امریکی صدرمسئلہ کشمیرپرثالثی سے پہلے کشمیریوں کی نسل کشی بند کرائیں،صدرسردارمسعود خان

0 151

اسلام آباد(صباح نیوز) : آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لئے ثالثی سے قبل کشمیریوں کی نسل کشی بند کرانے اور وہاں انسانیت کے خلاف جرائم کو رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان اور جموں وکشمیر کے عوام نے ثالثی سمیت تمام دوسرے پرامن ذرائع سے مسئلہ کشمیر کے حل کی ہمیشہ حمایت کی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ کسی تیسرے فریق کی ثالثی، منصفی یا کسی اور پرامن ذریعہ سے تنازعہ کے حل کی کوشش سلامتی کونسل کی کشمیر کے حوالے سے قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے دفعہ 33کے فریم ورک کے اندر ہونی چاہیے۔
اگر ایسی کوئی کوشش ہوتی ہے تو اسے ہم کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے لئے تقویت کا باعث خیال کریں گے۔ لیکن کسی بین الاقوامی ثالثی کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم بند کرایا جائے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ روکا جائے اور بھارتی حکومت کے کشمیر کے متعلق حالیہ اقدامات کو واپس لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے ثالثی کی کوشش کی کامیابی کے لئے ضروری ہے مسئلہ کشمیر کے تینوں فریق پاکستان، بھارت اور جموں وکشمیر کے عوام کو اس عمل کی حمایت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال میں ثالثی یا بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششوں کے لئے حالات سازگار نہیں اگر امریکہ کے صدر ٹرمپ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل یا کوئی اور عالمی رہنماء مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں حالات سازگار بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے پر مجبور کرے۔
نہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اسی لاکھ آبادی محاصرے میں ہے، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کردیا گیا ہے، خواتین کی آبروریزی ہو رہی ہے۔ تمام حریت پسند قیادت جیلوں میں بند ہے ان حالات میں ثالثی کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے دنیا کے بااثر اور طاقت ور ممالک لا تعلق نہیں رہ سکتے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات اور اپنا عالمی اثر و رسوخ استعمال کر کے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل تطہیر بند کرانے اور ریاست کو بھارت کی کالونی بننے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ دوطرفہ مذاکرات کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کسی صورت میں نہیں ہونے چاہیں کیونکہ بھارت نے ایسے مذاکرات کو ہمیشہ کشمیرپر اپنے ناجائز قبضے کو دوام بخشنے اور کشمیریوں کو دھوکہ دینے کے لئے استعمال کیا اس لئے کشمیری اب بھارت سے مزید کسی قسم کا دھوکہ کھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے کوئی بات چیت یا ثالثی کی کوشش ہو تو مذاکرات کی میز پر کشمیریوں کو بٹھانا ناگزیر ہے کیونکہ وہ مسئلہ کشمیر کے کلیدی فریق ہیں۔

Facebook Comments