انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے صوبائی حکومت کو محکمہ پولیس کے شہداء کے بچوں کی بطو ر اے ایس آئی بھرتی کے لیے ایک تفصیلی مراسلہ ارسال

0 127

پشاور(جنرل رپورٹر): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے صوبائی حکومت کو محکمہ پولیس کے شہداء کے بچوں کی بطو ر اے ایس آئی بھرتی کے لیے ایک تفصیلی مراسلہ ارسال کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلی اُمور کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے۔ کہ خیبر پختونخوا پولیس تقریبا گذشتہ دو دہائیوں سے روایتی پولیسنگ کے ساتھ ساتھ بالخصوص دہشت گردی کے خلاف بر سر پیکار رہی ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے 2015 میں پولیس شہداء کے بچوں کے لیے 300 سیٹوں کی منظوری دی تھی۔جس پر ویٹنگ لسٹ میں شامل پولیس شہداء کے بچوں کو بھرتی کیا گیا تھا۔ مراسلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ فی الوقت پولیس شہداء کے بچوں کو بطور اے ایس آئی بھرتی کرنے کے لیے کوئی سیٹ دستیاب نہیں ہے جبکہ پولیس شہداء کے بچوں کی تعداد 198 تک پہنچ چکی ہے۔ جن میں سے بعض نے اپنے حق کیلئے اعلی عدالتوں سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔مراسلے میں پولیس شہداء کے تما م بچوں کو فورس میں بطور اے ایس آئی بھرتی کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ سال 2015 کی طرح پولیس شہداء کے بچوں کے لیے یکمشت 200 آسامیوں کی منظوری دیں یا انہیں پولیس ایکٹ 2017 کے سیکشن 32 کی ذیلی شق (1) تحت پبلک سروس کمیشن کے ذریعے براہ راست بھرتی ہونے والے اے ایس آئیز کے مقرر کردہ کوٹے میں دستیاب سیٹوں پر بھرتی کریں۔ مراسلے میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت پولیس شہداء کے 198 بچوں کو بطور اے ایس آئی بھرتی کرنے کے لیے ان تجاویز کے علاوہ کوئی اور مناسب حل زیر غور لا کر شہداء کے بچوں کی پولیس میں بھرتی کے دیرینہ مطالبے کو پورا کر سکتی ہے۔

Facebook Comments