بھارت مخالف سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لینے کی شرط پر50 سیاسی رہنما رہا کر دیے گئے

0 113

سری نگر(صباح نیوز): جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون اور پی ڈی پی کے رہنما وحید الرحمن پرہے سمیت پچاس بھارت نواز سیاسی رہنماوں کو کسی بھارت مخالف سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لینے کی شرط پر رہا کر دیا گیا ہے ۔
امریکی نشریاتی اداے کے مطابق چھہ ماہ پہلے حراست میں لیے گیے سیاسی لیڈروں اور کارکنوں میں سے تقریبا پچاس کو پچھلے چند ہفتوں کے دوران الگ الگ تاریخوں پر رہا کیا گیا۔ سرینگر کے ایم ایل ایز ہوسٹل سے رہائی پانے والوں میں سابق صوبائی وزیر اور جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون اور پی ڈی پی کے یوتھ لیڈر وحید الرحمن پرہ بھی شامل ہیں۔ تاہم، ان دونوں کو بدھ کے روز پولیس کی طرف سے ایم ایل ایز ہوسٹل سے ان کی سرکاری رہائش گاہوں میں منتقل کرنے کے فورا بعد خانہ نظر بند کر دیا گیا۔
وی او اے کے مطابق رہائی پانے والوں میں شامل کئی افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایسے بانڈس پر دستخط کیے ہیں جن میں کسی ایسی سیاسی یا کسی دوسری نوعیت کی سرگرمی میں حصہ نہ لینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جو حکومت کے نزدیک غیر پسندیدہ ہے یا جس سے امن و امان میں رخنہ پڑنے کا احتمال ہو۔ ادھر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شاہد اقبال چوہدری نے سابق وزرائے اعلی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت نظر بند کرنے کے حکم ناموں پر دستخط کیے۔
اس سے پہلے بھارتی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ نئی دہلی میں وزارتِ داخلہ نے ان لیڈروں کو اس قانون کے تحت قید کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔محبوبہ مفتی جو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر ہیں اس وقت سرینگر کے مولانا آزاد روڑ کے علاقے میں واقع سرکاری بنگلہ نمبر 5 اور عمر عبداللہ جو جموں و کشمیر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے نائب صدر ہیں شہر کے گپکار روڑ علاقے میں واقع سرکاری گیسٹ ہاس ‘ہری نواس’ میں قید ہیں۔
ان دونوں جگہوں کو حکام نے عارضی جیلوں میں بدل دیا ہے۔اس سے پہلے بدھ کی رات کو سابق صوبائی وزیر اور نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر اور پی ڈی پی کے سابق سینئر نائب صدر محمد سرتاج مدنی کو بھی پی ایس اے کے تحت نظر بند کرنے کے بعد سرینگر کے ایم ایل ایز ہوسٹل سے گپکار روڑ پر واقع ایک ‘سبسڈری جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ سرتاج مدنی محبوبہ مفتی کے ماموں ہیں اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہ چکے ہیں۔، ساگر اور مدنی کے لیے جاری کردہ احکامات میں اور باتوں کے علاوہ کہا گیا ہے کہ وہ مختلف امور پر عوام کو جمع کرنے اور انہیں آواز اٹھانے پر آمادہ کرنے کی صلاحیت اور دسترس رکھتے ہیں۔2009 میں بھارت کے سول سروسز امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے کشمیری ڈاکٹر شاہ فیصل کو بھی پی ایس اے کے تحت نظر بند کیے جانے کی اطلاع ہے
شاہ فیصل نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ میں کئی اعلی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد جنوری 2019 میں سرکاری ملازمت سیاستعفی دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ بھارتی زیرِ انتظام میں بلا تخفیف ہلاکتوں اور بھارت میں آباد بیس کروڑ مسلمانوں کو غیر اہم بنانے اور گمنانی کی طرف دھکیلنے نیز انہیں مبینہ طور پر بنیاد پرست ہندتوا طاقتوں کی طرف سے عملا دوسرے درجے کے شہری بنانے کے خلاف انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس یا آئی اے ایس سے مستعفی ہوئے ہیں۔ بعد میں انہوں نے باضابطہ طور پر عملی سیاست میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جموں و کشمیر پیپلز مومنٹ نام سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی تھی۔ان لیڈروں کو ان اطلاعات کے بیچ پی ایس اے کے تحت نظر بند کر دیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر کے ایسے غیر لچک دار سیاست دانوں اور کارکنوں کے خلاف سخت رویہ اپنا رہی ہے جو اس کی طرف سے 5 اگست 2019 کو اٹھائے گیے متنازع اقدامات کے خلاف اپنے موقف میں تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں ہیں
اس سے پہلے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو جموں و کشمیر کی آئینی نیم خود مختاری کو ختم اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے پر پی ایس اے کے تحت نظر بند کیا گیا تھا۔ 83 سالہ فاروق عبداللہ جو ریاست کے تین بار وزیر اعلی رہ چکے ہیں اور اس وقت بھارتی پارلیمنٹ کے ممبر ہیں 5 اگست 2019 سے سرینگر کے گپکار روڑ پر واقع اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ 14 ستمبر کو انہیں باضابطہ طور پر پی ایس اے کے تحت تین ماہ تک نظر بند کرنے کے احکامات صادر کیے گیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی رہائش گاہ کو ‘سبسڈری جیل’ قرار دیدیا گیا۔ دسمبر میں ان کی نظر بندی میں تین ماہ کی توسیع کی گئی۔5 اگست 2019 کو یا اس کے فورا بعد جن کشمیری سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کو باضابطہ طور پر پی ایس اے یا دوسرے قوانین کیتحت نظر بند کرنے کے احکامات صادر کیے گیے ان میں سے کئی ایک کو بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ پولیس نے چار ہزار کے قریب ایسے افراد کو بھی حراست میں لے لیا تھا، جن کے بارے میں اس کا دعوی تھا کہ وہ امن و امان میں رخنہ ڈال رہے تھے یا ایسا کرسکتے تھے۔ تاہم، عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر کو اب رہا کیا جا چکا ہے۔

Facebook Comments