امریکا بھی سوویت یونین کی طرح شکست کھا کر افغانستان سے نکل رہا ہے، گلبدین حکمت یار

0 70

اسلام آباد: حزبِ اسلامی کے سربراہ اور افغانستان کے سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے طالبان کے ساتھ جلد مذاکرات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔

انسٹیٹوٹ آف پالیسیز اسٹڈیز میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ تحفظات کے باوجود امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔ امریکا نے افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

سربراہ حزب اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو افغانستان میں شکست ہوچکی ہے القاعدہ صرف ایک بہانہ تھا اور وہ کب کے ختم ہوچکے ہیں مگر امریکا افغانستان میں موجود رہا اور اب سوویت یونین کی طرح شکست کھا کر افغانستان سے نکل رہا ہے۔ امریکی خود تسلیم کرتے ہیں کہ کابل حکومت ناکام ہے۔

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ امریکا کے انخلاء کے بعد کابل حکومت کے رہنے کا کوئی امکان نہیں اسلامی قوانین کے مطابق جنہوں نے دہائیوں تک جہاد کیا وہ حکومت کے حقدار ہیں۔ بھارت اور ایران اشرف غنی حکومت کی حمایت کرتے ہیں مگر افغانستان میں جنگ نہ تو بھارت اور نہ کسی اور کے مفاد میں ہے.

سربراہ حزب اسلامی نے مزید کہا کہ اب افغانستان میں ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرایا جائے گا خوشی ہوگی اگر امریکا یہ سمجھ لے کہ پاکستان ایک قابلِ اعتبار دوست ہے. کشمیر کا مسئلہ مظالم اور بربریت سے حل نہیں ہو سکتا مسئلہ کشمیر بغیر کسی مداخلت کے کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے.

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ افغانوں کو غیر جانبدار مذاکرات کرنے ہوں گے امریکی انخلاء کے بعد اشرف غنی سے دوسری حکومت کو اقتدار کی پرامن منتقلی ہونی چاہیے اگر ایسا نہ ہوا تو نجیب حکومت کا حال سامنے ہے یہ ناممکن ہے کہ مسئلے کا حصہ رہنے والی حکومت موجود رہے اس صورت میں جنگ ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار تین روزہ دورے پیر کے روز پاکستان پہنچے تھے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تھی۔

Facebook Comments