بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی

دیویندر سنگھ پر آئی ایس آئی سے تعلقات کا الزام

0 152

دہلی، (ساوتھ ایشین وائر) بھارت نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے گرفتار بھارتی پولیس افسر کے آئی ایس آئی کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کیا ہے۔
ایجنسیوں نے کہا ہے کہ معطل ڈی ایس پی دیویندر سنگھ 2019 میں تین بار بنگلہ دیش گئے اور وہ کئی دن وہاں رہے ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں بنگلہ دیش میں پڑھائی کر رہی ہیں لیکن سیکیورٹی ایجنسز کو خدشہ ہے کہ اس کے دورے کا اصل مقصد آئی ایس آئی کے ساتھ تعلقات ہو سکتا ہے۔
قومی تفتیشی ایجنسی نے دیویندر سنگھ کے خلاف باضابطہ طور پر مقدمہ درج کیا ہے اور آئی ایس آئی کے ساتھ مبینہ طور پر ان کے تعلقات ہونے کے متعلق ایجنسی تحقیقات کرے گی۔ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کو 11 جنوری کو حزب المجاہدین کے کمانڈر نوید بابو، عاطف نامی عسکریت پسند اور وکیل عرفان میر کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ یہ چاروں افراد جموں کی طرف جا رہے تھے اور ان کی تحویل سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔بھارتی وزارت داخلہ سے احکامات موصول ہونے کے بعد این آئی اے نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جموں و کشمیر پولیس اور دیگر ایجنسیز نے دیویندر سنگھ کے بینک اکاونٹس کو چیک کیا ہے، اورایجنسیوں نے ابھی تک ان کے گھر سے 7.5 لاکھ روپے بر آمد کئے ۔ ایجنسیوں کے الزام کے مطابق 1990 میں دیویندر سنگھ نے مبینہ طور پر پاکستانی عسکریت پسند محمد کو کشمیر سے نئی دہلی تک پہنچانے کے لیے مدد کی تھی۔ محمد 2001 میں ہوئے پارلیمنٹ حملے میں ملوث تھا ۔
ذرائع نے بتایا کہ دیویندر سنگھ نے مبینہ طور پر چار کشمیری عسکریت پسندوں کی مدد کی تھی، جنہیں یکم جولائی 2005 کو دہلی – گروگرام سرحد پر اسلحہ اور جعلی کرنسی سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔
گرفتار شدہ عسکریت پسندوں میں سے ایک کی شناخت غلام معین الدین ڈار کے طور پر ہوئی تھی۔ ان کی تحویل سے ایک وائرلس سیٹ، ایک پستول اور ایک خط بر آمد کیا گیا تھا۔
ایجنسیوں کی طرف سے الزام لگایا جارہا ہے کہ خط پر دیویندر سنگھ کے دستخط تھے اور تفتیشی ایجنسی نے وائرلیس ہینڈسیٹ، پستول اور خط کو فارینزک جانچ کے لیے بھیجا ہے کیونکہ یہ خط جموں و کشمیر کے پولیس کے لیٹر ہیڈ پر ٹائپ کیا گیا تھا اور اس پر دیویندر سنگھ نے دستخط کیے تھے۔ دیویندر سنگھ اس وقت کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی)میں بطور ڈی ایس پی اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔پارلیمنٹ حملے میں ملوث افضل گورو کے خط کو فارینزک جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے۔ افضل گورو نے ایک خط کے ذریعے دعوی کیا تھا کہ مذکورہ پولیس افسر نے انہیں پارلیمنٹ حملے کے لیے دہلی پہچانے اور وہاں رہنے کے انتظام کرنے کی بات کی تھی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق افضل گورو اس وقت جیل میں مقید تھے جب انہوں نے اپنے وکیل سشیل کمار کو خط کے ذریعے بتایا تھا کہ دیویندر سنگھ نے انہیں ایک عسکریت پسند کو دہلی منتقل کرنے اور اس کے لیے رہائش کا انتظام کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہیں دیویندر سنگھ جموں و کشمیر کے اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہمہامہ کیمپ میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔
ایجنسیوں نے الزام لگایا ہے کہ دیویندر سنگھ کی رہائش گاہ سے اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ ساتھ نقشہ بر آمد کیا گیا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ کسی بڑی سازش میں ملوث ہیں۔

Facebook Comments