرٹری، صوبائی سیکرٹری قانون اورایڈووکیٹ جنرل سے جواب طلب کرلیا ہے عدالت نے کہا ہے کہ بتایا جائے کتنے محکموں میں سپیشل سیکرٹری کا عہدہ قائم کیا گیا ہے، عدالت نے سپیشل سیکرٹری کا عہدہ قائم کرنے کی سمری بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے،
جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں دور رکنی بینچ نے نوٹس فوجداری مقدمہ میں درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران لیا ، عدالت کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ ضمانت کے ہر کیس میں ٹرائل کورٹ سے ریکارڈ کیوں مانگتی ہے؟ کیس ریکارڈ ہائی کورٹ میں ہونے سے ٹرائل رک جاتا ہے، سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ریکارڈ منگوانے کے معاملے کا جائزہ لیں، توقع ہے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ججز کو مناسب ہدایات جاری کرینگے،
جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیاکہ کیا رولز آف بزنس میں سپیشل سیکرٹری کا عہدہ ہے؟ ائیڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ قواعد( رولز) میں سپیشل سیکرٹری کا کوئی عہدہ نہیں،جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ من پسند افسران کو نوازنے کیلئے سپیشل سیکرٹری کا عہدہ تخلیق کیا گیا، کیا کے پی کے کو قانو ن کے بجائے اپنی مرضی پر چلایا جا رہا ہے؟
پاکستان میں کوئی بھی قانون پر نہیں چلتا، جسٹس فائز عیسی نے کہاکہ گولڈن، پلاٹینم اور سلور سیکرٹریز کے عہدے بھی بنا لیں، صوبائی حکومت کے پاس سپیشل سیکرٹری کا عہدہ قائم کرنے کا اختیار نہیں، کے پی حکومت اپنے ہی قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہے،جسٹس فائز عیسی نے بھاری بھرکم کابینہ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سے کہاکہ کیا آپکو معلوم ہے پاکستان کی پہلی کابینہ میں کتنے وزرا تھے ؟
ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ پہلی کابینہ چار سے پانچ وزرا پر مشتمل تھی، جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کے پی کے میں آج کی کابینہ میں وزرا کی تعداد دیکھ لیں کتنی ہے؟، جسٹس فائز عیسی کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں کیس کا ریکارڈ صرف اس وقت منگوایا جاتا ہے جب کسی دستاویز کی تصدیق کرنی ہو، اس دوران وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم خالد زمان پر قتل کے کیس میں اسلحہ فراہم کرنے کا الزام تھا، بعدازاں عدالت نے درخواست ضمانت واپس لینے پر خارج کر دی ملزم کیخلاف کرک کے علاقہ تخت نصرتی میں مقدمہ درج ہے۔

Facebook Comments