برطانوی پارلیمنٹ میں پہلی بار کنزرویٹو پارٹی کی اکثریت نے نریندرا مودی سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند،لاک ڈاون ختم، محصورین کو حق خودارادیت دینے کا مطالبہ

0 18

لندن(انٹر نیشنل رپورٹ) برطانوی پارلیمنٹ میں پہلی بار کنزرویٹو پارٹی کی اکثریت نے نریندرا مودی سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند،لاک ڈاون ختم، محصورین کو حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پہ فیصلہ کن کردار ادا کرنیکا عندیہ دیدیا،یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر تحریک کشمیر برطانیہ کے زیر اہتمام برطانوی پارلیمنٹ میں منعقدہ کشمیر کانفرنس سے مہمان خصوصی صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان اور ممتاز حریت پسند رہنما الطاف احمد بٹ تھے ،الطاف احمد بٹ نے جب محصورین کشمیر اور اپنے پیاروں پہ بیتی بھارتی مظالم کی حقیقی کہانی سنائی اور بھارتی لاک ڈاون کے پیچھے چھپے مزموم عزائم اور نریندر مودی اور اسکے حواریوں امیت شاہ اور اجیت ڈوول کی سازش سے پردہ اٹھایا تو برطانوئ پارلیمنٹ کے اراکین پہ سکتہ طاری ھوگیا اور انکے لہجے نمناک ہوگئے- کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے سردار مسعود احمد خان صدر آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر نے کہا کہ بھارت جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے پاکستان کی جانب سے صبر و تعمل کا مظاہرہ کر رہا ہے پاکستان اور کشمیری عوام مسلہ کشمیر کا پُرامن اور دیر پا حل عالمی معائدوں اور بھارتی وعدوں پر عمل درآمد چاہتے ہیں بھارت کا طرز عمل خطے کے امن کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے انٹرنیشنل کمیونٹی کی اجتماحی ذمداری ہے کہ وہ مداخلت کرئے برطانیہ سکیورٹی کونسل کا مستقل ممبر ہونے کی حثیت سے اپنا موثر کردار ادا کرئے تو مسلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت ہو سکتی ہے گذشتہ چھ ماہ میں بھارت نے جو حالات پیدا کر رکھے ہیں اس پر کسی بھی ملک کا رد عمل سامنے نہیں آیا البتہ مختلف ممالک کے ممبران پارلیمنٹ عوامی سطح پر ان کشیدہ اور سنگین حالات پر آواز بلند کی ہے کہ دنیا میں امن کا تقاضا ہے کہ مسلہ کشمیر کے حل پر توجہ دی جائے۔انہوں نے جموں و کشمیر سالویشن مومنٹ کے صدر الطاف احمد بٹ، تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے جتنی کانفرنسوں میں شرکت کی یہ پہلی بار اتنی بڑی تعداد ۵۰ ممبران پارلیمنٹ کی شرکت سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو تقویت اور بھارت کے خلاف برسرپیکار کشمیریوں اور سفارتی محاذ پر کوشاں کشمیری اور پاکستانی تنظیموں اور کمیونٹی کی حوصلہ افزائی ہوئی ۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض ممبر آف پارلیمنٹ وائس چیرمین آل پارٹیز کشمیر گروپ ین پارلیمنٹ پال بریسٹو نے انجام دیے،حریت پسند کشمیری رہنما اور جموں کشمیر سالویشن موومنٹ کے صدر الطاف احمد بٹ، آ ل پارٹیز کشمیر گروپ کی چیئر پرسن ممبر آف پارلیمنٹ ڈیبی ابرایم، دیگر ممبران پارلیمنٹ سٹیو بیکر، مارکو لونگی۔ افضل خان، یاسمین قریشی ،لارڈ قربان، والری واز،مس فلیپس،ایم خالد مرزا تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب ۔ برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی ۔ ڈاٹر آف کشمیر(کشمیر کی بیٹی) کی چیئر پرسن زبیدہ خان اور بڑی تعداد میں ممبران پارلیمنٹ کونسلرز اور کمیونٹی رہنمائوں نے خطاب کیا، برطانیہ کے الیکشن کے بعد کشمیر پہ یہ پہلی کانفرنس تھی جس میں پچاس کے قریب برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا، اس موقع پہ الطاف احمد بٹ نے کہا کہ بھارت نے گذشتہ چھ ماہ سے کشمیر کو لاک ڈاون کر کے کشمیر ی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا اسکول، کالج، یونیورسٹیز اور ہسپتالوں کو بند کر کے فوج نے قبضہ کر رکھا ،پچانوے سال کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کو گذشتہ دس سال سے گھر میں بند کر رکھا ہے شبیر شاہ، یاسین ملک،آسیہ اندرابی، ڈاکٹر فیاض، اورظفراکبر بٹ کو جیلوں میں بند کر رکھا ہے وہاں پہ ان کی صحت انتہائی خراب ہے۔ الطاف بٹ نے کہا کہ نریندر مودی اور موجودہ بھارتی آرمی چیف نے مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر جنگی ماحول برپا کیا ھوا جو کسی بھی نیوکلیر جنگ کی صورت اختیار کرسکتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دُنیاں کا امن خطرے سےدو چار ھوگا اسلئے دنیاں کے ایوانوں کو اس خطرناک جنگ کو روکنے کیلئے آگے بڈھکر مسلۂ کشمیر کو اقوام متحدہ اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا ھوگا ۔ تاکہ دُنیاں میں امن قائم ھو۔تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ممبران پالیمنٹ کا کانفرس میں شرکت کرنا نریندر مودی کے لیے بڑا واضع پیغام ہے کہ کشمیری عوام آزدی کی جد و جہد میں تنہا نہیں، راجہ فہیم کیانی نے ممبر آف پارلیمنٹ پال برسٹو کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے کانفرنس منعقد کرنے میں تعاون کیا۔

Facebook Comments