خیبرپختونخواہ پولیس میں ڈی آئی جیز کی پوسٹنگ میں تعطل کیوں؟

0 149

پشاور(جنرل رپورٹ)آئی جی پولیس کی تعیناتی کے بعد دو ڈی آئی جیز کو نیب کو رضاکارانہ رقم واپسی پر ہٹانے کے بعد ہزارہ رینج اور ٹیلی میں نئے ڈی آئی جیز کی تعیناتی نہ ہو سکی۔ سنٹرل پولیس آفس میں ایک اعلی افسر کے بقول نئے آئی جی پولیس نے تعیناتی میں میرٹ، سنیارٹی اور یکساں مواقع کے اصول وضع کیئے ہیں جس کی وجہ سے تعیناتیوں میں کچھ دیر لگ رہی ہے۔ دوسری طرف ہٹائے جانے والے ڈی آئی جیز کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کو ناکردہ گناہ کی سزا مل رہی ہے اور نیب خود ایک استحصالی اور دھوکہ باز ادارہ ہے جس نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ نیب ذرائع نے کومنٹس دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے قانون اور قاعدے کے مطابق افسران سے ریکوری کی ہے اور رضاکارانہ واپسی (VR) اور پلی بارگین کے بارے میں سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے۔ اگر قومی اسمبلی نے دونوں کو ایک جرم قرار دیا ہے یا سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا تو پھر بہت سارے افسران کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر دفاع نے ان میں سے ایک ڈی آئی جی کا تبادلہ منسوخ کرنے کے لیئے سفارش کی ہے تاہم سنٹرل پولیس آفس کے ترجمان کے مطابق نئے آئی جی پر اس قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور وزیراعظم اور وزیراعلی پختونخواہ نے آئی جی پی کو فری ہینڈ دیا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ ہٹائے جانے والے ڈی آئی جیز کو پرویز خٹک کی صوبائی حکومت میں صوبے میں آنے سے روکا گیا تھا۔ اس لیئے ان کی موجودہ سفارش خود ان کی اپنی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔ سنٹرل پولیس آفس کے ایک اہم عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے پاس ایسے سینئر موسٹ، محنتی اور قابل افسران موجود ہیں جنہوں نے کوئی رینج نہیں کیا جبکہ بعض ڈی آئی جیز نے ایک ایک، بعض نے دو دو اور بعض نے تین اور چار چار دفعہ فیلڈ پوسٹنگ کی ہے۔ جن افسران نے دو یا دو سے زائد رینج اور ضلع کیئے ہیں ان کی مدت بھی پانچ پانچ اور چھ چھ سال سے زائد تعیناتی ہے۔ خیبرپختونخواہ پولیس میں یہ امتیازی سلوک، اقرباء پروری اور گروپینگ کا نتیجہ ہے کہ افسران بددل ہو چکے ہیں اور پشاور جیسے اہم شہر سمیت جرائم بھی ذیادہ ہیں اور اسلحہ اسکینڈل اور پولیو اسکینڈل جیسے واقعات بھی ذیادہ ہیں۔

Facebook Comments