بھارتی کی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے پیرکو مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں کے درگڈ ترکہ، وانگام اور پنجورہ گاوں میں چھاپے

0 85

ساوتھ ایشین( وائرل): بھارتی کی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے پیرکو مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں کے درگڈ ترکہ، وانگام اور پنجورہ گاوں میں چھاپے مارے ۔
علاوہ ازیں ہندواڑہ کے علاقے جگرپورہ میں ایک مقامی شخص جاوید احمد ڈار کے گھر پر چھاپہ مارگیا۔ ایجنسی نے ان کی تحویل سے 2 موبائل فونز، ایک لیپ ٹاپ اور گاڑی کے کاغذات ضبط کیے ہیں۔ جاوید احمد ڈار پاور ڈیولیپمنٹ ڈپارٹمنٹ میں ملازم ہیں۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق این آئی اے نے اتوار کی صبح سے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاںکے کئی علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں انجام دیں جو دوسرے روز بھی جاری رہیں۔این آئی اے نے زیادہ تر چھاپے عسکریت پسندوں کے گھروں پر مارے ۔ اس دوران کچھ کاغذات، بینک پاس بک اور موبائل فونز ضبط کیے گئے ۔
این آئی اے نے ضلع کے نازنین پورہ علاقے میں حزب المجاہدین کے نوید بابو کے ایک رشتہ دار طاہر احمد شیخ کو بھی حراست میں لیا ہے۔معطل شدہ ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کی ترال میں واقع رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا، جہاں  ان کے والدین رہ رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ترال میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پہلی بار این آئی اے نے چھاپہ مارا ہے۔ اس سے قبل سرینگر میں واقع رہائش گاہ پر بھی متعدد دفعہ چھاپہ مارا گیاہے۔ایجنسی نے ایک حریت پسند عمر دھوبی کے بھائی فیضان دھوبی کو حراست میں لیا ہے۔
اس کے علاوہ اور ایک شہید نوجوان شمس الحق کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا۔
شمس الحق کو سکیورٹی فورسز نے جنوری 2019 میں شوپیان کے ہپ شرمال میں ہوئے شہید کیا  تھا۔ ان کے بھائی انعام الحق 2012 کے آئی پی ایس افسر ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق شمس الحق کے گھر پر چھاپے کے دوران ریاض احمد ٹھوکر ولد عبدالغنی ٹھوکر نامی ایک مقامی نوجوان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
11 جنوری کو ضلع کولگام میں سرینگر جموں قومی شاہراہ پر ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کو حزب المجاہدین کے رکن نوید بابو، عاطف اور ایک وکیل عرفان میر کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ یہ جموں کی طرف جا رہے تھے اور ان کے  پاس سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔اس واقعے کے بعد مرکزی وزرات داخلہ نے اس کیس کو این آئی کو سونپ دینے کے احکامات جاری کر دیے تھے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ایجنسی کی ٹیم سرینگر کا دورہ کر کے دیویندر سنگھ سمیت تمام افراد کو جموں منتقل کیا تھا۔دیویندر سنگھ اور گرفتار شدہ حزب المجاہدین کے رکن نوید بابو کا پلوامہ خود کش حملے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
چند روز قبل میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ایجنسی نوید بابو سے 2019 میں ہونے والے پلوامہ حملے کے متعلق پوچھ گچھ کرے گی، جس نے مبینہ طور پر پلوامہ خود کش حملے میں ملوث مدثر خان کی مدد کی تھی۔ ایجنسی نے نوید بابو کے بھائی عرفان شاہ کو بھی گرفتار کیآ

Facebook Comments