آرمینیا کے ہتھیار ڈالنے پر آذربائیجان میں جشن، نگورنو کاراباخ میں روسی فوج تعینات

0 21

ماسکو: آذربائیجان، آرمینیا اور روس کے درمیان متنازعہ علاقے نگورنو کاراباخ پر تنازع کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت آرمینیا تمام علاقوں کو آذربائیجان کے حوالے کردے گا اور وہاں روسی فوج کے دستے بطور ’’پیس میکر‘‘ تعینات کیے جائیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نگورنو کاراباخ پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان 6 ہفتوں سے جاری جھڑپوں میں دو ہزار سے زائد افراد کی ہلاکتوں اور بھاری مالی نقصان کے بعد تنازعے کے حتمی خاتمے کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اس حوالے سے آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشینیان نے فیس بک پر معاہدہ طے پانے اور رات ایک بجے سے عمل درآمد کرنے سے متعلق جذباتی پوسٹ میں لکھا کہ یہ ایک ایسا درد ہے جس کا اظہار ممکن نہیں۔

آرمینیا کے وزیراعظم اپنی شکست پر افسردہ ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ہم نے ہار نہیں مانی ہے۔ ہمیں فتح نہیں ملی لیکن یہ ہمارے قومی اتحاد اور ایک نئے عزم کا موجب بنے گا۔

دوسری جانب آذربائیجان کے وزیراعظم نے اس معاہدے کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آرمینیا کا معاہدے پر اتفاق اور زیر تسلط علاقے واپس کرنا دراصل آذربائیجان کی کامیاب فوجی کارروائی کا نتیجہ ہے۔

آرمینیائی وزیراعظم کی فیس بک پوسٹ کے بعد آذربائیجان اور روس کی جانب سے بھی نگورنو کاراباخ پر معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا گیا۔ یہ معاہدہ آذربائیجان فوج کے دوسری بڑے شہر شوشی سے آرمینیائی فوج کا قبضہ واگزار کرانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

روس کے صدر پوتن نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت یکم دسمبر تک آرمینیا اپنے زیر تسلط آذربائیجان کے علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا۔

اس حوالے سے روس کے وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج کے دستے بطور پیس میکر نگورنو کاراباخ کی سرحدوں پر پانچ سال کے لیے تعینات ہوں گے۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق نگورنو کاراباخ کی جانب 1 ہزار 960 فوجیوں کو روانہ کردیا گیا ہے جن کی تعیناتی نگورنو کاراباخ کی سرحد اور دونوں ممالک کے درمیان کوریڈور پر ہوگی۔

واضح رہے کہ نگورنو کاراباخ کو عالمی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن یہاں اکثریت آرمینیائیوں کی ہے جنہیں روس کی حمایت حاصل ہے۔ آرمینائی قوم پرست نگورنو کاراباخ کی علیحدگی کی مسلح تحریک چلا رہے ہیں۔

Facebook Comments