اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ، انڈیا اور پاکستان کی جانب سے متضاد دعوے دونو اپنے اپنے موقف پر ڈاٹے راہے۔

0 153

ایک بار پھر کشمیر کا معاملہ بدھ کو اقوم متحدہ میں زیر بحث ایا جس پر دونو موملک نے اپنا اپنا موقف اختیار کیا ہیے۔
پاکستان کی طرف سے بیان جاری کی گی ہیں کہ
اساجلاس میں اقوام متحدہ کے مبصرین نے صورتحال پر وضاحت پیش کی۔ ’بتایا گیا کہ پانچ اگست سے کشمیر میں انڈیا کے اقدامات سے مقامی صورتحال تناؤ کا شکار ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں کی گئی ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی بندش ہے۔‘
پاکستان کے مطابق ’کئی ممالک نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے جہاں کشمیریوں کے لیے کرفیو ہے اور مزید کشیدگی کا خطرہ ہے۔‘
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق حالیہ اجلاس میں کئی ممالک نے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی جبکہ انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی رکن نے پاکستان کے الزامات پر ان کی حمایت نہیں کی ہے۔
بیان میں پاکستان کی جانب سے کشمیر کے مسئلے کا جائزہ لینے پر سلامتی کونسل کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے
دوسری طرف انڈیا نے کہا ہے کہ کسی نے بھی پاکستان کی حمایت نہی کی۔
ادھر اقوام متحدہ میں انڈیا کے مندوب سید اکبرالدین نے اجلاس کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’آج اقوام متحدہ میں ہمارا پرچم بلند لہرا رہا ہے۔ جھوٹ بولنے کی کوشش کرنے والوں کو بھرپور جواب دیا ہے۔‘
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ: ’پاکستان نے ایک بار پھر یہ مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن کسی نے ان کی حمایت نہیں کی۔ ہمیں خوشی ہے کہ اقوام متحدہ نے پاکستان کی طرف سے عائد کردہ الزامات کو بحث کے قابل نہیں سمجھا۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ پانچ ماہ کے دوران سلامتی کونسل میں چین کی درخواست پر کشمیر کے مسئلے پر دوسرا اجلاس ہے۔ گذشتہ سال اگست کے دوران سلامتی کونسل کے اراکین نے کشمیر کے مسئلے کے پُرامن حل پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اور انڈیا اپنے مسائل باہمی طور پر حل کریں۔

Facebook Comments