خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے ویکٹم سپورٹ سروسز کا آغاز۔

0 136

پشاور(جنرل رپورٹ): آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں ایک تقریب منعقد ہوئی جسمیں خیبر پختونخوا پولیس فورس کی جانب سے خواتین اور بچوں پر تشدد کی روک تھام اور موثر سدباب کو یقینی بنانے کے لیے ویکٹم سپورٹ سروسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی ، ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈ کوارٹرز ڈاکٹر اشتیاق مروت، ڈی آئی جی آپریشنز کاشف عالم ، چیف کیپٹل سٹی پولیس پشاور محمد علی گنڈا پور، ریجنل پولیس آفیسر مردان شیر اکبر خان اور جسٹس سسٹم سپورٹ پروگرام کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں تقریب میں شرکت کی۔ واضح رہے کہ اس قسم کی خدمات پولیس کو صوبے میں تشدد کا شکار خواتین اور بچوں کو پیشہ ورانہ انداز میں بروقت تعاون پہنچانے کے قابل بناسکے گی۔ ویکٹم سپورٹ سروسز کو بطور پائلیٹ پراجیکٹ پشاور، چارسدہ، مردان ، ایبٹ آباد اور سوات میں متعارف کرایا گیا ہے ۔ بعد ازاں اسکا دائرہ صوبے کے دیگر اضلاع تک بڑھایا جائیگا۔ خواتین پولیس آفیسرز جن کو باقاعدہ تربیت فراہم کر دی گئی ہیں وہ معاشرے کے غیر محفوظ طبقات بالخصوص خواتین اور بچوں کو تعاون فراہم کریں گی۔ اس اقدام سے اس قسم کے جرائم سے نمٹنے میں پولیس کی کارکردگی میں مزید بہتری آئیگی۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے اس موقع پر کامیابی سے تربیت مکمل کرنے والی 20خواتین پولیس اہلکاروں میں سرٹیفیکٹس بھی تقسیم کئے۔

خیبر پختونخوا پولیس 29 نئے ویکٹم سپورٹ آفیسرز بھی بھرتی کرے گی۔ اس مقصد کے لیے آئی جی پی نے ضروری ہدایات جاری کر دیں۔ خیبر پختونخوا پولیس کا ایک بہت اہم اقدام ہے جس سے تشدد اور زیادتی کے شکار خواتین اور بچوں کو فوری انصاف کی فراہم کو یقینی بنایا جائے گا۔ اور اس قسم کے جرائم میں سزایابی کی شرح بڑھ کر قانون کی حکمرانی کی راہ ہموار ہو جائیگی۔
واضح رہے کہ بچے معاشرے کا سب سے غیر محفوظ طبقہ تصور کیا جاتا ہے۔ اور بچوں پر تشدد کے مقدمات کی تفتیش سب سے پیچیدہ ہوتی ہے۔ جس کے لیے خصوصی مہارت اور تربیت درکار ہوتی ہے۔ آئی جی پی نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خواتین اور بچوں پر ہونے والے تشدد اور زیادتی کے کیسز سے تفتیش کاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائیگی۔ آئی جی پی نے ویکٹم سپورٹ سروسز کا دائرہ کار ضم شدہ اضلاع میں بڑھانے پر خصوصی توجہ دینے کا کہا اور یہ کہ ضم شدہ اضلاع کی باسیوں کو اکثر ان حادثات سے گزرنا پڑتا ہے۔ بچوں کے مسائل سے متعلق ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کوئی بھی ایک ادارہ اکیلے بچوں پر تشدد کی روک تھام کو یقینی نہیں بناسکتا بلکہ اس کی روک تھام کو اجتماعی کوششوں سے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ آئی جی پی نے اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ حکام سے ملکر کام کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

Facebook Comments